تمہیدی گفتگو
حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام اسلامی تاریخ کی پیشانی پر ایک عظیم ترین رہنما اوربہادر ترین جرنیل کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے۔
حضرت عباس علیہ السلام کی شجاعت و بہادری اور ان کے تمام فضائل وکمالات کی مثال ونظیر پوری تاریخ بشریت میں نہیں مل سکتی۔ کربلا کے میدان میں حضرت عباس علیہ السلام نے جس عزم وحوصلہ ، شجاعت وبہادری اور ثابت قد می کا مظاہرہ کیا اس کو بیان کرنے کا مکمل حق ادا کرنا نہ تو کسی زبان کے لئے ممکن ہے اور نہ ہی کسی قلم میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اسے لکھ سکے۔ جناب عباس علیہ السلام نے اپنے مضبوط ترین ارادہ اور عزم و حوصلہ کے اظہار سے ابن زیاد ملعون کے لشکر کو نفسیاتی طور پر بالکل ایسے ہی بھاگنے پر مجبور کر دیا جیسے انھوں نے میدان جنگ میں تنہا ان ملعونوں کو اپنی تلوار اور شجاعت سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔
آج تک لوگ حضرت عباس علیہ السلام کی بہادری اور شجاعت کو مکمل عقیدت و احترام اور پورے جوش وجذبہ کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ آج تک کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا گیا کہ جو اتنے زیادہ دکھ درد اور غموں سے چور ہونے کے باوجود ہر طرح کے اسلحہ سے لیس ہزاروں فوجیوں پر اکیلا ہی حملہ کر کے انھیں میدان جنگ سے بھاگنے پر مجبور کر دے۔
مؤرخین کہتے ہیں کہ میدان کربلا میں جب بھی حضرت عباس علیہ السلام دشمن کی فوجوں پر حملہ کرتے تو ہر سامنے آنے والا موت کے گھاٹ اترتا اور فوجی خوف اور دہشت سے ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے یوں بھاگتے جیسے سب کو یقین ہو کہ موت ان کے پیچھے آرہی ہے اور ان کی کثرت ان کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتی۔
حضرت عباس علیہ السلام کی شجاعت وبہادری اور ہر فضیلت و کمال فقط مسلمانوں کے لئے باعث فخر نہیں ہے بلکہ ہر وہ انسان جس کے اندر معمولی سی بھی انسانیت ہے وہ جناب عباس علیہ السلام کے فضائل و کمالات پہ ایمان رکھنے پہ فخر محسوس کرتا ہے اور اپنے آپ کو جناب عباس علیہ السلام کا عقیدت مند کہنا اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے۔
حضرت عباس علیہ السلام عظیم ترین صفات اور فضائل کا مظہر تھے شرافت ، شہامت ، وفا ، ایثار اور دلیری کا مجسم نمونہ تھے۔ واقعہ کربلا میں جناب عباس علیہ السلام نے مشکل ترین اور مصائب سے بھرے لمحات میں اپنے آقاومولا امام حسین علیہ السلام پر اپنی جان قربان کی اور مکمل وفا داری کا مظاہرہ کیا اور مصائب کے پہاڑوں کو اپنے اوپر ٹوٹتے ہوئے دیکھا لیکن ان کے عزم وحوصلہ، ثابت قدمی اور وفا میں ذرا برابر بھی فرق نہ پڑا اور یہ ایک یقینی بات ہے کہ جن مصائب کا سامنا جناب عباس علیہ السلام نے کیا ان پر صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا فقط اس کے لئے ہی ممکن ہے کہ جو خدا کا مقرب ترین بندہ ہو اور جس کے دل کو خدا نے ہر امتحان کے لئے مضبوط بنا دیا ہو۔
حضرت عباس علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کی خاطر جتنی بھی قربانیاں دیں وہ اس لئے نہیں تھیں کہ امام حسین علیہ السلام ان کے بھائی ہیں بلکہ حضرت عباس علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کو اپنا حقیقی امام، خدائی نمائندہ اور عین اسلام سمجھتے ہوئے ان کی خاطرتمام تر مصائب و مشکلات کو برداشت کیا اور اپنی جان ان پر قربان کر دی اور اس بات کا انھوں نے کئی بار اظہار بھی کیا اور یہی وجہ ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام جب بھی امام حسین علیہ السلام کو پکارتے یا ان کا ذکر کرتے تو انھیں بھائی کی بجائے اپنا مولاو آقا اور امام کہتے۔ پس ادب کا کوئی ایسا رنگ نہیں جو حضرت عباس علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے حق میں اختیار نہ کیا ہو، کوئی ایسی نیکی نہیں جو انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نہ کی ہو، کوئی ایسی قربانی نہیں کہ جو انہوں نے اپنے آقا امام حسین علیہ السلام کے قدموں پر نچھاور نہ کی ہو۔ جانثاری وفا،اور ایثار کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ بشریت میں نہیں مل سکتی، جب حضرت عباس علیہ السلام نے تن و تنہا ہزاروں کے لشکر پر حملہ کر کے فرات کو دشمن سے خالی کیا تو تین دن کی پیاس اور شدید جنگ کرنے کے باوجود بھی فقط اس لیے پانی نہ پیا کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے بچے اور اہل و عیال پیاسے تھے جناب عباس علیہ السلام کی وفا و غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہل و عیال تو پیاسے ہوں اور وہ پانی پی لیں لہٰذا اپنے آقا اور بچوں کی پیاس کو یاد کرکے بہتے دریا سے پیاسے واپس آئے۔ دنیا کی پوری تاریخ کو ورق ورق چھاننے سے بھی اس طرح کی وفا کی نظیر نہیں مل سکتی کہ جس کا مظاہرہ جناب عباس علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں کیا۔
جناب عباس علیہ السلام نے ان بلند ترین مقاصد اور عظیم ترین اصولوں کی خاطر شہادت کو گلے لگایا کہ جن کی خاطر امام حسین علیہ السلام نے قیام کیا تھا پس جناب عباس علیہ السلام نے انسانیت کی آزادی،عدل و انصاف کے فروغ، لوگوں کی فلاح و بہبود، قرآنی احکام کی نشر و اشاعت اور پوری انسانیت کو ذلت کے گڑھے سے نکال کرعزت و شرف اور سعادت دلانے کے لیے اپنے بھائی و آقا امام حسین علیہ السلام کی طرح شہادت کو اختیار کیا ۔
جناب عباس علیہ السلام نے حریت و آزادی اور کرامت و شرف کی مشعل روشن کی اور عزت و سعادت کے میدان میں اترنے والے شہداء کے قافلوں کی قیادت کی اور ظلم و جور کی چکی میں پسنے والے مسلمانوں کی مدد و نصرت کو اپنا فریضہ سمجھا۔
جناب عباس علیہ السلام پوری انسانیت کے لیے بھیجے گئے خدائی دستور اور زمین کی ترقی کے لائحہ عمل کی خاطر میدانِ جہاد میں اترے۔ پس جناب عباس علیہ السلام نے اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ مل کر ایسا عظیم انقلاب برپا کیا کہ جس کے ذریعے حقیقی اسلام اور بنی امیہ اور سقیفہ کے خود ساختہ اسلام میں فرق واضح ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے اصل وارث کے بارے میں ہر شک و شبہ ختم ہو گیا اور سقیفہ کے بنائے ہوئے ظلم و جور کے قلعے پاش پاش ہو گئے۔
امام حسین علیہ السلام نے کسی ظلم و زیادتی اور فساد کی خاطر قیام نہیں فرمایا تھا بلکہ امام حسین علیہ السلام کا مقصد تمام انسانیت اور خاص طور پر امت مسلمہ کو فلاح و بہبود کی راہ پر گامزن کرنا اور مسلمانوں کو بنی امیہ کی حکومت کے ظلم و ستم اور بربریت سے نجات دلانا تھا۔
معاویہ اور اس کے حرام زادے بھائی زیاد نے مسلمانوں پہ ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی اور اسلام اور شریعت کو کھلواڑ بنا رکھا تھا بے گناہ لوگوں کا قتل، شریف لوگوں پر ظلم و ستم اور مسلمانوں کی عزت و آبرو اور ناموس کی دھجیاں اڑانا بنی امیہ کی حکومت کا معمول بن چکا تھا۔ معاویہ ملعون کے مرنے کے بعد اس کے نجس بیٹے یزید لعین نے تو کھلم کھلا اسلام، شریعت اور رسول خدا کے حق میں جسارت شروع کر دی، حضرت علی علیہ السلام اور خاندان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دینا تو بنی امیہ کے ہر حکمران کے نزدیک باعث شرف سمجھا جاتا تھا۔
کربلا کا سانحہ پوری عالمی تاریخ میں مسلمانوں کے ماتھے پر سیاہ دھبہ ہے کہ جس کی اصل بنیاد سقیفہ اور بنی امیہ ہے۔ اس سانحہ کربلا نے پوری عالمی تاریخ اور خاص طور پر مسلمانوں کے سامنے نئے راستے کھول دیے اور ظلم و ستم اور آمرانہ حکومتوں کے ختم کرنے کے لیے حریت پسندوں میں نئی روح پھونک دی اور ظالموں کے ہر طرح کے اسلحے کو اپنے خون سے شکست دینا سکھایا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کاقیام اور انقلاب اصولوں اور اسلامی نظریات کا انقلاب و قیام تھا امام حسین علیہ السلام خود تو شہید ہو گئے لیکن ان کا برپا کردہ انقلاب قیامت تک کے لیے زندہ ہو گیا، ان کے اصولوں نے نہ جھکنے والے پرچم بلند کر دیے اور ان کے نظریات نے ظالموں کے مقابلے میں نہ ختم ہونے والے سپاہی میدانِ جنگ میں کھڑے کر دیے۔
اس انقلاب نے ظلم و ستم کے خلاف ایسی آگ کے شعلے روشن کیے کہ جس کو نہ کوئی ظالم حکومت بجھا سکی ہے اور نہ بجھا سکے گی، کوئی بھی آمر و جابر ان کربلائی حریت پسندوں کو مٹا سکا ہے نہ مٹا سکے گا۔
اسی طرح اس انقلاب نے دنیا کے سامنے اس بات کو بھی واضح کر دیا کہ اصل اسلام وہ نہیں کہ جو سقیفہ اور بنی امیہ نے تلوار اور ظلم کی طاقت سے پھیلایا ہے بلکہ ان لوگوں کا اسلام اور شریعت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ اصل اسلام وہ ہے جس کی خاطر خانداں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر طرح کی قربانی دی اور اپنے تمام حقوق کو پامال ہوتا برداشت کیا اور جس کو بچانے کے لیے اپنا سب کچھ غصب ہوتا دیکھا اور ہر طرح کے مصائب پر صبر کیا۔
امام حسین علیہ السلام نے ان بناوٹی خلفاء کے چہرے سے نقلی اسلام کا نقاب اتار کر ان کی منافقت اور کفر کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا اور بنی امیہ کی حکومت کے غیر شرعی اور غیر اسلامی ہونے کو اس طرح سے واضح کیا کہ کوئی بھی باشعور شخص ان کے خارج از اسلام ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔
یہ امام حسین علیہ السلام کے برپا کردہ انقلاب کا ہی اثر تھا کہ جس سے بنی امیہ کی حکومت کو ہر علاقہ میں حریت پسندوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ہر صوبے سے بنی امیہ کے خلاف آوازبلند ہوئی اور ایک آگ نے بنی امیہ کی حکومت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
مسلمانوں کو گمراہی کی نیند اور خواب غفلت سے بیدار کرنے اور سقیفہ اور بنی امیہ کے دیے ہوئے نشے کے اثر کو ختم کرنے کے لیے امام حسین علیہ السلام نے ایسا انقلاب برپا کیا کہ جس کا اثر قیامت تک باقی رہے گا۔
اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کربلا میں ہونے والاظلم و ستم اور خاندان رسول پر ڈھائے جانے والے مصائب کے پہاڑ کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا بلکہ اس واقعہ کی بنیاد مسلسل حکمرانوں کی بے اعتدالی تھی اور حکمرانوں کی طرف سے لوگوں پر ظلم و ستم کے ساتھ ساتھ انھیں خاندان رسول سے پروپیگنڈا کے ذریعے سے دور کرنا تھا اور حکمران سرعام اللہ کے رسول اور خاندان رسول پر جسارت کرتے تھے انھیں گالیاں دیتے تھے ان کے حقوق کو غصب کرتے تھے۔ حکمرانوں نے حکومت کو عوام کی خدمت کی بجائے عیش و عشرت کا ذریعہ بنایا ہوا تھا ان کے نزدیک عوام کی حیثیت حیوانوں سے بھی بد تر تھی لہٰذا حکومت نے عوام اور اہل بیت رسول کے اموال کو اپنے لیے حلال سمجھ رکھا تھا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں منافقین نے اسلام کو ختم کرنے اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کے خاندان کو صفحہ ہستی مٹانے کے لیے جونجس بیج بویا تھا اس کا پودا سقیفہ کی صورت میں سامنے آیا اوراس پودے پر بنی امیہ کی حکومت کی صورت پھل لگا اور اس کے اثرات واضح طور پر کربلا کے سانحہ میں نظرآئے۔
امام حسین علیہ السلام کے برپا کر دہ انقلاب میں حضرت عباس علیہ السلام نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا بلکہ علماء کے نزدیک اس پورے انقلاب میں امام حسین علیہ السلام کے بعد سب سے اہم کردار حضرت عباس علیہ السلام کا تھا اور اس پورے سانحہ اور تمام مصائب میں اپنے بھائی و آقا امام حسین علیہ السلام کو لمحہ بھر کے لیے بھی تنہا نہ چھوڑا اور ان کے انقلاب کی کامیابی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ جب تک حضرت عباس علیہ السلام زندہ رہے امام حسین علیہ السلام کی مکمل اطاعت اور فرمانبرداری کرتے تھے اور ان کی مرضی کے خلاف نہ کوئی لفظ منہ سے نکالا اور ذہن کے کسی بھی حصے میں کسی ایسی بات کو جنم نہ لینے دیا کہ جو امام کی مرضی کے خلاف ہو اور اپنی پوری زندگی خدا، رسول اور آئمہ کی مرضی و اطاعت میں گزاری اور اسی اطاعت و ایمان کی بلندی کی وجہ سے ہمارے علماء حضرت عباس علیہ السلام کو معصوم قرار دیتے ہیں۔
نسب مبارک اور ولادت باسعادت
انساب عالم میں حضرت عباس علیہ السلام کے نسب سے بلند و معروف کوئی نسب نہیں ہے اور نہ ہی کسی کا گھرانہ ان کے گھرانے سے افضل و اشرف ہے۔ پس وہ گھرانہ حضرت علی ابن ابی طالب علیھماالسلام کا گھرانہ ہے کہ جس سے بڑھ کر عظیم اور افضل و اشرف گھر بنی نوع انسان نے اپنے کسی بھی دور میں نہیں دیکھا۔ پس یہ حضرت علی علیہ السلام کاہی فضائل وکمالات سے لبریز گھر تھا کہ جس نے عالم اسلام کو فضیلت کے عناصرسے نواز ا اور اسے انسانیت کی فلاح و بہبود اور خیر وبھلائی کی راہ میں قربانی دیناسکھایا اور عمومی طور پر حیات بشری کو ایمان اور تقویٰ کی روح عطا کی۔ یہ اس شجرہ مبارکہ کی چند خصوصیات ہیں کہ جس کی ایک شاخ قمر بنی ہاشم اور فخر عدنان حضرت عباس علیہ السلام بھی ہیں.

والد گرامی:
حضرت عباس علیہ السلام کے والد گرامی حضرت امیرالمؤمنین، وصی رسول، باب مدینة العلم اور زوج بتول حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں کہ جو سب سے پہلے اللہ پر ایمان لائے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی اور ان کی منزلت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسے ہی تھی کہ جیسے جناب ہارون علیہ السلام کی جناب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی۔
حضرت علی علیہ السلام ہی اسلام کے سب سے بڑے مجاہد اور کلمہ توحید کا نفاذ کرنے والے تھے انہوں نے اسلام کے عظیم اہداف کی لوگوں میں نشر واشاعت اور تبلیغ کی خاطر راہ خدا میں جہاد کیااور بہت زیادہ مصائب برداشت کیے۔
اس عظیم امام میں دنیا کے تمام فضائل وکمالات جمع تھے کہ جن کی بدولت کوئی بھی شخص علم و فضل میں ان کی برابری نہیں کر سکتا تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بڑی علمی شخصیت حضرت علی علیہ السلام کی صورت میں ہی دنیا کے سامنے ابھر کر آئی۔
پس حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کسی تعارف اور بیان کی محتاج نہیں ہے تمام اقوام عالم ان کے فضائل ومناقب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام کے لئے فقط یہ فخر ہی کافی ہے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے بیٹے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسوں کے بھائی ہیں .

والدہ گرامی:
حضرت عبا س علیہ السلام کی والدہ گرامی کا نام مبارک حضرت فاطمہ علیھا السلام بنت حزام بن خالد تھا جو کہ ام البنین علیھا السلام کے نام سے مشہور ہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام کے نانا جناب حزام عالم عرب کے شرف کے ستون تھے اور اپنی شجاعت و بہادری اور جود وسخاوت میں بہت مشہور تھے۔ پس حضرت عباس علیہ السلام کی والدہ کا خاندان اپنی شجاعت و شہامت اور بلندی میں بے مثل و بے مثال تھا اس خاندان کے بہت سے افراد شمشیر زنی، نیزہ بازی اور تیراندازی میں بہت زیادہ مشہور تھے ان میں کچھ کے نام اور مختصر احوال درج ذیل ہیں :
1 ـ عامر بن الطفيل:
یہ جناب ام البنین علیھا السلام کی دادی کے بھائی تھے کہ جو شجاعان عرب اور فرسان عرب میں سب سے زیادہ نمایاں حیثیت کے حامل تھے اور عالم عرب اور اس کے باہر ان کی شہرت عروج پر تھی۔ ان کی شہرت کی یہ حد تھی کہ جب عربوں میں کوئی شخص قیصر روم کے پاس جاتا تو اگر وہ شخص عامر بن طفیل کے عزیز و اقراباء میں سے ہوتا تو قیصر روم اس کے ساتھ بہت ہی عزت و اکرام کے ساتھ پیش آتا اور اگر اس کی عامر بن طفیل سے کوئی رشتہ داری نہ ہوتی تو وہ اس سے منہ موڑ لیتا۔
2 ـ عامر بن مالك:
یہ جناب ام البنین علیھا السلام کے دادا کے والد (پردادا)تھے، کہ جو اپنی شجاعت کی بدولت (ملاعب الأسنة) کے لقب سے مشہور تھے اور جنگی فنون میں مہارت اور شجاعت کے ساتھ ساتھ عامر بن مالک عہد وپیمان کی رعایت اور ظالموں کی سر کوبی کرنے میں تمام قبائل عرب میں بے مثل و بے مثال تھے، مؤرخین نے ان کے بارے میں بہت سے ایسے واقعات ذکر کئے ہیں کہ جن میں ان کی یہ صفات حمیدہ واضح نظر آتی ہیں۔
3 ـ طفيل:
یہ جناب ام البنین کی دادی عمرہ کے والد تھے جوکہ مشہور ترین جنگجو اور شہسوار عرب تھے اور ان کے بھائی بھی دلیری اور شجاعت میں اپنے زمانے میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے کہ جن میں ربیعہ، عبیدہ اور معاویہ شامل ہیں ان کی والدہ کو بھی ام البنین کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
4 ـ عروة بن عتبة:
یہ جناب ام البنین علیھا السلام کی پردادی کے والد ہیں کہ جو عرب قبائل اور اقوام عرب میں انتہائی معزز اور معروف شخصیت تھے، جب بھی وہ اپنے زمانے کے باد شاہوں کے پاس جاتے تو وہ ان کو انتہائی احترام و اکرام کی نظر سے دیکھتے اور بہت ہی قیمتی تحائف اور حسن سلوک کے ساتھ انہیں رخصت کرتے۔
جناب ام البنین کے عظیم صفات کے حامل آباؤاجداد میں سے ہم نے ان چند شخصیات کے بارے میں چند سطریں تحریر کی ہیں کہ جو اپنے بلند کردار اورعالی صفات میں مشہور تھے پس فطرت کی طرف سے بنے ہوئے وراثت کے قانون کے تحت یہ بلند پایہ صفات جناب ام البنین علیھا السلام تک ان کے آباؤ اجداد کی طرف سے پہنچیں اور ان سے پھر ان کے بیٹوں میں منتقل ہوئیں۔


عظیم مولود
جناب ام البنین علیھا السلام کے ہاں پیدا ہونے والا پہلا مولود عباس کے نام اور ابوالفضل کی کنیت سے معروف ہوا، اس مولود نے دنیا میں آتے ہی یثرب کو نئی زندگی عطا کی اور دنیا کو اپنی ولادت سے منور کیا اور خاندان علی(ع) کو خوشیوں اور فرحت و سرور کا تحفہ دیا۔ پس خاندان علی علیہ السلام اور بنی ہاشم میں ایک چاند ظاہر ہوا کہ جس کے فضائل وکمالات اور بلند کردار کی روشنی نے جہاں پوری دنیا کو نور بخشا وہاں بنی ہاشم کی شہرت، بقا اور دائمی ذکر کو مزید استحکام عطا کیا۔
جب حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کو اس مبارک مولود کی خوشخبری دی گئی تو امیر المؤمنین علیہ السلام فوراً گھر تشریف لائے اور اس مبارک مولو د کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کا بوسہ لیا اور رسومات ولادت ادا کیں۔
امیر المؤمنین علیہ السلام نے اس مولود کے دائیں کان میں اذان کے کلمات جاری کیے اور بائیں میں اقامت کے۔ پس ایمان و تقویٰ کی کائنات میں سردار کے دہن مبارک سے نکلنے والی اللہ اکبر ....لاالہ الا اللہ ..... کی صدا جناب عباس علیہ السلام کی روح کی گہرائیوں میں نقش ہو گئی اور اس طرح سے ان کی ذات میں کندہ ہوئی کہ ان کی ذات کا سب سے اہم عنصر بن گئی اور اسی الٰہی پیغام کی تبلیغ کی خاطر انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی اور اسی کی خاطر ان کا جسم صحراء کربلا میں بکھر گیا۔
ولادت کے ساتویں دن جناب امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جناب عباس علیہ السلام کے بال منڈوائے اور ان کے وزن کے برابر سونا یا چاندی صدقہ کیا اور ایک گوسفند کا عقیقہ کیا جیسا کہ جناب امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر اسلامی سنت پر عمل کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔

تاریخ ولادت
محققین کے مطابق جناب عباس علیہ السلام کی تاریخ و لادت چار شعبان 26ہجری ہے۔

تربیت و پرورش
جناب عباس علیہ السلام ایسے عظیم پاک و طاہر اور صالح ماحول میں پروان چڑھے کہ جو شاذ و نادر ہی کسی انسان کو حاصل ہوتا ہے پس جناب عباس علیہ السلام نے اپنے بابا کے زیرِ سایہ زندگی کی منزلوں کو طے کرنا شروع کیا کہ جو اس کائنات میں عدل و انصاف کے سب سے بڑے علمبردار تھے جناب امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو علم و تقویٰ کے خزانوں سے مالا مال کیا اور اس کے اندر ایسی عظیم عادات اور صفات کی روح پھونکی کہ جن کی بدولت وہ دنیا کے سامنے اپنے بابا کی شبیہ کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے۔
اسی طرح جناب عباس علیہ السلام کی والدہ نے بھی انہیں فضائل و کمالات کے دریاؤں سے سیراب کیا اور بچپن سے ہی ان کے اندر خدا کی محبت اور رضا و اطاعت کو اس طرح کوٹ کوٹ کر بھر دیا کہ تا حیات یہ امور جناب عباس علیہ السلام کا نصب العین رہے۔
جناب عباس علیہ السلام ہمیشہ سیدالشباب اہل الجنة حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رہتے اور ان سے کسب فیض کرتے خاص طور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اس طرح رہے کہ اگر امام حسین علیہ السلام چاہے سفر میں ہوں یا وطن میں ہر جگہ ہی جناب عباس علیہ السلام سائے کی طرح ان کے ساتھ رہتے اور ان سے معارفِ اسلامی اور کمالات و فضائل حمیدہ کسب کرتے۔ پس جناب عباس علیہ السلام حقیقت میں امامت کے آئینہ دار اور نمونہ عمل تھے۔
امام حسین علیہ السلام بھی اپنے بھائی جناب عباس علیہ السلام کے حق میں عظیم ترین اخلاص رکھتے تھے امام حسین علیہ السلام نے جناب عباس علیہ السلام کی محبت و الفت اور حقیقی عقیدے و اخلاص کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنے تمام اہل بیت علیھم السلام پر ترجیح دی اور ہر ایک سے بڑھ کر اپنا قرب عطا کیا۔
صالح اور عظیم ترین تربیت کے نتیجہ میں جناب عباس علیہ السلام نے جو کمالات و فضائل کسب کیے ان کمالات نے جناب عباس علیہ السلام کو ان بزرگ ہستیوں اور مصلحین کی بلند یوں تک پہنچا دیا کہ جنہوں نے لوگوں کی فلاح و بہبود کی خاطراور ان کو ذلت و غلامی سے نکالنے کے لیے اپنی عظیم ترین قربانیوں سے تاریخِ بشریت کی کایا ہی پلٹ د ی۔
حق کی سر بلندی کی خاطر قربانی، انسانی آزادی پر مشتمل اسلامی پیغام اور عدل و انصاف اور محبت و ایثار کی بنیادوں پر معاشرے کی تشکیل پر مبنی نظریات جناب عباس علیہ السلام کی شخصیت کا اہم حصہ تھے اور یہ وہ امور تھے کہ جو جناب عباس علیہ السلام کی روح کی گہرائیوں میں کندہ تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان کی خاطر ہر ممکن طریقے سے جد و جہد کی اور کسی طرح کی قربانی سے دریغ نہ کیا اور ایسا کیوں نہ ہو جناب عباس علیہ السلام کے والد حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام اور ان کے بھائی امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام تھے کہ جنہوں نے حریت و آزادی اور عزت و کرامت کی مشعل بلند کی اور تما م اقوا م عالم کے سامنے ان کی آزادی اور عزت و شرف کے روشن دروازے کھولے تا کہ پوری بشریت میں عدل و انصاف اور فلاح و بہبود پھیل سکے۔
تربیت و پرورش
تربیت و پرورش
جناب عباس علیہ السلام ایسے عظیم پاک و طاہر اور صالح ماحول میں پروان چڑھے کہ جو شاذ و نادر ہی کسی انسان کو حاصل ہوتا ہے پس جناب عباس علیہ السلام نے اپنے بابا کے زیرِ سایہ زندگی کی منزلوں کو طے کرنا شروع کیا کہ جو اس کائنات میں عدل و انصاف کے سب سے بڑے علمبردار تھے جناب امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو علم و تقویٰ کے خزانوں سے مالا مال کیا اور اس کے اندر ایسی عظیم عادات اور صفات کی روح پھونکی کہ جن کی بدولت وہ دنیا کے سامنے اپنے بابا کی شبیہ کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے۔
اسی طرح جناب عباس علیہ السلام کی والدہ نے بھی انہیں فضائل و کمالات کے دریاؤں سے سیراب کیا اور بچپن سے ہی ان کے اندر خدا کی محبت اور رضا و اطاعت کو اس طرح کوٹ کوٹ کر بھر دیا کہ تا حیات یہ امور جناب عباس علیہ السلام کا نصب العین رہے۔
جناب عباس علیہ السلام ہمیشہ سیدالشباب اہل الجنة حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رہتے اور ان سے کسب فیض کرتے خاص طور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اس طرح رہے کہ اگر امام حسین علیہ السلام چاہے سفر میں ہوں یا وطن میں ہر جگہ ہی جناب عباس علیہ السلام سائے کی طرح ان کے ساتھ رہتے اور ان سے معارفِ اسلامی اور کمالات و فضائل حمیدہ کسب کرتے۔ پس جناب عباس علیہ السلام حقیقت میں امامت کے آئینہ دار اور نمونہ عمل تھے۔
امام حسین علیہ السلام بھی اپنے بھائی جناب عباس علیہ السلام کے حق میں عظیم ترین اخلاص رکھتے تھے امام حسین علیہ السلام نے جناب عباس علیہ السلام کی محبت و الفت اور حقیقی عقیدے و اخلاص کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنے تمام اہل بیت علیھم السلام پر ترجیح دی اور ہر ایک سے بڑھ کر اپنا قرب عطا کیا۔
صالح اور عظیم ترین تربیت کے نتیجہ میں جناب عباس علیہ السلام نے جو کمالات و فضائل کسب کیے ان کمالات نے جناب عباس علیہ السلام کو ان بزرگ ہستیوں اور مصلحین کی بلند یوں تک پہنچا دیا کہ جنہوں نے لوگوں کی فلاح و بہبود کی خاطراور ان کو ذلت و غلامی سے نکالنے کے لیے اپنی عظیم ترین قربانیوں سے تاریخِ بشریت کی کایا ہی پلٹ د ی۔
حق کی سر بلندی کی خاطر قربانی، انسانی آزادی پر مشتمل اسلامی پیغام اور عدل و انصاف اور محبت و ایثار کی بنیادوں پر معاشرے کی تشکیل پر مبنی نظریات جناب عباس علیہ السلام کی شخصیت کا اہم حصہ تھے اور یہ وہ امور تھے کہ جو جناب عباس علیہ السلام کی روح کی گہرائیوں میں کندہ تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان کی خاطر ہر ممکن طریقے سے جد و جہد کی اور کسی طرح کی قربانی سے دریغ نہ کیا اور ایسا کیوں نہ ہو جناب عباس علیہ السلام کے والد حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام اور ان کے بھائی امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام تھے کہ جنہوں نے حریت و آزادی اور عزت و کرامت کی مشعل بلند کی اور تما م اقوا م عالم کے سامنے ان کی آزادی اور عزت و شرف کے روشن دروازے کھولے تا کہ پوری بشریت میں عدل و انصاف اور فلاح و بہبود پھیل سکے۔
جناب عباس(ع) کی طفولت کے دن والد بزرگوار امام علی علیہ السلام، اور دو بھائیوں حسن اور حسین کے سائے میں گذری اور جناب عباس(س) نے ان کی دانش و بصیرت سے فیض حاصل کیا۔ حضرت علی(ع) اپنے اس فرزند ارجمند کے کمال اور تربیت و پرورش کے بارے میں فرماتے ہیں: "إن ولدي العباس زقّ العلم زقّاً"۔ (ترجمہ: میرے بیٹے عباس نے ـ کبوتر کے بچے کی مانند جو اپنی ماں کے منہ سے دانہ پانی لیتا ہے ـ طفولت میں ہی مجھ سے علم سیکھا)
علي بن الحسين الهاشمي النجفي، ثمرات الاعواد، ج1 ص105۔/ مولد العباس بن‏ علی(ع)، ص 62۔
یہ بدیع ترین تشبیہ و استعارہ ہے یہاں امام علی علیہ السلام نے اس لفظ کو عباس(ع) کی تعلیم و تربیت کے لئے استعمال کیا ہے؛ جو خود اسالیب کلام سے واقف ہیں اور ہم اس لفظ سے یہی سمجھتے ہیں کہ بےشک ابوالفضل(ع) میں حتی کہ طفولت اور شیرخوارگی کے ایام میں علوم و معارف کے حصول کی پوری صلاحیت موجود تھی؛ اور ایسا ہی تھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
سيّد عبد الرزّاق الموسوي المُقرّم، العباس عليه السلام، ص94۔
مثال کے طور پر جن دنوں عباس(ع) کی زبان پر پہلے الفاظ جاری ہوئے اور آپ بولنے لگے تو ایک دن امام(ع) نے اپنے فرزند دلبند سے فرمایا: کہو "واحد" (ایک) عباس نے کہا: "احد" امام(ع) نے فرمایا: کہو "اثنان" (دو) عباس نے اثنان کہنے سے اجتناب کیا اور عرض کیا: شرم آتی ہے مجھے کہ جس زبان سے میں نے اللہ کی یکتائی کا اقرار کیا ہے اس پر "اثنان" (دو) جاری کروں۔
فرسان الهیجاء، ج 1، ص 190/ مستدرک وسائل الشیعه، ج‏3، ص 815۔/ امع أحادیث الشیعة، ج‏26، ص867۔
جب بھی امام(ع) امامت کی نگاہ سے عباس(ع) کے مستقبل پر نظریں جماتے تو غم کے آثار آپ کے چہرے پر نمایاں ہوجاتے تھے اور جب زوجہ مکرمہ مادر عباس ام البنین(س) سبب پوچھتیں تو آپ فرماتے تھے کہ "عباس کے ہاتھ حسین(ع) کی حمایت کرتے ہوئے قلم کئے جائیں گے۔ اور پھر اپنے فرزند کی عظمت و مرتبت کے بارے میں یوں خبر دیتے تھے۔ "پروردگار متعال اس کو دو پر عطا فرمائے گا اور یہ اپنے چچا جعفر طیار(ع) کی مانند جنت میں پرواز کرے گا۔
قمر بنی ‏هاشم، ص‏19/ مولد العباس بن‏ علی(ع)، ص 60
نام، کنیت اور لقب
اسم مبارک
حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے اس مولود کا نام ''عباس'' رکھا جو کہ اس بات کی پیشین گوئی تھی کہ یہ بچہ مستقبل میں انتہائی شجاع اور بہادر ہو گا اور کفر و باطل کے سامنے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار اور ہر خیر و بھلائی کا علمبردار ہو گا۔
پس تاریخ نے یہ ثابت کر دکھایا کہ اہل بیت علیھم السلام کے دشمنوں کی طرف سے برپا ہونے والی جنگوں میں حضرت عباس علیہ السلام دشمنوں کے خلاف لڑنے والے ایسے مجاہد اسلام تھے کہ جن کا سامنا کوئی نہیں کر سکتا تھا پس میدان کربلا میں جناب عباس علیہ السلام نے دشمنوں کے بڑے غرور و تکبر سے بھرے ہوئے جرنیلوں کو فی النار کیا اور دشمن کی پوری فوج پر موت کی پرچھائیوں کو طاری کر دیا

کنیت
حضرت عباس علیہ السلام کو ان دو کنیتوں سے یاد کیا جاتا ہے۔:
1 ـ أبو الفضل
آپ کی اس کنیت کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے ایک بیٹے کا نام ''فضل'' تھا کہ جس کی وجہ سے آپ کی کنیت ابوالفضل مشہور ہے اور یہ کنیت حقیقت میں آپ کی ذات کے عین مطابق ہے کیونکہ ابوالفضل کا معنی ''جود و سخاوت کے مرکز'' ہے جناب عباس علیہ السلام کی زندگی میں لاتعداد لوگ ان کی جودوسخا کی بارش سے سیراب ہوتے رہتے تھے اور آنے والا کوئی بھی سائل اور محتاج کبھی خالی نہیں گیا تھا اور اسی طرح سے شہادت کے بعد بھی آپ ابو الفضل ہی ہیں اورحاجت مند اور پریشان حال کی منزل مقصود ہیں۔ پس اگر کوئی بھی شخص سچی نیت کے ساتھ جناب عباس علیہ السلام کو اپنی پریشانی کی دوری یا حاجت روائی کے لیے پکارے تو خدا وند متعال فوری طور پر اس کی حاجت کو پورا کر دیتا تھے.
2 ـ أبو القاسم
اس کنیت کا سبب آپ کا وہ بیٹا ہے کہ جس کا نام "قاسم" تھا کہ جو واقعہ کربلا میں شہید ہو گیا تھا کہ جس کو جنا ب عباس علیہ السلام نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے کی حفاظت اور اسلام کی بقا کے لیے قربان کیا تھا .

القاب
لقب سے مراد وہ نام ہوتا ہے کہ جو دوسرے لوگ کسی بھی شخص کی کسی صفت کو دیکھ کر رکھتے ہیں اور کسی کا بھی لقب اس کی صفات کا آئینہ دار ہوتا ہے پس جناب ابو الفضل العباس علیہ السلام کے بہت سے القابات ہیں کہ جو سب ان کی عالی صفات، روحانی پاکیزگی اور بلند اخلاق پر دلالت کرتے ہیں۔
پس ان میں سے چند القاب نظرِ قارئین ہیں

1 - قمر بنی ہاشم
(بنی ہاشم کا چاند)جناب عباس علیہ السلام اپنی ظاہری وضع کے اعتبار سے انتہائی خوبصورت اور حسن و جمال کا ایک عظیم پیکر تھے کہ جس کی وجہ سے آپ کو قمر بنی ہاشم کا لقب اور خطاب دیا گیا پس جس طرح آپ قمر بنی ہاشم ہیں اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کے گھر کا بھی چاند ہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کا قمر و چاند ہیں کیونکہ آپ نے ہی راہِ شہادت کو اپنی دلیری اور قربانی سے روشن کیا اور مقصد شہادت کو تمام مسلمانوں تک پہنچایا
2 - السقائ
(ساقی)یہ وہ لقب ہے کہ جو سب سے زیادہ جناب عباس علیہ السلام کو پسند ہے اور اس لقب کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اہلِ بیت علیھم السلام کے پیاسوں کو پانی سے سیراب کیا۔
جب عمر بن سعد لعین ابن لعین نے انسانیت کو جاہلیت کی لعنت سے باہر نکالنے والے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد پر پانی بند کیا اور اس کی فوجیں فرات کے کنارے آگئیں تاکہ اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیاسی مر جائے تو اس وقت جناب عباس علیہ السلام نے انصارِ حسین علیہ السلام کے ساتھ مل کر متعدد بار اس گھیرے کو توڑکر پانی لایا اور اہلِ بیت علیھم السلام کے پیاسوں کو سیراب کیا
3 - بطل العلقمی
:(علقمی کا بہادر)علقمیٰ اس نہر کا نام ہے کہ جو فرات سے نکلتی ہے اسی نہر کے کنارے جناب عباس علیہ السلام نے جامِ شہادت نوش کیا تھا اس نہر کو ابن مرجانہ کے حکم سے دشمن نے بہت زیادہ فوج کے ذریعے اپنے پہرے میں لیا ہوا تھا تا کہ جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سید شباب الجنة اور خواتین و بچوں کو پیاسا ہی موت سے ہمکنار کر دیا جائے
پس جناب عباس علیہ السلام نے اپنی شجاعت جوان مردی اور عزم کی بلندی کے ذریعے متعدد بار دشمنوں کے اس پہرے کو توڑ ااور ان کے بڑے بڑے بہادروں کو واصل جہنم کیا اور وہاں سے پانی حاصل کیا اور اسی طرح کی آخری کوشش میں جامِ شہادت نوش کیا
4 - حامل اللوائ
(علمدار)جناب عباس علیہ السلام کے مشہور ترین القابات میں سے ایک علمدار بھی ہے امام حسین علیہ السلام نے اپنا علم اپنے اہلِ بیت علیھم السلام اور انصار و اصحاب میں سے فقط حضرت عباس علیہ السلام کو عطا کیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جو عسکری اور جنگی صلاحیتیں جناب عباس علیہ السلام میں تھیں وہ صلاحیتیں باقی کسی بھی سپاہی میں نہ تھیں اس زمانے میں علمداری کا منصب پورے لشکر میں ایک اہم ترین منصب تھا۔ حضرت عباس علیہ السلام کوعطا کیاگیا علم اس وقت سے امام حسین علیہ السلام کے سرِ اقدس پر سایہ فگن تھا کہ جب سے وہ یثرب سے نکلے تھے پس امام حسین علیہ السلام نے اپنا علم ایسے فولادی ہاتھوں میں تھمایا کہ یہ علم اس وقت تک نہ گرا کہ جب تک یہ فولادی ہاتھ کٹ کر علقمیٰ کے کنارے کے پاس نہ گرے
5 - کبش الکتبیة
(فوج کا سردار )یہ وہ لقب ہے کہ جو فوج کے ایسے اعلیٰ افسر کو دیا جاتا ہے کہ جو فوج کے تمام گروہوں کی حفاظت بہت دانشمندی اور دلیری سے کرے یہ عظیم لقب حضرت عباس علیہ السلام کو اس لیے دیا گیا کیونکہ انہوں نے کربلا کے میدان میں انتہائی شجاعت اور جرأ ت مندی سے امام حسین علیہ السلا م کے لشکر کی حفاظت کی پس حضرت عباس علیہ السلام اپنے بھائی کے لشکر کی اصل قوت تھے کہ جو دشمن پر بجلی کی سی تیزی سے حملہ کرتے اور دشمن کی صفوں کو واصل جہنم کرتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے
6 - عمید
(سالارِ فوج)یہ لقب بھی فوج کے اہم ترین افسر کو دیا جاتا تھا اس لقب کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کربلا کے میدان میں اپنے بھائی کی فوج کے سالار اور افسر اعلیٰ تھے
7 - حامی الظعینہ
:(محملوں کی حفاظت کرنے والا)یہ لقب بھی حضرت عباس علیہ السلام کے مشہور القاب میں سے ہے حضرت عباس علیہ السلام کو اس لقب سے اس لیے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ مکہ سے لے کر کربلا تک نبوت وامامت اور وحی کے سایہ میں رہنے کی عادی خواتین اوران کے محملوں کی حفاظت اور ہر طرح سے ان دیکھ بھال کی ذمہ داری حضرت عباس علیہ السلام کے ذمہ تھی اور حضرت عباس علیہ السلام نے اس ذمہ داری کو اس خوبی سے انجام دیا کہ اس کی یاد رہتی دنیا تک باقی رہے گی
8 - باب الحوائج
یہ وہ لقب ہے جو لوگوں میں بہت زیادہ مشہور ہے کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ جو شخص بھی خالص نیت کے ساتھ حضرت عباس علیہ السلام سے اپنی بڑی سے بڑی حاجت طلب کرتا ہے خدا اس کی حاجت کو پورا کر دیتا ہے جو بھی پریشان حال مولا عباس علیہ السلام کی بارگاہ میں دست سوال دراز کرتاہے اس کی پریشانی کو خدا تعالیٰ دور کر دیتا ہے۔ پس حضرت عباس علیہ السلام خدا کی رحمتوں کا جھونکا اور خدا کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں اور خدا تک رسائی کا ایک وسیلہ ہیں خدا کے نزدیک حضرت عباس علیہ السلام ایک بہت بڑی منزلت کے مالک ہیں اور یہ سب فقط اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اسلام اور اس کے اہداف اور اصولوں کی مدد و نصرت اور حفاظت میں مقدس جہاد کیا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے کی حفاظت کرتے رہے یہاں تک کہ خدا کی راہ میں شہید ہو گئے۔ حضرت عباس علیہ السلام کے القابات میں سے ہم نے چند القابات کو نذرِ قارئین کیا کہ جو جناب عباس علیہ السلام کی عظیم اور بلند صفات اورعالی فضائل پر دلالت کرتے ہیں.
فضائل
جناب عباس علیہ السلام فضائل و کمالات اور موروثی خوبیوں کی وہ عظیم دنیا تھے کہ دنیا میں موجود کوئی ایسی قابلِ تحسین صفت نہیں ہے جو آپ میں نہ ہو کوئی ایسی رفیع و عالی فکر نہیں ہے کہ جو آپ کی ذات کا حصہ نہ ہو پس حضرت عباس علیہ السلام کے لیے فقط یہی فخر کافی ہے وہ حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے فرزند تھے کہ جن کو خدا نے کائنات کے تمام فضائل سے نوازا ہے جناب عباس علیہ السلام نے فضائل کو وراثت میں اپنے والدِ گرامی سے حاصل کیا اور دنیا کے لیے ہر فضیلت کی رمز وعلامت اور ہر عالی صفت کا عنوان بن گئے۔ ہم مختصر طور پر جناب عباس علیہ السلام کی چند فضیلتوں کو ذکر کرتے ہیں
1 ـ شجاعت:
شجاعت و دلیری کسی بھی انسان کی سب سے بلند صفت ہوتی ہے کیونکہ کسی بھی انسان میں شجاعت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے اندر فکری و شخصی قوت، عزم و ارادہ میں پختگی اور حادثات کے سامنے ثابت قدمی جیسی صفات موجود ہوں۔ جناب عباس علیہ السلام نے اس صفت کو اپنے بابا امیر المؤمنین علیہ السلام سے وراثت میں حاصل کیا کہ جن سے بڑھ کر وجود کی دنیا میں شجاع نہیں ہے اور اسی طرح جناب عباس علیہ السلام نے اس صفت کو اپنی والدہ کے خاندان سے بھی اخذ کیا کہ جو اقوام عرب میں اپنی شجاعت و دلیری میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے۔
جناب عباس علیہ السلام کی زندگی شجاعت اور دلیری کے واقعات سے بھری ہوئی ہے مؤرخین کا کہنا ہے کہ حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی زیرِ قیادت جنگوں میں کمسنی کے باوجود خوف یا کسی قسم کا بھی ڈر جناب عباس علیہ السلام کے دل کے قریب سے بھی کبھی نہ گزرا تھا۔
کربلا کے میدان میں آپ نے شجاعت اور بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ تاریخ میں آپ کی شجاعت ضرب المثل بن گئی عاشور کے دن سے بڑھ کر کوئی ایسا دن نہیں ہے کہ جس میں اسلام پر اتنی زیادہ مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے ہوں۔ جب جناب عباس علیہ السلام ٹڈی دل کی طرح پورے میدان میں پھیلے ہوئے لشکر کے سامنے آئے تو ان کے بڑے بڑے بہادروں اور سورماؤں کے جسم میں بزدلی وڈر کی لہریں دوڑنے لگیں پوری فوج کے دل کو رعب اور دبدبے نے گھیر لیا اور ان کے قدموں تلے زمین سرکنے لگی اور موت کا سایہ ان کے سروں پر منڈلانے لگا۔
کربلا کے میدان میں دشمن نے جناب عباس علیہ السلام کو اپنے بھائی کا ساتھ چھوڑنے کی صورت میں فوجی قیادت اور امان کی پیشکش کی لیکن جناب عباس علیہ السلام نے ان کی اس پیشکش کو نہایت غصے اور دلیری سے ٹھکرا دیا اور ان میں کسی کمزوری کے پیدا ہونے کی بجائے ثابت قدمی اور اپنے عقیدے اور اصولوں کا دفاع کرنے میں مزید عزم و ارادہ مستحکم ہوا۔
جناب عباس علیہ السلام نے عاشورہ کے دن جس شجاعت کا مظاہرہ کیا وہ کسی دنیاوی غرض کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ سب امام حسین علیہ السلام کے قیام اور مقدس ترین اصولوں اور نظریات کے دفاع کی خاطر تھا کہ جن میں سر فہرست مظلوموں کے حقوق کا دفاع تھا

2 ـ خدا پر ایمان:
خدا پر مضبوط ایمان اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ایمانی قوت جناب عباس علیہ السلام کی شخصیت کے اہم عناصر اور ان کی اولین صفات میں سے تھی۔
آپ نے ایمان کی گود اور تقویٰ کے مرکز میں تربیت حاصل کی اور خدا کی اطاعت اور عبادت سے لبریز گھروں میں پرورش پائی، آپ نے اپنے بابا امیر المؤمنین، زعیم الموحدین، اور امام المتقین علیہ السلام سے توحید پرستی اور ایمانی جوہر کسب کیے۔
جناب عباس علیہ السلام نے اپنے بابا سے ایسا ایمان کسب کیا کہ جو عقل و ادراک اور اسرارِ طبیعت وحقائق کی کائنات میں تدبر سے پیدا ہوا، اس ایمان نے حضرت عباس علیہ السلام کی روح ودل کی گہرائیوں میں ایسے گہرے اثرات پیدا کئے کہ جس نے آپ کو متقین اور موحدین کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور یہ آپ کے ایمان کی بلندی اور عظمت ہی تھی کہ جس کے تحت آپ نے خدا کے دین کی خاطر اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنے بھائیوں کی قربانی سے ذرا برابر بھی دریغ نہ کیا۔
جناب عباس علیہ السلام نے خدا کے دین اور اسلامی اصولوں کے دفاع کی خاطر ہر طرح سے جہاد کیا کہ جو دین اور اصول بنی امیہ کے دور حکومت میں خطرے کا شکار ہو چکے تھے، پس جناب عباس علیہ السلام نے یہ سب قربانیاں فقط اور فقط خدا کی خوشنودی ورضا اور آخرت کے لئے دیں .

3 ـ عزت نفس:
جناب عباس علیہ السلام کی شخصیت میں موجود اہم ترین صفات میں سے ایک عزت نفس اور ذلت سے انکار بھی ہے۔ آپ نے بنی امیہ کی اس حکومت کے زیر سایہ ذلیل و رسوا رہنے سے انکار کیا کہ جس نے خدا کے مال کو اپنی ملکیت اور خدا کے بندوں کو اپنا غلام سمجھ رکھا تھا۔ آپ نے حریت پسندوں کے سردار امام حسین علیہ السلام کی مانند میدان جہاد کارخ کیا کیونکہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، سختیوں کے سائے میں موت سعادت ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنا ذلت ہے۔
جناب عباس علیہ السلام عاشورہ کے دن عزت نفس کا مکمل مجسم نمونہ بن کر ظاہر ہوئے بنی امیہ نے آپ کو اس شرط پر فوجی قیادت اور عمومی سرداری دینے کی پیشکش کی کہ آپ اپنے بھائی کا ساتھ چھوڑ دیں لیکن آپ نے نہایت غصے سے ان کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ان کی عمومی سرداری کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا اور انتہائی ذوق و شوق اور مکمل اخلاص کے ساتھ میدان جنگ میں آئے دشمن کے بڑے بڑے جنگجوؤں کے سروں کو دین اور عزت و شرف کے دفاع کی خاطر جدا کیا .

4 ـ صبر:
جناب عباس علیہ السلام میں موجود ذاتی ممیزات اور صفات میں سے ایک زمانے کی مصیبتوں اور مشکلاتِ دہر پر ثابت قدمی سے صبر کرنا بھی ہے آپ نے کربلا میں ان مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا کہ جن کے تصور سے ہی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن آپ نے ان مصائب پر نہ تو پریشانی کا اظہار کیا اورنہ ہی کوئی ایسی بات کی کہ جو اسلام اور خدا کی راہ میں پیش آنے والے عاشورہ کے مصائب پر عدمِ رضا پر دلالت کرے آپ نے اپنے تمام امور کو اپنے بھائی کی پیروی کرتے ہوئے خدا کے سپرد کر دیا کہ جن کے صبر کو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے مقابل تولا جائے تو امام حسین علیہ السلام کے صبر کا پلڑا بھاری نظر آئے گا۔
جناب عباس علیہ السلام نے ستاروں کی طرح مناقب و فضائل میں بلند اور چمکتے ہوئے ساتھیوں کو کربلا کی گرم ریت پر ذبح ہوتے ہوئے دیکھا، بچوں کی چیخ و پکار سنی کہ جن کے سوکھے گلوں سے پیاس پیاس کی صدائیں نکل رہی تھیں وحی کے سایہ میں پرورش پانے والی کائنات سے بڑھ کر با فضیلت خواتین کو اپنے مقتولوں پر روتے ہوئے سنا، اپنے بھائی کو تنہا دیکھا کہ جس کو شہید کرنے پر اہلِ کوفہ ہر طرح کی تیاری کر چکے تھے جناب عباس علیہ السلام نے یہ تمام مصائب دیکھے اور نہایت ثابت قدمی اور صبر سے ان کو برداشت کیا اور اپنے تمام امور کو خدا کے سپرد کر دیا .


5 ـ وفا:
جناب عباس کے خصائص میں سے سب سے معروف اور نمایاں ترین صفت ان کی وفا ہے کہ جو رہتی دنیا تک ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے ہم اس عظیم ترین وفا کو مندرجہ ذیل مختلف پہلؤوں سے دیکھتے ہیں:
أ ـ اپنے دین سے وفا:
جناب عباس علیہ السلام دنیا میں سب سے زیادہ اپنے دین کے وفادار اور سب سے بڑھ کر اس کا دفاع کرنے والے تھے۔ جب آپ نے دیکھا کہ بنی امیہ کی حکومت کی طرف سے اسلام خطرے میں ہے کہ جو دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں اسلام کے خلاف ہر ممکن وسائل سے کام لے رہے ہیں تو اس وقت آپ میدان جہاد میں آگئے اور اسلام اور خدا کے پیغام کی سر بلندی کے لیے مکمل اخلاص کے ساتھ جہاد کیا پس خدا اور دین کی راہ میں ان کے ہاتھ کٹے اور زمینِ کربلا پر شہید ہوئے
ب ـ امت کے ساتھ وفا:
جب جناب عباس علیہ السلام نے دیکھا کہ امتِ مسلمہ ذلت و غلامی اور ظلم و ستم کے خنجر تلے بے حس و حرکت پڑی ہے اور ان کے اوپر بنی امیہ کے ظالم و جابر اور مجرم حکمران حکومت کر رہے ہیں کہ جن حکمرانوں نے مسلمانوں کی جان و مال اور ناموس کو غنیمت سے بد تر سمجھ رکھا ہے اور اس سے بڑھ کر امتِ مسلمہ کی کیا توہین ہو سکتی ہے کہ بنی امیہ کے حکمران سرِ عام مسلمانوں کو غلام کہتے اور ان کی عزت و ناموس کے ساتھ کھیلتے۔
جناب عباس علیہ السلام نے امت اسلامیہ سے وفا داری کو نبھانے کے لیے انھیں اس ظلم و ستم کی چکی سے نکالنے اور ظالم حکمرانوں کے شکنجے سے آزاد کروانے کے لیے قدم اٹھانے کو ضروری سمجھا لہٰذا اس مقصد کے تحت آپ اپنے بھائی سید الشہداء اور اہلِ بیت رسول علیھم السلام کے جوانوں اور حریت پسند اصحاب کے ساتھ قیام کی خاطر بنی امیہ کی ملعون ترین حکومت کے سامنے آکھڑے ہوئے اور حریت و آزادی کا نعرہ بلند کیا اور مسلمانوں کو ذلت اور غلامی سے آزادی دلوانے اور ان کو پھر سے ایک آزاد اوربا عزت زندگی میں لانے کے لیے مقدس جہاد کا اعلان کیا اور اسی بلند ہدف کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا پس اس سے بڑھ کر کون سی وفا ہے جوامت مسلمہ سے ہو سکتی ہے
ج ـ اپنے وطن سے وفا:
بنی امیہ کے ابتدائی دورِ حکومت سے ہی اسلامی مملکت مصائب و آلام اور غلامی کی غلیظ دلدل میں پھنس چکی تھی اس وطن کی عزت اور خود مختاری بنی امیہ اور اس کے دستر خوان پر پلنے والے پالتو حکمرانوں کے ہاتھوں اغواء ہو چکی تھی غربت و افلاس اور محرومی نے ہر طرف گھیرا کیا ہوا تھا اصلاح پسند اور حریت کے عادی ذلت کی چکی میں پِس رہے تھے ان حالات میں اظہارِ رائے کی آزادی اور فکری حریت کے پاس کوئی ایسا سایہ نہ تھا کہ جہاں وہ پناہ لے سکے۔
پس انہی حالات میں جناب عباس علیہ السلام نے اپنے بھائی سید الشہداء کے ساتھ مل کر بنی امیہ کی کالی حکومت اور اس کے سیاہ تخت و تاج کو مٹانے کے لیے علم جہاد بلند کیا اور اپنی قربانیوں کے ذریعے اپنے نظریے کو تاقیامت دنیا میں نافذ کر دیا اور اپنے وطن سے وفا کا پورا پورا حق ادا کیا .
د ـ اپنے بھائی سے وفا:
خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت عباس علیہ السلام پر اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ وفا کرنا فرض تھا مظلومین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے حضرت سید الشہداء کے ساتھ حضرت عباس علیہ السلام نے وفا داری اور خدا کی طرف سے واجب شدہ ذمہ داری کو ایسے احسن طریقے سے پوراکیا کہ رہتی دنیا تک کوئی اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتا اور نہ ہی تاریخ اپنے اوراق سے کسی اور کی ایسی وفا دکھا سکتی ہے جناب عباس علیہ السلام وفا کے آسمان پر چمکنے والا ایسا ستارہ ہیں کہ جس کی بلندیوں تک کسی کی رسائی نہیں ہے.

6 ـ قوتِ ارادہ:
کسی بھی کامیاب انسان کی سب سے ممتاز صفت اس کی اپنے ارادہ میں مضبوطی اور پختگی ہے تاریخ کے صفحات پر کامرانی کی داستانیں رقم کرنے والے افراد میں نمایاں ترین صفت ان کی قوتِ ارادی تھی اور جس کے پاس عزم و حوصلہ اور ارادوں میں مضبوطی نہ ہو وہ کبھی بھی کوئی اجتماعی ہدف حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی بڑے سیاسی عمل میں حصہ لے سکتا ہے۔
جناب عباس علیہ السلام عزم و حوصلہ کی بلندی اور ارادوں کی پختگی اور قوتِ ارادہ کی مضبوطی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے آپ حق کے لشکر میں شامل ہوئے اور مشکل ترین حالات کے باوجود بھی نہ تو آپ کے ارادوں میں کوئی کمزوری آئی اور نہ ہی کسی بھی حوالے سے آپ ڈگمگائے اور آپ تاریخ میں ایک عظیم ترین فدائی اور قائد کی صورت میں ابھرکر سامنے آئے پس اگر ان میں یہ عظیم صفت نہ ہوتی تو تاریخ ان کے لیے اس طرح فخر وکامرانی نہ لکھتی

7 ـ ہمدردی اور رحمدلی:
محرومیوں میں گھرے ہوئے مظلوم افراد کے ساتھ ہمدردی آپ کے کردار کا اہم حصہ تھی یہ ہمدردی کربلا کے میدان میں اس وقت واضح صورت میں نظر آئی کہ جب بنی امیہ کے فوج نے فرات کا پانی اہلِ بیت علیھم السلام پر بند کر دیا تھا تا کہ یا تو وہ پیاسے شہید ہو جائیں یا بنی امیہ کے مطالبات تسلیم کر لیں۔
پس جب جناب عباس علیہ السلام نے دیکھا کہ بچوں کے پیا س سے گلے اور ہونٹ خشک ہو چکے ہیں اور شدتِ پیاس سے رنگ تبدیل ہو چکے ہیں تو ان کا دل ہمدردی کے جذبات سے بکھرنے لگا تو آپ نے اکیلے ہی پانی کے حصول کی خاطر فرات پر حملہ کیا اور ہزاروں کے لشکر کا گھیرا توڑ کر جب دریا تک پہنچے تو دریا اور پانی پر قبضہ کرنے کے باوجود بھی پانی نہ پیا اور مشکیزہ بھرنے کے بعد پیاسے واپس آگئے کیونکہ انہوں نے گوارا نہ کیا کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہلِ بیت علیھم السلام اور بچے تو پیاسے ہوں اور وہ پانی پی لیں۔ تاریخ عرب اور دنیا میں پھیلی ہوئی اقوام کی تاریخ میں دیکھیں کہ کیا ایسا ہمدرد بھی ملتا ہے کہ جو قمرِ بنی ہاشم اور فخرِ عدنان حضرت عباس علیہ السلام کی طرح ہو۔
حضرت عباس(ع) کے بھائی اور بہنیں
حضرت عباس علیہ السلام کے بھائی اور بہنیں
امام علی(ع) کی پہلی زوجہ مکرمہ رسول اللہ(ص) کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراء(س) تھیں۔ حضرت علی(ع) اور حضرت فاطمہ زہراء(س) کے اس آسمانی رشتے کا ثمرہ تین فرزند اور دو بیٹیاں ہیں:کہ جن کے اسماء مبارک یہ ہیں:
بیٹے: حسن، حسین، محسن (کتاب اثبات الوصیة، ص 153)
بیٹیاں: زینب کبری اور ام کلثوم کبری۔
جناب ام البنین فاطمہ بنت حزام بن دارم کلابیہ، دوسری خاتون تھیں جو امیرالمؤمنین(ع) کے حبالہ نکاح میں آئیں اور حضرت عباس(ع)، عثمان، جعفر اور عبد اللہ اسی باعظمت خاتون سے دنیا میں آئے اور سب کربلا میں شہید ہوئے۔
خولہ بنت جعفر بن قیس بن مسلمہ الحنفی اور دوسرے قول کے مطابق خولہ بنت ایاس بھی ان خواتین میں سے ہیں جو امیرالمؤمنین کے حبالہ نکاح میں آئیں اور محمد بن حنفیہ بن علی(ع) ان ہی کے فرزند ہیں۔
نیز حضرت علی(ع) کی دوسری زوجات میں لیلی بنت مسعود بن خالد نہشلیہ تمیمیہ دارمیہ، ام حبیب بنت ربیعہ تغلبیہ ہیں جو "الصہبا" کے نام سے مشہور ہیں، ام سعید بنت عروہ بن مسعود ثقفی اور مُحیّاة بنت إمرئ القیس بن عدی کلبی شامل ہیں۔
شیخ مفید نے لکھا ہے کہ امام علی(ع) کی اولاد کی تعداد 27 تک ذکر کی ہے، شیعہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت زہراء(س) سے آپ کا ایک اور فرزند "محسن" تھے جو پیدائش سے قبل اور رسول اللہ(ص) کے وصال کے بعد ایک سانحہ میں سقط ہوگئے تھے۔ اور اس حساب سے امیرالمؤمنین(ع) کی اولاد کی تعداد 28 تھی:
1. حسن
2. حسین
3. زینب کبری
4. زینب صغری، جن کی کنیت "ام کلثوم" تھی۔
5. محسن۔ ان پانچ بزرگواروں کی والدہ سیدہ فاطمہ زہرا(س) تھیں۔
6. محمد، جن کی کنیت ابوالقاسم تھیں اور ان کی والدہ خولہ بنت جعفر بن قیس حنفیہ تھیں اور محمد حنفیہ کے نام سے مشہور تھے۔
7. عمر
8. رقیہ۔ یہ دونوں جڑواں تھے اور ان کی والدہ ام حبیب دختر ربیعہ تھیں۔
9. عباس
10. جعفر
11. عثمان
12. عبداللہ، یہ چاروں افراد کربلا میں جام شہادت نوش کرگئے اور ان کی والدہ ام البنین فاطمہ بنت حزام بن خالد بن دارم، تھیں۔
13. محمد اصغر جن کی کنیت ابوبکر تھی۔
14. عبیداللہ، یہ دو افراد بھی کربلا میں شہید ہوئے۔ ان کی والدہ لیلی بنت مسعود دارمیہ تھیں۔
15. یحیی
16. ان کی والدہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ تھیں۔
17. ام الحسن
18. رملہ، ان کی والدہ ام سعید بنت عروة بن مسعود ثقفی تھیں۔
19. نفیسہ
20. زینب صغری
21. رقیہ صغری
22. ام ہانیء
23. ام الکرام
24. جمانہ جن کی کنیت ام جعفر تھی۔
25. امامہ
26. ام سلمہ
27. میمونہ
28. خدیجہ
29. فاطمہ۔ شیخ مفید نے ان چند افراد کی ماؤں کا تعارف نہیں کرایا ہے اور کہا ہے کہ وہ مختلف ماؤں کی بیٹیاں ہیں۔
(کتاب الارشاد،مؤلف شیخ مفید، طبع قم: سعید بن جبیر، 1428ق۔، ص 270-271۔)
حضرت علی(ع) اور امام حسن(ع) کے ساتھ
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے ساتھ
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام اپنے بیٹے جناب عباس علیہ السلام کا بچپن سے ہی بہت خیال رکھتے تھے اور ان کی تربیت و نگہداشت پر خاص توجہ دیتے تھے پس حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے اندر موجود ایمان اور فضائل میں لپٹے ہوئے کمالات سے جناب عباس علیہ السلام کو فیض یاب کیا اور ایسی تربیت کی کہ وہ مستقبل میں اسلام کے عظیم ترین مجاہد اور لیڈر بنے اور انہوں نے تاریخ میں مسلمانوں کے لیے عزت و شرف کے روشن ابواب کا اضافہ کیا۔
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام اپنے بیٹے جناب عباس علیہ السلام سے شدید محبت کرتے تھے مؤرخین کہتے ہیں کہ ایک دفعہ جناب عباس علیہ السلام حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی گود میں تشریف فرما تھے کہ جناب عباس علیہ السلام نے اپنی آستین کو الٹ کر اوپر کر دیا جب امیر المؤمنین علیہ السلام کی نظر جناب عباس علیہ السلام کے بازووں پر پڑی تو شدید گریہ کرتے ہوئے ان کے بوسے لینے لگے۔
جب جناب ام البنین سلام اللہ علیھا نے یہ حالت دیکھی تو انتہائی پریشان ہو کر امیر المؤمنین علیہ السلام سے ان کے اس طرح سے گریہ کرنے کا سبب پوچھا۔ جس پہ حضرت امیرلمؤمنین علیہ السلام نے غم و الم میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا کہ جب میری نظر ان ہاتھوں پہ پڑی تو مجھے وہ حادثہ یاد آگیا کہ جو ان ہاتھوں کے ساتھ پیش آنے والا ہے۔
جناب ام البنین علیہاالسلام نے کہا ان ہاتھوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ تو امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ان ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے گا۔ یہ جملہ جناب ام البنین علیھا السلام کے لیے ایسا تھا کہ جیسے ان پر آسمانی بجلی گر گئی ہو اور ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہو۔ پس جناب ام البنین علیہا السلام نے انتہائی پریشانی کی سی حالت میں کہا ان ہاتھوں کو کیوں کاٹا جائے گا؟ تو اس وقت حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے انہیں بتایا کہ یہ ہاتھ اسلام کی مدد و نصرت اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور شریعت کے محافظ امام حسین علیہ السلام کی حمایت میں کٹیں گے۔
اس کے بعد جناب ام البنین علیہاالسلام نے بہت زیادہ گریہ کیا اور وہاں موجود خواتین نے بھی گریہ کیا اورجناب ام البنین علیہا السلام کے حزن و غم میں ان کی شریک ہوئیں۔
جناب ام البنین علیہا السلام نے صبر کے دامن کو ہمیشہ مضبوطی سے تھامے رکھا اور ہمیشہ خدا کا اس بات پر شکر ادا کیا کہ ان کا بیٹا جناب بتول علیہا السلام کے بیٹے اور لختِ جگر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم امام حسین علیہ السلام پہ قربان ہو گا
حضرت علی(ع) نے خاص عنایات و توجہات کے ذریعے جناب عباس(ع) کو اسلامی اخلاق و آداب سے روشناس کرایا اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آپ کو پروان چڑھایا۔ جناب عباس نے والد کے سائے میں تقریبا 14 سال گزارےاور اس عرصے میں ہمہ وقت والد بزرگوار کے ہمراہ رہے۔ اور خلافت کے دشوار ایام میں لمحہ بھر بھی آپ سے جدا نہ ہوئے۔ جب سنہ 37 ہجری میں جنگ صفین چھڑ گئی تو عباس(ع) 12 یا 13سال کے تھے مگر آپ نے اس جنگ میں ناقابل کارنامے سر انجام دیئے۔
وسیلة الدارین، ص‏269/ مولد العباس بن‏ علی (ع)، ص 64.
معاویہ کا پچاسی ہزار افراد پر مشتمل لشکر صفین میں داخل ہوا تو اس نے سب سے پہلے "ابو الاعور اسلمی" کو بڑی نفری دے کر فرات پر متعین کیا اور حکم دیا کہ امیرالمؤمنین(ع) کے لشکر کو پانی نہ لینے دیا جائے تاکہ وہ پیاس کی وجہ سے جنگ لڑے بغیر شکست کھا جائیں۔ امیرالمؤمنین(ع) کا لشکر آپہنچا تو فوجی تھکاوٹ اور پیاس میں مبتلا تھے چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) نے مجبور ہوکر صعصعہ بن صوحان اور شبث بن ربعی کو پانی لے کر آنے کی ذمہ داری سونپی۔ ان دو افراد نے کچھ نفری لے کر دریا پر تعینات معاویہ کے سپاہیوں پر حملہ کیا اور پانی کی ضرورت پوری کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس حملے میں حسین بن علی اور عباس بن علی بھی شریک تھے۔
معالی السبطین، محمد مهدی حائری مازندرانی، ج1، ص437
صفین میں جنگ زوروں پر تھی جب اچانک ایک کم عمر نقاب پوش لڑکا لشکر علی سے جدا ہوا۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ اس لڑکے کی عمر غالبا 13 سال تھی۔ لشکر معاویہ کے لشکر کے سامنے آکر رکا اور ہل من مبارز کی صدا بلند کی۔ معاویہ نے اپنے لشکر کے طاقتور ترین پہلوان ابو شعثاء سے میدان میں نکل کر اس نوجوان کا جواب دینے کا حکم دیا مگر اس نے کہا: شام والے سمجھتے ہیں کہ میں ایک ہزار گھڑسوار شہسواروں کے برابر ہوں اور تم مجھے اس نوجوان کے سامنے بھجوا رہا ہے؟ میرے سات بیٹے ہیں جو اس اس نوجوان کا جواب دے سکتے ہیں چنانچہ اس نے اپنا ایک بیٹا میدان کارزار میں روانہ کیا جو چند ہی لمحوں میں نوجوان کے ہاتھوں اپنے خون میں نہا گیا۔ ابو شعثاء نے بڑی حیرت سے یہ نظارہ دیکھا اور اپنا دوسرا بیٹا نئی ہدایات دے کر میدان میں اتارا لیکن نتیجہ وہی تھا اور یوں ابو شعثاء کے سات اس نوجوان کے ہاتھوں مارے گئے۔ آخر کار ابو شعثاء [شاید سات بیٹوں کا بدلہ لینے] نوجوان کا جواب دینے کے لئے میدان میں اترا لیکن وہ بھی چند ہی لمحوں میں اس نوجوان کی ایک کاری ضرب کا شکار ہوکر اپنے بیٹوں سے جا ملا۔ مزید معاویہ کے لشکر میں کسی میں اس نوجوان کا جواب دینے کی جرأت نہ تھی اور دوسری طرف سے سپاہ امیرالمؤمنین(ع) میں بھی سب حیرت زدہ ہوکر اس نوجوان کو خراج تحسین پیش کررہے تھے۔ بالاخر کوئی حریف نہ پاکر اپنی سپاہ کی طرف لوٹا اور امیرالمؤمنین(ع) نے آپ کا نقاب اٹھایا اور بیٹے کے چہرے سے دھول ہٹا دی
سید عبدالرزاق الموسوی المقرم، العباس علیه ‏السلام، ص153؛ کبریت الاحمر، محمدباقر بیرجندی، تهران، کتابفروشی اسلامیه، 1377 ق.، ص385.

حضرت عباس(ع) امام حسن(ع) کی خدمت میں
سن40 ہجری 21 رمضان آل علی(ع) کے لئے نہایت غمگین گھڑی تھی، ابن ملجم کی زہر آلود تلوار کا وار کاری ثابت ہوا اور خورشید عدالت غروب ہو گیا۔ لوگوں نے امام حسن(ع) کے ہاتھ پر بیعت کی، عین اسی وقت معاویہ اور اس کے کارندے سیم ورز کے ذریعے رؤساء قبائل کو خریدنے میں سرگرم عمل ہوئے اور امام حسن(ع) کی بیعت کو کمزور اور لوگوں کی عقیدت کو امام حسن(ع) کے لئے سست کرنے لگے اس کا فوری اثریہ ہوا کہ کوفہ اور اس کے اطراف سے امام علی(ع) کی شہادت سے پہلے ایک لاکھ بیس ہزار لوگ معاویہ سے جنگ کے لئے آمادگی ظاہر کی تھی لیکن آج ان میں سے صرف بارہ ہزار افراد کو (وہ بھی بڑی زحمت اور تگ و دو سے) جمع کیا۔ کتاب ماہ بی غروب ، عباس علی محمودی ، ص73
یوں لوگ انتظار سے پہلے ہی اپنے امام کو تنہا چھوڑ کر ان کے پاس سے ہٹ گئے، یہاں تک کہ ان کے چچیرے عبیداللہ بن عباس (جو سپاہ امام کے کمانڈر تھے ) کو بھی بھاری رقم رشوت دیکر خرید لیا۔ عبیداللہ بن عباس کی خیانت سے سپاہ امام کی رہی سہی ہمت بھی جاتی رہی، دیکھتے ہی دیکھتے امامؑ کے ایک اور کمانڈر بنام کندی 4 ہزار سپاہیوں کے ساتھ (جو شہر انبار میں مستقر تھا) معاویہ سے جا ملا، اس سے بڑھ کر ان بے ایمان لوگوں نے مدائن کے نزدیک ساباط نامی گاؤں میں امام حسن کے خیمے پر حملہ کر کے آپ کے جاہ نماز کو آپ کے نیچے سے کھینچ لیا اور آپ کو زمین پر گرا دیا اور خنجر سے آپ کی ران پر زخم لگا دیا، لوگوں کی بے وفائی، معاویہ کے مال و زر کے سامنے بک کر امام سے خیانت اور حتی آپ کے قتل کے درپے ہونا۔۔۔۔۔ ایسے عوامل تھے کہ امام حسن(ع) نے 25 ربیع الاول 41 ہجری کو معاویہ کے ساتھ جنگ بندی کی، اسی طرح حکومت عدل کہ جس کی امام علی(ع) نے بنیاد ڈالی تھی جو غریب اور بینوا لوگوں کی خوشبختی کی نوید تھی آج اختتام کو پہنچی، پھر کیا تھا معاشرہ معاویہ اور اس کے بیٹے یزید کے ظلم و ستم کا شکار ہوا۔ ان تمام حالات اور مشکلات میں حضرت عباس اپنے بھائی امام حسن(ع) کے ساتھ کھڑےہیں۔ لوگوں کو اصل حقیقت کی شناخت کی طرف دعوت دے رہے تھے، پکار پکار کر لوگوں کو خواب غفلت سے بیدارکرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن جہالت اور خوف کی قبر میں سوئے لوگ جاگ نہ سکے۔ لیکن جب معاویہ کے کار ندے جیسےسمرۃ بن جندب، بسر بن ارطاۃ اور زیاد بن ابیہ کے تیغ تلے قتل عام ہوئے تو حکومت عدل علوی یاد آئی۔
حضرت عباس(ع) امام حسن(ع) کے دور امامت کے دوران آپ(ع) کی خدمت میں پا بارکاب تھے اور اس دور میں امام حسن(ع) کو معاویہ اور اس کے کارگزاروں کی جانب سے درپیش مسلسل مخالفتوں اور دشمنیوں اور سازشوں کے باوجود عباس(ع) پوری قوت سے بھائی کی حفاظت میں کوشاں رہے۔ جناب عباس(ع) اپنے بھائی امام حسن(ع) کے دور میں شیعیان آل رسول(ص) کے باب الحوائج تھے؛ غریبوں اور محتاجوں کو اپنے بھائی کے الطاف و عنایات سے بہرہ مند کرتے رہتے تھے۔ جو سائلین اور غرباء و مساکین اپنی حاجتیں امام حسن(ع) کے پاس لاتے تھے اپنے مسائل باب الحوائج کے سامنے بیان کرتے تھے اور آپ ان کے مسائل بھائی امام حسن(ع) کے لئے بیان کرتے تھے اور ان کے سلسلے میں بھائی کے جاری کردہ حکم پر عمل کرتے تھے۔
نیز، جس وقت امام حسن(ع) اسلام دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہوئے اور دشمنوں نے آپ کے جسم مبارک کو مدینہ میں تیروں کا نشانہ بنایا ، علوی و ہاشمی غیرت نے جناب عباس(ع) کا ہاتھ تلوار کے قبضے تک پہنچا دیا؛ لیکن آپ کو اپنے شہید بھائی کی بات یاد آئی چنانچہ امام وقت کی خالص پیروی نے آپ کو صبر و حلم کی دعوت دی۔ کتاب سپہ سالار عشق، ص47
یقینا امام حسن مجتبی(ع) کے حضور حضرت عباس(ع) کے فعال کردار کا بہترین گواہ امام صادق(ع) کا قول ہے؛ امام نے حضرت عباس(ع) کے زيارتنامے میں فرمایا: [سلام ہو آپ پر اے بندہ صالح، اے اللہ، اس کے اس کے رسول، امیر المؤمنین اور حسن اور حسین ص(علیھم السلام) کے مطیع و فرمانبردار۔ کتاب کامل الزیارات، ص786
حضرت عباس(ع) کے چچا اور پھوپھیاں
حضرت عباس علیہ السلام کے دادا حضرت ابو طالب(ع) کی زوجہ جناب فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبدمناف (1) تھیں اور پہلی ہاشمی خاتون تھیں جو ایک ہاشمی مرد کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور صاحب اولاد ہوئیں۔(2)(3) حضرت علی(ع) سمیت حضرت ابوطالب(ع) کے تمام فرزندوں کی ماں فاطمہ بنت اسد ہیں۔(4)
حضرت عباس علیہ السلام کے والد گرامی حضرت علی(ص) ، ان کے تمام چچا اور ان کی پھوپھیاں وہ پہلے ہاشمی ہیں جن کے والدین دونوں ہاشمی ہیں۔(5)(6)(7)
ابن سعد لکھتے ہیں: حضرت عباس علیہ السلام کے تین چچا اور تین پھوپھیاں تھیں جن کے نام ترتیب کے لحاظ سے یہ ہیں:
چچا:
1. طالب،
2. عقیل،‌
3. جعفر
پھوپھیاں:
1. ام ہانی بنت ابی طالب،
2. جمّانہ بنت ابی طالب
3. ربطہ بنت ابی طالب
حضرت ابو طالب(ع) کے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کی والدہ فاطمہ بنت اسد علیہا السلام ہیں۔ مروی ہے کہ ان کا ایک پانچواں بیٹا بھی تھا جس کا نام طلیق تھا اور اس کی والدہ کا نام "علّہ" تھا۔(8)

1. خوارزمی، موفق بن احمد، المناقب، ص46۔
2. ↑ ابن المغازلی‏، على بن محمد، مناقب الإمام على بن أبى طالب علیهما السلام، ص57۔
3. ↑ امین عاملى، سید محسن، أعیان الشیعة، ج1، ص325۔
4. ↑ ابن الجوزى، تذکرة الخواص، ص 22۔
5. ↑ طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الهدى، ج1، ص306۔
6. ↑ العاملى، جعفر مرتضى، الصحیح من السیرة النبی الأعظم، ج1 ص234 و 235۔
7. ↑ ابن الجوزى، تذکرة الخواص، ص21 و 22۔
8. ↑ ابن سعد، طبقات الکبری، ج1، ص121 و 122۔
حضرت عباس(ع) کی شادی اور اولاد
حضرت عباس(ع) کی شادی خانہ آبادی
جناب عباس(ع) لبابہ بنت عبید اللہ بن عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے(1) لبابہ بنت عبید اللہ اپنے زمانے کی پاکیزہ اور بزرگ خواتیں میں شمار ہوتی تھیں اور قرآن کے سائے اوراہل بیت کی محبت و اطاعت سے مالامال ماحول میں پرورش پا چکی تھیں۔ لبابہ بنت عبید اللہ کی والدہ اُمّ حكیم جویری بنت خالد بن قرظ كنانی، تھیں۔(2) حضرت عباس(ع) کی شادی کی تاریخ 40 سے 45ہجری میں انجام پائی تھی اور آپ شادی کے وقت 20 سالہ نوجوان تھے۔ جس کا ثمرہ دو بیٹے "فضل اور عبید اللہ" تھے۔ (3)
ایک روایت کے مطابق حضرت عباس کی پانچ اولادیں تھیں: چار بیٹے: "عبیدالله، فضل، حسن، قاسم" اور ایک بیٹی۔(4)
بہر حال آپ کی اولاد کے حوالے سے مؤرخین میں اختلاف ہے بعض منابع نے منقول ہے کہ آپ کے تین بیٹے تھے: عبیدا لله، حسن اور قاسم(5) بعض نے کہا ہے کہ آپ کے دو بیٹے: عبید اللہ اور محمد(6)تھے۔
1. البخاری
2. عبدالرزاق المقرم، العباس(ع)، نجف، مطبعة الحیدریة، بی تا، ص 195۔
3. ابن صوفی نسابه، وہی ماخذ، ص436۔ السید عبد المجید الحائری، ذخیرة الدارین، نجف، مطبعة المرتضویة، 1345 ق، ج 1، ص 145 ؛ وسیلة الدارین، ص 278۔
4. عبدالرزاق المقرم، العباس(ع)، نجف، مطبعة الحیدریة، بی تا، ص 195۔
5. بطل العلقمی، ج 3، ص 429۔
6. سید محسن امین العاملی، اعیان الشیعة، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406 ق، ج 1، ص 610۔
علامہ نجم الحسن کراروی مرحوم اسی بارے میں لکھتے ہیں کہ:
گیارہ سال کی عمر میں معرکہ صفین میں حصہ لیا، تقریبا چودہ سال کے سن میں بابا کے سایہ سے محروم ہوئے، دن گزرے، راتیں گزریں، بنام خدا پورے طور پر جوان ہوئے، ماں کے دل میں شادی کی تمنا تو تھی ہی لہذا انھوں نے امام حسین علیہ السلام سے کہا: سلطان دو عالم! کیا اچھا ہوتا اگر میرے نور نظر کا گھر آباد کر دیا جاتا، حضرت امام حسین علیہ السلام نے شادی کے انتظامات شروع کر دئیے اور جناب عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب سے ان کی دختر نیک اختر لبابہ خاتون کی خواستگاری کی، منظوری ہوئی اور عقد ہو گیا۔
جناب مولانا سید اولاد حیدر صاحب فوق بلگرامی نے آپ کی زوجہ کا اسم گرام ذکیہ تحریر کیا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے اس لئے کہ مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ کی زوجہ محترمہ کا نام نامی لبابہ تھا۔ لسان الملک اولاد حضرت عباس کے سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں کہ "و آنرا از لبابہ دختر عبیداللہ ابن عباس بن عبد المطلب دو پسر بود یکے فضل و دیگر عبید اللہ نام است" کہ حضرت عباس علیہ السلام کے لبابہ سے دو فرزند تھے ایک فضل دوسرے عبید اللہ الخ۔ ناسخ التواریخ ۔ج۶۔ص۲۸۹بمبئی
علامہ ابن قتیبہ عبیداللہ ابن عباس بن علی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’امہ لبابہ بنت عبیداللہ بن عباس‘‘عبیداللہ کی ماں کا نام لبابہ تھا۔ المعارف ص۹۶طبع مصر ۱۳۵۳ھ کبریت احمر
حضرت عباس (ع) کی تعداد اولاد
حضرت عباس بن علی السلام کی اولاد میں سخت اختلاف ہے علامہ ابن قتیبہ لکھتے ہیں کہ حضرت عباس علیہ السلام کے ایک ہی فرزند عبیداللہ تھے(المعارف ص۹۶مصری)
لسان الملک تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کے دو فرزند تھے ایک فضل اور دوسرے عبیداللہ (ناسخ التواریخ ج۶ص۲۸۹ طبع بمبئی ۔و شجرہ طوبی ج۱ص۱۲۶)
جناب خان بہادر مولوی سید اولاد حیدر صاحب فوق بلگرامی رمطراز ہیں کہ آپ کے دو صاحبزادے تھے اور ایک صاحبزادی صاحبزادوں میں ایک کا نام فضل اور دوسرے کا عبیداللہ تھا(ذبح عظیم ص ۲۱۰ طبع دہلی)
حضرت عباس(ع) کی نسل
ان کی نسل کے بارے میں علامہ عبد الرزاق موسوی لکھتے ہیں کہ تمام علمائے انساب کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ کی نسل سے صرف عبید اللہ ابن عباس سے بڑھی ہے۔ آپ کا شمار بہت بڑے علماء میں تھا آپ کمال اور جمال میں بہت امتیاز رکھتے تھے۔ آپ نے ۱۵۵ھ میں وفات پائی ہے۔
آپ کے بیٹے حسن بن عبیداللہ تھے جناب حسن نے ۶۷ سال کی عمر میں انتقال کیا۔
آپ کے پانچ بیٹے تھے ۔۱:عبیداللہ ۲:عباس ۳:حمزہ ۴:ابراہیم ۵:فضل ۔’’و کلھم اجلا فضلاء ادباء ‘‘سب کے سب عالم اجل فاضل اور ادیب دہر تھے ۔
۱:عبید اللہ ابن حسن ابن عبید اللہ ابن عباس بن علی ’’کان امیرا بمکۃ والمدینۃ قاضٰا علیھما‘‘ یہ امیر مکہ و مدینہ اور قاضی الحرمین تھے۔
۲:عباس بن حسن بن عبید اللہ ابن عباس ’’کان بلیغا فصیحا شاعرا‘‘ یہ زبردست بلاغت اور فصٓحت کے مالک تھے۔ شاعری میں بھی ملکہ تامہ رکھتے تھے۔ ابو نصر بخاری کا بیان ہے کہ ’’ما رای ھاشمی اغضب لسانا منہ‘‘ ان سے زبردست کوئی ہاشمی زبان کا مالک دیکھا ہی نہیں گیا۔ علویین انہیں اشعر اولاد ابی طالب کہتے تھے۔
۳:حمزہ بن حسن بن عبیداللہ بن عباس ۔ ان کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ ’’و کان یشبہ با امیرالمومنین‘‘ یہ حضرت علی علیہ السلام سے بہت مشابہ تھے۔
۴:ابراہیم جروقہ ابن حسن ابن عبیداللہ بن عباس ’’کان من الفقہاء الادباء الزھاد ‘‘یہ زبردست فقیہ، ادیب اور زاہد تھے۔
۵:فضل ابن حسن ابن عبیداللہ ابن عباس ’’کان لسنا فصیحا شدید الدین عظیم الشجاعۃ‘‘ یہ زبردست فصاحت کے مالک اور دین میں بہت پختہ تھے اور میدان شجاعت کے شہسوار تھے۔ لوگوں کی نظر میں آپ کی بے انتہا عزت تھی۔
(عمدۃ الطالب ص۳۵۳طبع لکھنوو تاریخ بغداد قمر بنی ہاشم ص۱۳۶)
حضرت عباس علیہ السلام کی نسل کافی پھیلی ہے آپ کے اولاد سے کثیر بزرگان کا ذکر کتب میں موجود ہے یہ خاص بات ہے کہ آپ کی نسل میں کوئی غیر عالم شاید ہی گزرا ہو۔ آپ کی نسل کے متعلق صاحب عمدۃ الطالب لکھتے ہیں کہ مکہ، مدینہ، مصر، بصرہ، یمن، سمرقند، طبرستان، اردن، حائز و میاط، کوفہ، قمر(یمن) شیراز، آمل، آذربائیجان، حیرجان مراکش وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔ آپ کی اولاد کو میرے نزدیک ’’سید علوی‘‘ کہنا چاہئے۔(علامہ نجم الحسن کراروی کی کتاب سے اقتباس)
حضرت عباس(ع) آئمہ طاہرین(ع) کی نظر میں
حضرت عباس علیہ السلام آئمہ طاہرین علیھم السلام کی نظر میں
اہل عصمت ہی سمجھتے ہیں تیری شانِ وفا
دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوں گے جو کسی بلندی پر فائز ہونے کے بعد دوست اور دشمن، طرفدار و ہمدرد اور مخالف نہ رکھتے ہوں لیکن مدح اس کی اچھی نظر سے دیکھی جاتی ہے جو خود بلند ترین درجہ کا مالک ہو اگر کوئی ایسی شخصیت موجود ہو جس کی مدح اللہ تعالیٰ کرے جس کی ستائش حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کریں اور جس کی تعریف میں آئمہ معصومین علیھم السلام رطب اللسان ہوں تو پھر اس کی فضیلت کی کوئی حد نہ ہو گی۔
حضرت عباس علیہ السلام کی ہستی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ خداوند عالم تذکرۃ الشھداء میں آپ کو سراہ رہا ہے اور ’’ لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ‘‘ کہہ کر مرنے کے بعد بھی آپ کو دیگر شھداء کی طرح زندگی دے رہا ہے اور غذا پہنچانے کا وعدہ فرما رہا ہے اور شھادت کے بعد بقول معصوم دونوں ہاتھوں کے بجائے دو پر پرواز دے کر جنت میں اڑنے کا موقع دے رہا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیدائش سے پہلے آپ کی شجاعت کی پیشین گوئی فرما رہے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام آپ کی ولادت کی تمنا پوری ہونے کے بعد جب اپنی آغوش میں آپ کو لیتے ہیں تو بے حد مسرور ہو کر کبھی رخسار کو اور کبھی دست و بازو کو چومتے ہیں۔
حضرت امام حسین علیہ السلام آپ کے مداح نظر آتے ہیں اور اپنی زندگی میں آپ سے استعانت چاہتے ہیں امام حسین علیہ السلام اپنے تمام امور میں آپ ہی کو مرکز سمجھتے ہیں اور آپ کے وجود کو لشکر کے برابر قرار دے کر عہدہ علمبرداری آپ ہی کے سپرد فرماتے ہیں۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام واضح الفاظ میں فرما رہے ہیں:
رَحَمَ اللہ العبّاس، فَلَقَدْ آثَر، و أبلي، و فدي اخاہ بنفسہ حتّی قطعت يداہ، فابدلہ اللہ (عزّ و جلّ) بہما جناحين يطير بہما مع الملائكہ في الجنّۃ، كما جعل لجعفر بن ابي طالب(ع)، و انّ للعباس عند اللہ (تبارك و تعالی) منزلہ يغبطہ بہا جميع الشّہداء يوم القيامہ (الخصال ج۱ص۳۵)
اللہ تعالیٰ میرے چچا حضرت عباس علیہ السلام پر رحم کرے انہوں نے قربانی پیش کرنے میں پورا پورا ایثار کیا۔اور امتحان گاہ میں بڑی کامیابی حاصل کی ۔اور اپنی جان امام حسین علیہ السلام پر قربان کر دی کہ دونوں ہاتھ تک کاٹے گئے (لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا بدلہ یہ ملا کہ انہیں جعفر طیار کی طرح جنت میں پر پرواز عطا کر دئیے ہیں بے شک حضرت عباس علیہ السلام کا درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہے کہ قیامت کے دن تمام شھداء غبطہ کریں گے۔اور لفظ جمیع الشھداء فرما کر اتنی بلندی دے دی ہے جس کی کوئی حد نہیں ۔کیونکہ ان میں وہ ہستیاں بھی آتی ہیں جو انبیاء علیھم السلام کے کار تبلیغ کی شھادت دینے والی ہیں ۔جیسے حضرت حمزہ و حضرت جعفر طیار(اصول کافی)اور اس کی تائید زیارت کے اس جملہ سے بھی ہوتی ہے فرمایا گیا ہے
(۲)السلام علیک ایھا الربانییون انتم لنا فرط و نحن لتکم تبع و انصار و انتم سادۃ الشھداء فی الدنیا والاخرۃ انھم لم یسبقھم سابق و لا یلحقھم لاحق۔ترجمہ: اے خدائی کار گزارو تم پر سلام ہو۔تم ہم سے پہلے چلے گئے ۔اور ہم تمہارے بعد آرہے ہیں۔ بے شک تم شھداء کے دنیا وآخرت میں سردار ہو۔
بے شک تم لوگ ایسے ہو کہ نہ تم جیسے پہلے شھداء گزرے ہیں اور نہ آئندہ گزریں گے۔(کامل الزیارات ص۲۱۹۔۲۷۰)
علامہ عبد الرزاق لکھتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے مذکورہ جملہ زیارت میں تمام دنیا کے شھداء کی سرداری شھدائے کربلا کے لئے ثابت فرما دی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ شہداء کربلا میں بعض امور اور خصوصی حالات کی بناء پر حضرت عباس علیہ السلام کو ان میں امام حسین علیہ السلام کے بعد سب سے بڑا درجہ حاصل ہوا ہے جس کی تصدیق
امام زین العابدین علیہ السلام کے ارشاد سے ہوتی ہے جہاں پر آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کو جنت میں دو پر دئیے گئے ہیں اور انہیں وہ فضیلت نصیب ہے جس پر جمیع شھداء غبطہ کریں گے(قمر بنی ہاشم صفحہ۵۴) اور چونکہ حضرت عباس علیہ السلام کو بہت سے امور میں دیگر شھداء سے زیادہ فضیلت حاصل ہے اور آپ کو بلند درجہ نصیب ہے ۔اسی لئے امامت کے بہت سے کاموں میں آپ مدد گار نظر آتے ہیں اور اہل بیت علیھم السلام میں عملاداخل دکھائی دیتے ہیں مثال کے لئے ملاحظہ ہو ۔
(۳) محب الدین طبری کتاب ذخائر التقمیٰ کے ص ۱۴۱ پر لکھتے ہیں کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے اور حضرت امام حسین علیہ السلام انکو غسل دینے لگے تو آپ نے حضرت عباس علیہ السلام کو طلب فرمایا اور پانی ڈالنے دیگر خدمات غسل میں بھی انہیں شریک فرمایا ۔اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ امام کو امام ہی غسل دے سکتا ہے کفن پہنا سکتا ہے نماز پڑھ سکتا ہے اور دفن کر سکتا ہے ۔(مدینۃ المعاجز میں علامہ ہاشم بحرانی صفحہ ۲۶۱ پر ہے) کہ آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور زمین پر تشریف فرما امام علیہ السلام کی مدد کر کے نبی یا امام کی تجہیز و تکفین کرتے ہیں جیسا کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں مفصل مرقوم ہے ۔(بصائر الدرجات صفاء ج۵باب ۳ صفحہ ۶۰ میں ہے) کہ پیغمبراسلامکو غسل دیتے وقت حضرت علی علیہ السلام کی مدد ملائکہ کر رہے تھے ۔جنہیں آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے
علامہ شیخ عباس قمی النفس المہموم کے صفحہ ۲۰۵ پر رقم طراز ہیں کہ واضح ہو کہ یہ امر اپنی جگہ پر ثابت ہو چکا ہے کہ معصوم کا دفن و کفن معصوم ہی کرتا ہے اور امام کے سواامام کو کوئی غسل نہیں دیتا ۔اگر امام کی وفات مشرق میں ہو اور اس کو وصی مغرب میں ہو تو خدا وند عالم دونوں کو یکجا کر دیتا ہے ۔الخ
اب ایسی صورت میں جب کہ آپ کو امام حسین علیہ السلام کے غسل میں شریک کیا ۔آپ کی بلندی مرتبت کے متعلق کیا رائے قائم کی جا سکتی ہے ۔اور کیوں نہ سمجھا جائے کہ آپ کا درجہ
درجہ آئمہ طاہرین علیھم السلام کے بعددنیا میں سب سے بلند ہے اور کیوں نہ انہیں عصمت غیر اسکتفائیہ سے متصف سمجھا جائے ۔کیونکہ اگر ان کے لئے عصمت واجب نہ تھی جیسے آئمہ معصومین کے لئے تھی جسے عصمت استکفائیہ کہتے ہیں جو معرفت علم و یقین میں کسی کے محتاج نہ تھے تو بسبب احتیاج الی المعصومین بوجہ
عمل و کردار اور عدم صدور گناہ انہیں معصوم غیر استکفائی تسلیم کیا جائے جیسا کہ کتاب قمر بنی ہاشم ص۶۱میں بحوالہ کتاب اتقان المقام ص ۷۵ مذکور ہے اور پھر ایسی صورت میں جب کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے آپ کے لئے اس بات کی نص فرما دی ہے کہ تمام شھداء آپ کے درجہ رفیعہ پر فائز ہونے پر غطبہ کریں گے۔ظاہر ہے کہ شھداء میں حضرت علی علیہ السلام بھی شامل ہیں ۔تو جسے ایسا درجہ مل سکے جس پر حضرت علی علیہ السلام جیسی شخصیت غبطہ کرے تو اس کے مرتبے اور درجے کی بلندی کا کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے آپ کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے اس سے آپ کی بلندی مقام کا پتہ چلتا ہے ۔ایک مقام پر آپ نے ارشاد فرمایا ہے ’’کان عمنا العباس نافذ البصیرت صلب الایمان‘‘میرے چچا عباس بن علی کمال بصیرت اور بہترین ایمان کے مالک تھے۔ایک مقام پر زیارت اقدس حضرت عباس کے سلسلہ میں فرماتے ہیں۔’’اشھد لقد نصحت للہ و رسولہ و الاخیک فنعم الاخ الموسیٰ ‘‘میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔
علامہ عبد الرزاق موسوی مقرم لکھتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے حضرت عباس علیہ السلام کی شہادت کو حضرت امام حسین علیہ السلام کی معیت میں اس درجہ پر پہنچا دیا کہ جس سے بلند درجہ اور نہیں ہو سکتا یعنی اب ایسی صورت پیدا ہوگئی کہ گویا حضرت عباس نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حمایت کاملہ کی اور اس سلسلہ میں ان کے یقین کا کمال اور توحید کی تکمیل اور دین و ایمان کی انتہا واضح ہو گئی۔
(۵)علامہ عبد الرزاق موسوی اپنی کتاب قمر بنی ہاشم میں بحوالہ تاریخ طبری ج۲ص۲۳۷۔رقمطراز ہیں کہ جب ہم شب عاشور کے واقعات میں یہ دیکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام


عباس بن علی علیہ السلام سے اس وقت جب کہ لشکر آپہنچا تھا ۔یہ فرمایا کہ ’’ارکب بنفسی یا آخی ‘‘اے میرے بھائی تجھ پر میری جان فدا ہو جائے ذرا جا کر دیکھ تو سہی کہ یہ لوگ کیوں آئے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یقینا عباس علیہ السلام کا درجہ آئمہ معصومین کی نظر میں اس درجہ بلند ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں ۔اور اس کی مزید وضاحت اس چیز سے ہوتی ہے کہ آپ کے اور دیگر شہداء کربلا کے لئے زیارت جامعہ وارثہ میں فرمایا گیا ہے ۔’’بالی انتم و امی طبتم و طابت الارض التی فیھا دفنتم ‘‘میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ۔تم بر؁ اچھے اور زمین خوش نصیب ہے کہ جس میں تم دفن کئے گئے ۔زیارت کے ان جملوں سے شہداء کربلا کی بلندی کی حد ختم ہو گئی ۔اللہ اکبر! معصوم کائنات کا یہ فرمانا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ۔کتنا بلند جملہ ہے اور اس سے بڑی کیا فضیلت ہو سکتی ہے۔
(۷)کتاب مصباح التہجد شیخ طوسی ؒ میں تحریر ہے کہ صفوان کہتے ہیں ۔میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ حضور زیارت سید شہداء کس احترام سے کریں۔’’ارشاد ہوا اے صفوان ! جب زیارت کا ارادہ کرو تو تین روز قبل سے روزہ رکھو اور جب ہائر میں پہنچو تو کہو ۔اللہ اکبر کبیرا۔الخ پھر علی بن الحسین کی پائنتی کی طرف سے نکل کر آگے بڑھواور شہدائے کربلا کو مخاطب کر کے کہو ’’ السلام علیکم یا اولیاء اللہ ‘‘ اے اولایاء اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم پر سلام ہو ۔امام علیہ السلام نے یزارت میں حاضرکی ضمیر اس لئے فرمائی ہے کہ یہ شہداء سلام راہراہ خدا میں شہیدا ہوئے ۔اور شہدائے راہ خدا زندہ ہوتے ہیں ۔’’لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء‘‘
(۸)حضرت عباس علیہ السلام کے بلندی مدارج کا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ جب آپ نے عمر بن سعد سے رات کے وقت ملاقات کی تھی تو اس موقع پر آپ کےہ مراہ حضرت عباس علیہ السلام اور حضرت علی اکبر علیہ السلام تھے اور اسی طرح عمر بن سعد کے ہمراہ بھی اس کا غلام اور فرزند تھا ۔(ناسخ الواریخ ۔ج۶ص۲۳۸طبع بمبئی)
(۹)اسی طرح جب روز عاشورا عورات بنی ہاشم میں شور فریاد فغاں بلند ہوا تو حضرت امام حسین علیہ السلام نے حضرت عباس علیہ السلام سے فرمایا۔’’ان یسکتھن ‘‘اے عباس خیمہ میں جاؤ اور عورتوں اور بچوں کو خاموش کو۔اس لئے کہ اگر دشمن رونے کی آواز سنیں گے

گے تو شماتت کریں گے۔چنانچہ حضرت عباس علیہ السلام داخل خیمہ ہوئے اور سب کو سمجھا بجھا کر خاموش کیا ۔(قمر بنی ہاشم ص۵۸)

(۱۰)حضرت امام حسین علیہ السلام نے کمال اعتماد کی وجہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو علمدار لشکر قرار دسیا تھا ۔اور آپ امتحان اکبر کے موقع پر حامل اللواء تھے۔یہی سبب ہے کہ آپ کی شھادت سب سے بعد میں ہوئی ۔
(۱۱)حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس وقت جب کہ حضرت عباس علیہ السلام اجازت جنگ کے لے حاضر ہوئے ۔فرمایا کہ ’’اذا مجیت تفرق عسکری‘‘اے بھائی تم کیا اجازت جنگ مانگ رہے ہو ارے میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اگر تم چلے گئے تو پھر میرا سارا لشکر تتر بتر ہو جائے گا۔(امام حسین علیہ السلام کا تفرق عسکری)فرمانا واضح کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام تنہا حضرت عباس کو لشکر کے برابر سمجھتے تھے ۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ امام حسین علیہ السلام کو حضرت عباس پر کس درجہ اطمینان ،اعتماد اور بھروسہ تھا۔
(۱۲)حضرت عباس علیہ السلام کی حیثیتاور فضیلت کا اس سے بھی نمایاں طور پر اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ جب حضرت امام زین العابدین علیہ السلام دفن شہداء کے لئے کربلا تشریف لائے تھے تو آپ نے دیگر شہداء کے دفن میں بنی اسد سے مدد لی تھی ۔اور حضرت امام حسین اور حضرت عباس علیہ السلام کا لاشہ خود تن تنہا دفن کیا تھا ۔خود قبر میں اترے تھے کسی نے کہا :مولا ہم مدد کریں تو فرمایا’’ان معی من یعنینی‘‘ان کے دفن کے لئے ہمارے پاس مدد گار موجود ہیں ۔اور ہم ان کی مدد سے دفن کر رہے ہیں ۔(دمعہ ساکبہ ص ۳۵۵ بحوالہ اسراء الشھادار و قمر بنی ہاشم ص ۵۸ بحوالہ ہدیث الایقادنشاہ عبد العظیم)
(۱۳)حضرت عباس علیہ السلام کے لئے یہ اہم فضیلت بھی موجود ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا شفاعت امت کے لئے انہیں کے ہاتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش فرمائیں گی۔(کتاب جواہر الایقان صفحہ۱۹۴)

(۱۴) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا حضرت عباس علیہ السلام کو اپنا فرزند فرمایا کرتی تھیں ۔کتابوں میں موجود ہے کہ آپ نے ایک شخص سے خواب میں فرمایا تھا کہ ’’تزور ابنی الحسین و لاتزورابنی العباس ‘‘ میرے ایک بیٹ؁ حسین کی تو زیارت کر آتا ہے اور میرے دوسرے بیٹے عباس کی زیارت کو نہیں جاتا۔ مقام حشر میں آپ کا ارشاد ہو گا ’’کفانا لاجل ھذا المقام الیدان المقطوعتان من ابنی العباس ‘‘(اسرار الشھادات ص ۳۲۵ طبع ایران)
(۱۵) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت عباس علیہ السلام کی مستند زیارت میں فرماتے ہیں : سلام اللہ وسلام ملائکتہ المقربین و انبیاء المرسلین و عباد ہ الصالحین و جمیع الشھداء والسدیقین الزاکیات الطیبات فیما تغدی و تروح علیک یابن امیر المومنین ‘‘ غور کرنے کی بات ہے کہ وہ امام جو اسرار قلوب اور تخیل اذہان سے واقف ہے وہ ارشاد کرتا ہے کہ حضرت عباس بن علی پر اللہ اور ملائکہ مقربین انبیاء المرسلین اور ساری کائنات کے بندوں اور دنیا کے تمام شہداء اور صدیقین کے پاک و پاکیزہ سلام ہوں۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کن مدارج پر فائز تھے۔’’کتاب قمر بنی ہاشم صفحہ ۶۳میں ہے کہ ’’ فکل ھؤلاء یتقربون الی اللہ بالدعاء لہ واستنزال الرحمۃ منہ‘‘ تمام ملائکہ انبیاء ْصالح بندوں اور تمام دنیا کے شہداء اور صدیقین حضرت عباس علیہ السلام پر دعا کے وسیلہ سے بارگاہ احدیت میں تقرب حاصل کرنے اور رحمت کیاستدعا کرنے کے قائل ہیں ۔
.میں کہتا ہوں کہ حضرت عباس علیہ السلام کی زیارت کے مذکورہ جملوں کو پیش نظڑ رکھنے کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے الفاظ کو پڑھا جائے تو معلوم ہو کہ حضڑت عباس علیہ السلام کا درجہ کتنا بلند ہے ۔امام حسین علیہ السلام کی زیارت میں یہ الفاظ موجود ہیں ۔’’ سلام اللہ و سلام ملائکتہ فیما تروح و تفدی والزاکیات الطاھرات لک و علیک سلام الملائکۃ المقربین والمسلمین لک بقلوبھم والناطقین بفضلک ‘‘ الخ

دونوں زیارات کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی نظر میں دونوں شہید بلند مرتبہ ہیں (بحار الونار کتاب المزار بحوالہ کامل الزیارات)
میرا خیال ہے کہ مساوات اسلامی میں اس سے بہتر کوئی نظیر نہیں مل سکتی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے خدمات کے پیش نظر آقا و غلام کو ایک ہی جیسا درجہ عنایت کر دیا ہے ۔ہو سکتا ہے کہ مولا نے واقعہ کربلا میں عمل و سیرت حسینی کی رعایت کی ہو اس لئے کہ امام حسین علیہ السلام نے یوم عاشورا جس زانو پر حضرت علی اکبر کا سر رکھا تھا تو اسی زانو پر جناب حر اور دیگر غلاموں کا سر بھی رکھا تھا۔
زیارت میں ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے ۔’’اشھد لک بالتسلیم والتصدیق والوفاء والنصیحۃ کلف النبی المرسل ‘‘میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ اے عباس تم منزل تسلیم و تصدیق اور وفاء و نصیحت پر فائز ہوحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ان جملوں نے بھی حضرت عباس علیہ السلام کی بلندی مرتبت پر روشنی ڈالی ہے کیونکہ یہ منازل سالیکن میں بہترین منزلیں ہیں اور جنہیں یہ منزلیں نصیب ہو جائیں ان کی بلندی مقام کا کوئی ٹھکانا نہیں ۔


(۱۷)ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے ’’ لعن اللہ من جعل حقک و ستخف بحرمتک ‘‘ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے تمہارے حق کی پرواہ نہیں کی اور تمہارا احترام نہیں کیا ۔
زیارت کے اس جملہ میں حضرت عباس علیہ السلام کو منفردا یاد کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ جس نے تمہارے حق سے غفلت کی اس پر لعنت ہے ۔یہ ظاہر ہے کہ جملہ شہدائے کربلا صفائے ضمیر اور خدمات کے لحاظ سے بہت بلندی کے مالک ہیں ۔لیکن جو درجہ کمال حضرت عباس علیہ السلام کو حاصل تھا ۔وہ شاید حضرت امام حسین علیہ السلام پر قربان ہونے والوں میں کسی اور کو نصیب نہ تھا۔
(۱۸)آپ اس زیارت میں جو حرم میں داخل ہوتے وقت پڑھی جاتی ہے ۔فرماتے ہیں اشھد و اشھد اللہ انک مضیت علی ما مضی بہ البدریون : ہم اور خدا گواہی دیتے ہیں کہ اے عباس تم اس طرح تحفظ اسلام کے میدان میں گزر گئے جس طرح بدروالے گزرے ہیں ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ فرمانا واخح کرتا ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام نے اس وقت اسلام کی حمایت کی جب کہ اسلام ختم ہورہا تھا ۔کیونکہ بدر کے مجاہدین سے مشابہت دی ہے اور جنگ بدر اس وقت ہوئی تھی جب اسلام انتہائی کمزور تھا ۔اگر بدر کے مجاہد ہمت نہ کرتے تو اسلام اپنی پہلی منزل میں ختم ہو جاتا ۔لیکن انہوں نے کمال ہمت سے قربانی دے کر اسلام کو بچا لیا تو جس طرح بدر میں اسلام کمزور نہ تھا اسی طرح کربلا میں بھی اسلام اختتام کی منزل تک پہنچ رہا تھا ۔اگر واقعہ کربلا نہ ہوتا اور عباس جیسوں نے کمال دلیری سے قربانی نہ پیش کی ہوتی تو اسلام رخصت ہو جاتا۔(۱۹) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ’’اشھد انک قد بالغت
فی النصیحۃ و اتیت غایت المجھود فبعثک اللہ فی الشھداء و جعل روحک مع ارواح السعداء و اعطاک من جنانہ افسحھا منزلا و افضلھا غرقا ‘‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم


نے نصیحت شھادت میں کمال حاصل کر لیا اور بے انتہاء سعی و کوشش سے جہاد کیا ۔یہی سبب تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں شہداء میں مبعوث ہونے کا درجہ دے دیا ۔اور تمہاری روح کو ارواح سعداء میں بلند مقام عطا کیا اور جنت میں سب سے زیادہ وسیع اور بہترین جگہ عنایت فرمائی۔امام علیہ السلام کے یہ جملے حضرت عباس علیہ السلام کی خصوصی فضیلت کا پتہ دیتے ہیں ۔
(۲۰)ایک مقام پر آپ ارشاد فرماتے ہیں ’’رفع ذکرک فی علیین ‘‘اے عباس تمہارا ذکر اعلیٰ علیین میں لوگوں کی زبان پر ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کا کیا درجہ ہے ۔اللہ اکبر! اس ہستی کا کیا کہنا جس کا ذکر اعلیٰ علیین میں موجود ہو۔
(۲۱)حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام مطابق روایت مزار بحار صفحہ۱۶۵ پر ارشاد فرماتے ہیں’’لعن اللہ امتہ استحلت منک المحارم و انتھک فیک حرمۃ الاسلام ‘‘اللہ تعالیٰ اس امت پر لعنت کرے کہ جس نے تمہاری عزت نہ کی اور اپنی سمجھ میں تمہیں رسوا کر کے اسلام کو ذلیل کرنے کی کوشش کی ۔یہ ظاہر ہے کہ جس کی عزت اسلام کی عزت اور جس کی ذلت اسلام کی ذلت ہو اس کا درجہ کتنا بلند ہو گا۔
(۲۲)حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ۱۵ رجب کی زیارت میں ارشاد فرماتے ہیں :السلام علیک یا مھدیون ۔السلام علیکم یا طاھرون من الانس‘‘۔اے کربلا کے ہدایت یافتہ شہیدو تم پر میرا سلام ہو اور اے گناہوں سے پاک و پاکیزہ تم پر میرا سلام ،اس زیارت کا آخری جملہ عصمت کی طرف اشارہ کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے دیگر بے شمار فضائل کے حوالہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو معصوم قرار دیا ہے۔
(۲۳)حضرت صاحب الامر امام مہدی آخر الزماں علیہ السلام زیارت ناحیہ مقدسہ میں
نہایت شد و مد سے ذکر فرماتے ہیں ۔ارشاد ہوتا ہے السلام علی ابی الفضل العباس بن امیر المومنین المواسی اخاہ بنفسہ ‘‘ ابو الفضل العباس بن امیر المومنین پر سلام ہو جنہوں نے کربلا میں اپنے بھائی پر جان نثار کر دی ۔اور پانی کی طلب میں اپنے دونوں ہاتھ قربان کر دئیے ۔(شفاء الصدور شرح زیارت عاشورا ص ۱۱۱ طبع بمبئی)
امام حسین(ع) کے ہمراہ سرزمین شہادت کا سفر
سرزمین شہادت کی طرف
یزید ملعون نے عمرو بن سعید بن عاص کو ایک لشکر کے ساتھ حاجیوں کے لباس میں بھیجا اور اسے حکم دیا کہ اگر امام حسین علیہ السلام خانہ کعبہ کے پردوں میں بھی ہوں تب بھی انہیں قتل کردو۔ امام حسین علیہ السلام تک جب یہ خبر پہنچی تو آٹھ ذی الحجہ کو آپ نے اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کیا اور احرامِ حج کھول دیئے تا کہ ان کے قتل سے کعبہ اور ماہِ حج کی حرمت پامال نہ ہو اور دوسری طرف جناب مسلم علیہ السلام کی طرف سے بھی امام حسین علیہ السلام کو ایک خط مل چکا تھا کہ جس میں لکھا ہوا تھا کہ کوفہ والے جان و مال کے ذریعے فرزندِ بتول کی مدد و نصرت کے لیے تیار ہیں اور اپنے ملک میں حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی حکومت کی مثل حکومت قائم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔
پس حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے کہ جن کو ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے اہلِ بیت علیھم السلام کے جوانوں نے گھیر رکھا تھا اور ان جوانوں کی سربراہی حضرت عباس علیہ السلام کر رہے تھے حضرت عباس علیہ السلام کے ہاتھوں میں موجود علم مکہ سے کربلا تک اپنے بھائی پہ سایہ فگن رہا پورے راستے میں حضرت عباس علیہ السلام نے اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے بچوں اور خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعلق رکھنے والی خواتین کا مکمل خیال رکھا اور پورے قافلہ کی مکمل دیکھ بھال کی اور پورے راستے میں خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچوں کو کوئی معمولی سی بھی تکلیف نہ پہنچی اور ان کے آرام و سکون کا اتنا زیادہ خیال رکھا کہ جس کو بیان کرنا یا تحریر کرنا قلم کے بس میں نہیں۔
ان مشکل ترین حالات میں امام حسین علیہ السلام اس یقین کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ جن لوگوں نے کوفہ آنے کی دعوت دی ہے وہی لوگ مجھے اور میرے اہل بیت علیھم السلام و انصار کو شہید کریں گے۔ راستہ میں امام حسین علیہ السلام کی ملاقات مشہور و معروف شاعر فرزدق ھمام بن غالب سے ہوئی تو فرزدق نے امام حسین علیہ السلام سے کہا اے فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کس وجہ سے آپ اتنی جلدی میں حج ترک کر کے آئے ہیں؟
تو امام حسین علیہ السلام نے ساری صورت حال کو واضح کرتے ہوئے فرمایا اگر میں اتنی جلدی نہ کرتا تو وہ مجھے وہیں قتل کر دیتے۔ پھر امام علیہ السلام نے فرزدق سے پوچھا کہاں سے آرہے ہو؟ فرزدق نے جواب دیا کہ میں کوفہ سے آرہا ہوں۔ پھر امام علیہ السلام نے پوچھاکوفہ کے لوگوں کی کیا صورت حال ہے؟ تو فرزدق نے حقیقت حال کو واضح کرنے کے لیے کہا کوفہ والوں کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن تلواریں آپ کے خلاف بنی امیہ کے ساتھ ہیں اور قضا و قدر آسمان سے نازل ہو رہی ہے اللہ جیسا چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پس امام علیہ السلام نے فرزدق کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا تم نے سچ کہا گزری ہوئی اور آنے والی ہر چیز خدا کی قدرت میں ہے وہ جیسا چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے ہر روز ہمارے رب کی ایک نئی شان ہے پس اگر خدا نے قضا و قدر کو اس طرح سے قرار دیا کہ جس کو ہم پسند کرتے ہیں تو ہم اس کی نعمات پر اس کی حمد و ثناء کرتے ہیں اور وہی شکر کی ادائیگی میں مدد کرنے والاہے اور اگر امید کے بر خلاف قضا و قدر مقرر ہوئی تو اس شخص کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ جس کی نیت حق پر مبنی ہو اور جس کا ارادہ تقویٰ پر مشتمل ہو اور پھر امام علیہ السلام نے یہ اشعار پڑھے
لئن کانت الدنیا تعد نفسیة فدار ثواب اللہ اعلی و انبل
و ان کانت الابدان للموت انشئت فقتل امریء بالسیف فی اللہ افضل
و ان کانت الارزاق شیئ مقدرا فقلة سعی المرء فی الرزق اجمل
و ان کانت الاموال للترک جمعھا فما بال متروک بہ امرء یبخل
ترجمہ: اگر دنیا نفیس و خوبصورت شمار ہوتی ہے تو اللہ کی طرف سے عطا کردہ اجر و ثواب کے طور پر گھر اس دنیا سے کہیں زیادہ اعلیٰ و بہترہے۔ اور اگر یہ جسم موت کے لیے پیدا ہوئے ہیں تو انسان کا خدا کی راہ میں تلوار سے قتل ہونا بہت ہی افضل ہے۔ اور اگر رزق تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے تو انسان کا رزق کے لیے کم کوشش کرنا بہت ہی اچھا ہے۔ اور اگر سارا کا سارا مال اسی دنیا میں چھوڑ کر جانا ہے تو اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جو چھوٹ جانے والی چیز میں کنجوسی کرتا ہے۔ یہ اشعار امام حسین علیہ السلام کے زہد و تقویٰ اور دنیا میں رغبت نہ ہونے اور خدا سے ملاقات کے شوق پر دلالت کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں جہاد اور شہادت کے ارادے کو واضح کرتے ہیں۔
امام علیہ السلام کی فرزدق سے ملاقات کے بعد ظاہری طور پر بالکل واضح ہو گیا کہ لوگ حق کی مدد و نصرت کے لیے تیار نہیں ہیں فرزدق کا عرب معاشرے میں اپنی فہم و فراست اور دوسرے بہت سے امور کے حوالے سے ایک خاص مقام تھا لیکن فرزدق جیسے آدمی نے بھی جب دیکھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نواسہ جہاد اور شہادت کے لیے جا رہا ہے اور باطل پرستوں کی تمام قوتیں امام حسین علیہ السلام کے قتل کے در پے ہو چکی ہیں تو اس نے بھی اپنی دنیاوی زندگی کو شہادت پر ترجیح دی اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ان کے مشن میں شریک نہ ہوا پس جب فرزدق جیسے آدمیوں کا یہ حال تھا تو لوگوں میں سے جاہل اور عام افراد کی کیا صورت حال ہو گی۔

جناب مسلم علیہ السلام کی شہادت کی خبر
کتاب منتہی الامال (احسن المقال) میں شیخ مفید سے منقول ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا یہ قافلہ صحراؤں کو عبور کرتا ہوا جب (زرود)پہنچا تو کوفہ کی طرف سے ایک شخص آتا ہوا دکھائی دیا جب اس شخص نے امام حسین علیہ السلام کو آتے ہوئے دیکھا تو اس نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا لیکن امام حسین علیہ السلام اس شخص کو دیکھ کر رک گئے تاکہ اس سے کوفہ کے حالات پوچھ سکیں لیکن جب اس شخص نے اپنا راستہ تبدیل کیا اور سفر کو جاری رکھا تو عبد اللہ بن سلیمان اور منذر بن مشھل تیزی سے اس شخص کے پاس گئے اور اس سے کوفہ کے حالات کے بارے میں دریافت کیا تو اس شخص نے بتایا کہ میرے کوفہ سے نکلنے سے پہلے جناب مسلم علیہ السلام اور جناب ہانی شہید ہو چکے تھے اوران کی لاشوں کو بازاروں میں گھسیٹا جا رہا تھا۔ پس ان دونوں نے کوفہ سے آنے والے شخص کو الوداع کیا اور دوبارہ امام حسین علیہ السلام کے قافلہ کے ساتھ آ کر مل گئے۔ جب مقام ثعلبیہ پہ امام حسین علیہ السلام کا قافلہ آکر رکا تو یہ دونوں افراد امام حسین علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا خدا آپ پر رحمتیں نازل فرمائے ہمارے پاس ایک خبر ہے اگر آپ چاہیں تو ہم اس کو سب کے سامنے آپ سے بیان کرتے ہیں اور اگر آپ چاہیں تو تنہائی میں آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں۔ تو امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کی طرف دیکھا اور فرمایا میں اپنے اصحاب سے کوئی بات نہیں چھپانا چاہتا۔ تو ان دونوں نے کہا کیا آپ نے کل عشاء کے وقت ایک سوار کو آتے ہوئے دیکھا؟۔۔۔۔۔۔ تو امام علیہ السلام نے فرمایا میں نے اسے دیکھا تھا میں اس سے کوفہ کے حالات دریافت کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ تو ان دونوں نے کہا ہم اس کے پاس گئے تھے اور اس سے حالات کے بارے میں دریافت کیا تھا اس سوار نے ہمیں بتایا تھا کہ اس کے کوفہ سے نکلنے سے پہلے جناب مسلم علیہ السلام اور جناب ہانی شہید کر دیئے گئے تھے اور ان کی لاشوں کو بازاروں میں گھسیٹا جا رہا تھا۔ اس افسوس ناک خبر کو سنتے ہی اولادِ علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کے دل غم و الم سے بھر آئے اور سب ہی گریہ کرنے لگے، خاندان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین کی بھی رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں اور وہ جگہ رونے کی آوازوں سے لرزنے لگی۔ اس خبر کے سننے کے بعد سب پر یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ اہل کوفہ نے دھوکہ دیا ہے اور امام حسین علیہ السلام کی بیعت کو توڑ دیا اور اب سب کا وہی انجام ہو گا کہ جو جناب مسلم علیہ السلام کا ہوا ہے۔ پس حضرت امام حسین علیہ السلام نے جناب عقیل کی اولاد کو مخاطب کر کے فرمایا جنا ب مسلم علیہ السلام تو شہید ہو گئے ہیں اب آپ کی کیا رائے ہے؟۔۔۔۔۔۔۔ تو انہوں نے نہایت شجاعت اور دلیری سے جواب دیتے ہوئے کہا خدا کی قسم یا تو جناب مسلم علیہ السلام کا بدلہ لے کر لوٹیں گے یا پھر ہم بھی جناب مسلم علیہ السلام کی طرح جامِ شہادت نوش کریں گے۔ اما م علیہ السلام نے بھی فرمایا ان ساتھیوں کے بغیر اس دنیا میں کوئی خیر و بھلائی نہیں۔۔۔۔۔۔ پس امام حسین علیہ السلام نے یہ اشعار پڑھے
سأمضی وما بالموت عار علی الفتی اذا ما نویٰ حقا و جاھد مسلما
فان مت لم اندم و ان عشت لم الم کفی بک عاراً ان تذل و ترغما
یعنی : میں اپنے سفر کو جاری رکھوں گا جوان کے لیے موت اس وقت برائی نہیں ہے کہ جب اس کی نیت عینِ حق اوراس کا جہاد عینِ اسلام ہو۔ پس اگر میں اس دنیا سے چلا گیا تو مجھے کوئی ندامت نہ ہو گی اور اگر زندہ رہا تو کوئی دکھ نہ ہو گا تمہارے لیے یہی ننگ و عار کافی ہے کہ تم نے ذلت اور مغلوب ہو نے کو اختیار کرو۔
پس امام حسین علیہ السلام مکمل عزم و حوصلہ اور پختہ ارادہ کے ساتھ جہاد اور شہادت کی طرف بڑھے اور عزت و شرف اورسربلندی کو اختیار کیا اور ان لوگوں کے سامنے سر نہ جھکایا کہ جو دنیا کی فانی لذات اور آخرت کے عذاب میں غرق ہو چکے تھے

جناب عبد اللہ بن یقطر کی خبرِ شہادت
امام حسین علیہ السلام کا قافلہ جب مقامِ زبالہ پہ پہنچا تو انہیں جناب عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی خبر ملی کہ جن کو امام حسین علیہ السلام نے جناب مسلم علیہ السلام کی طرف بھیجا تھا۔ حکومتی سپاہیوں نے جناب عبد اللہ بن یقطر کو گرفتار کرکے ابن زیاد ملعون کے سامنے پیش کیا تو اس ملعو ن نے چیخ کر جناب عبد اللہ بن یقطر سے کہا: منبر پر جا کر کذاب ابن کذاب (حسین بن علی)پر لعنت کرو تا کہ میں تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ کروں۔۔۔۔۔۔۔
ابن زیاد ملعون نے خاندان رسول اور اہل بیت علیھم السلام کے پاس تربیت حاصل کرنے والے کو اپنے بے دین سپاہیوں اور اپنے دین فروش ساتھیوں کی طرح سمجھا اور یہ گمان کیا کہ عبد اللہ بن یقطر اس کے کہنے پر عمل کریں گے لیکن جب جناب عبد اللہ بن یقطر منبر پر تشریف لے گئے تو بلند آواز سے فرمایا
اے لوگو میں حسین بن فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سفیر ہوں آپ سب امام حسین علیہ السلام کی مدد و نصرت کریں اور حرام زادے کے حرام زادے بیٹے ابن زیاد کے خلاف ان کی حمایت و مدد کریں۔
پس جناب عبد اللہ بن یقطر نے جب بغیر کسی خوف کے حق کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور لوگوں کو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسہ کی مدد کی دعوت دی تو ابن زیاد ملعون نے سپاہیوں کوحکم دیا کہ انہیں قصر الامارہ کی چھت سے نیچے گرا دیا جائے پس ان ملعونوں نے جناب عبد اللہ بن یقطر کو قصر الامارہ کی چھت سے نیچے گرا دیا جس سے ان کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور ابھی ان میں زندگی کی رمق باقی تھی کہ خبیث عبد الملک بن عمیر جلدی سے آگے بڑھا اور ابن زیاد کا قرب حاصل کرنے کے لیے اس نے جناب عبد اللہ بن یقطر کو ذبح کر دیا۔
پس جب اما م حسین علیہ السلام کو جناب عبد اللہ بن یقطر کی خبرِ شہادت موصول ہوئی تو آپ نے اپنے اصحاب کو جمع کیا اور فرمایا ہمارے شیعہ ہونے کا دعوی کرنے والوں نے ہم سے دھوکہ کیا ہماری مدد سے دستبردار ہو گئے پس جو شخص ہم سے الگ ہونا چاہتا ہے وہ الگ ہو جائے ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
پس وہ لوگ جو طمع و لالچ اور دنیاوی عہدوں اور راحت و سکون کے لیے امام علیہ السلام کے ساتھ آئے تھے وہ یہ خبر سن کر امام علیہ السلام سے جدا ہو گئے اور فقط وہ لوگ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ باقی رہ گئے جو بغیر کسی طمع و لالچ کے ازروئے ایمان و یقین آپ کے ہمرکاب ہوئے تھے اور اپنے لیے امامِ وقت کی مدد و نصرت کو واجب سمجھتے ہوئے آپ کے ساتھ آئے تھے۔
امام علیہ السلام نے اپنے اصحاب پر یہ واضح کر دیا کہ وہ شہادت کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں نا کہ حکومت و سلطنت کی طرف۔ امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو صاف طور پر یہ بتا دیا کہ جو بھی ساتھ رہے گا شہادت کے ذریعے خدا کی رضا حاصل کرے گا۔ پس امام علیہ السلام نے ہر موقع پر اپنے ساتھیوں کو اپنے سے جدا ہونے کا اختیار دیا اور انہیں انجام سے آگاہ کیا۔
پس اگر امام حسین علیہ السلام کا اس قیام سے مقصد حکومت حاصل کرنا ہوتا تو وہ ان حالات میں اپنے ساتھیوں کو اپنے سے الگ ہونے کا نہ کہتے اور نہ ہی یہ تمام خبریں سننے کے بعد سفر کو جاری رکھتے

لشکر حر سے ملاقات
امام حسین علیہ السلام جب صحراؤں کا سفر کرتے ہوئے مقام شراف پہ پہنچے تو امام علیہ السلام نے جوانوں کو یہاں کے چشمہ سے زیادہ سے زیادہ پانی بھرنے کا حکم دیا لہٰذا انہوں نے بہت سا پانی ذخیرہ کر لیا اور پھر اس کے بعد قافلہ روانہ ہو گیا۔ پس قافلہ اپنا سفر طے کر رہا تھا کہ امام علیہ السلام کے ایک صحابی نے اللہ اکبر کہا جس پہ امام حسین علیہ السلام نے حیرت سے اس سے پوچھا تم نے اللہ اکبر کیوں کہا؟
تو اس شخص نے کہا مجھے کھجوروں کے درخت نظر آئے تھے۔
لیکن امام علیہ السلام کے ایک دوسرے ساتھی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا اس راستہ میں کھجوروں کا کوئی باغ نہیں ہے لیکن یہ دکھائی دینے والے درخت نہیں بلکہ نیزوں کے سرے ہیں اور گھوڑوں کی گردنیں ہیں۔۔۔۔۔
پھر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا میں بھی یہی دیکھ رہا ہوں (یعنی نیزوں کے سرے اور گھوڑوں کی گردنیں)۔ پس امام علیہ السلام کو معلوم ہو گیا کہ یہ اموی فوج ہے کہ جو جنگ کے لیے آرہی ہے لہٰذا امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ہمیں کسی پشت پناہ کی ضرورت ہے تا کہ ہم اسے اپنی پشت کی جانب قرار دیں اور دشمن کا فقط ایک ہی طرف سے سامنا کریں۔۔۔۔
امام حسین علیہ السلام کے بعض ساتھی راستے سے خوب اچھی طرح واقف تھے پس انہوں نے امام علیہ السلام سے کہا یہاں قریب ہی ذو جسم نامی پہاڑ ہے کہ جو آپ کے بائیں طرف واقع ہے لہٰذا اگر ہم وہاں پہلے پہنچ جاتے ہیں تو وہ ہمارے لیے اچھا پشت پناہ ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
پس امام علیہ السلام کا قافلہ اس پہاڑ کے پاس پہنچا اور جلدی سے وہاں خیمے نصب کر دیئے گئے پس ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ حر بن یزید ریاحی کی قیادت میں ایک ہزار افراد پر مشتمل لشکر بھی وہاں آپہنچا کہ جس کو ابن زیاد نے صحراء میں امام حسین علیہ السلام کی تلاش میں بھیجا تھا ظہر کے وقت یہ لشکر امام علیہ السلام کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا لیکن پیاس کی شدت کی وجہ سے پورا لشکر ہی ہلاکت کے قریب تھا پس امام علیہ السلام سے ان کی یہ پیاس دیکھی نہ گئی لہٰذا امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ ان سپاہیوں اور ان کے گھوڑوں کو پانی پلائیں۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اصحاب امام نے پہلے پورے لشکر کو پانی پلایا پھر اس کے بعد ان کے گھوڑوں کو پانی پلانا شروع کیا پس جب تک گھوڑا تین یا چار یا پانچ مرتبہ پانی پی کر سر نہ اٹھا لیتا پانی کا برتن اس کے سامنے سے نہ اٹھایا جاتا۔
اما م حسین علیہ السلام نے اپنے ان دشمنوں کو پانی سے سیراب کیا کہ جو آپ سے جنگ کرنے کے لیے آئے تھے لیکن ان سنگ دلوں پر اس لطف و کرم اور جود و سخا کا کوئی اثر نہ ہوا اور انہوں نے امام علیہ السلام اور ان کے اہل بیت علیھم السلام و انصار کے ساتھ اس کے بر عکس سلوک کیا اور انہیں پیاسا شہید کر دیا

امام حسین علیہ السلام کا لشکرِ حر سے خطاب
پانی پلانے کے کچھ دیر بعد امام حسین علیہ السلام نے مخالف لشکر کے سامنے خطاب کیا اور لشکریوں پر واضح کیا میں تمہاری ہی دعوت پر تمہیں بنی امیہ کے چنگل سے چھڑانے اور تمہارے لیے اسلام و قرآن کی حکومت قائم کرنے آیا ہوں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا اے لوگو! میں تمہاری طرف خود نہیں آیا بلکہ تمہارے پے در پے خطوط اور قاصد میرے پاس آئے کہ ضرور ہمارے پاس تشریف لائیں ہمارا کوئی امام و پیشوا نہیں ہے، شاید خدا تعالیٰ ہمیں آپ کی وجہ سے حق و ہدایت پر جمع کر دے لہٰذا میں اپنا ساز و سامان باندھ کر تمہاری طرف آیا ہوں۔ اگر تم اپنے عہدو پیمان پر باقی ہو تو اب میں تمہارے پاس آچکا ہوں تم مجھے اپنے وعدوں اور عہد و پیمان کے بارے میں مطمئن کرو اور اگر تمہیں میرا تمہارے پاس آنا پسند نہیں ہے تو میں تم سے منحرف ہو کر واپس وہیں چلا جاتا ہوں کہ جہاں سے تمہارے پاس آیا ہوں۔
امام حسین علیہ السلام کے خطاب کے جواب میں سب خاموش رہے اور کسی نے کوئی بات نہ کی کیونکہ ان میں سے اکثر وہ تھے جو امام علیہ السلام کو خطوط کے ذریعے آنے کی دعوت دے چکے تھے۔ پھر اس کے بعد ظہر کا وقت ہو گیا امام حسین علیہ السلام نے اپنے مؤذن حجاج بن مسروق کو اذان اور اقامت کہنے کا حکم دیا اور حر سے کہا تم اگر اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھانا چاہتے ہو توجاؤ اور انہیں نماز پڑھاؤ۔
لیکن حر نے نہایت ادب سے کہا نہیں بالکل نہیں ہم آپ کی ہی امامت میں نماز پڑھیں گے۔
پس دونوں لشکروں نے امام حسین علیہ السلام کی امامت میں باجماعت نمازادا کی اور اس کے بعد دونوں لشکر اپنے اپنے خیموں میں چلے گئے۔ اس کے بعد جب عصر کا وقت ہوا تو پھر حر نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی امامت میں باجماعت نماز ادا کی۔ نماز کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام کھڑے ہوئے اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا اے لوگو اگر تم اللہ سے ڈرو اور اہل حق کو ان کا حق دو تو یہی چیز خدا کو سب سے زیادہ راضی کرنے والی ہے۔ ہم اہل بیت اس گروہ سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں کہ جو ناحق خلافت کا دعویٰ کرتا پھرتا ہے اور تمہارے ساتھ ظلم و جور سے پیش آرہا ہے۔ پس اگر تم کو میں پسند نہیں ہوں اور تم میرا حق بھلا چکے ہو اور اس وقت تمہاری وہ رائے نہیں ہے کہ جو تم مجھے اپنے خطوں میں لکھ چکے ہو تو میں تم سے منحرف ہو کر واپس چلا جاتا ہوں۔
حر نے جواب میں کہا ان خطوط کا کیا ماجرا ہے کہ جن کا آپ ذکر کر رہے ہیں؟ امام علیہ السلام نے عقبہ بن سمعان سے فرمایا کہ خطوں والی بوریاں اٹھا لاؤ۔ پس وہ خطوں سے بھری ہوئی دو بوریاں اٹھا لائے۔ امام علیہ السلام نے ان خطوں کو حر کے سامنے رکھ دیا جس پر حر سوچ میں پڑ گیا اور پھر کہا ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں کہ جنہوں نے آپ کو خطوں کے ذریعے دعوت دی ہے۔۔۔۔۔۔
امام حسین علیہ السلام نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو حر اس میں مانع ہوا اور کہا ہم تو اس بات پر مامور ہیں کہ جب آپ سے ملاقات ہو تو آپ سے جدا نہ ہوں اور آپ کو عبید اللہ ابن زیاد کے پاس لے جائیں۔
امام علیہ السلام کو ان تند الفاظ پر غصہ آ گیا اور فرمایا تیری موت اس بات سے بہت پہلے ہے۔
پھر امام علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ سوار ہو جائیں اور مدینہ کی جانب کوچ کریں لیکن جب واپس مدینہ جانا چاہا تو حر نے اپنے لشکر کے ساتھ مل کر راستہ روک لیا اور واپس مدینہ نہ جانے دیا۔
جس پر امام علیہ السلام نے اونچی آوازمیں حر کو مخاطب کر کے کہا کہ تیری ماں تیرے غم میں ماتم کرے تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟
یہ سن کر حر نے سر جھکا لیا اور کہا اگر آپ کے علاوہ کوئی میری ماں کا نام اس طرح لیتا تو میں بھی اس کی ماں کا نام اسی طرح لیتا لیکن آپ کی والدہ گرامی کے بارے میں ہم سوائے تعظیم اور احترم کے کوئی بات زبان پر نہیں لا سکتے۔
یہ بات سن کر امام علیہ السلام کا غصہ تھم گیا اور فرمایا ہاں تو تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟ حر نے کہا میں آپ کو ابن زیاد کے پاس لے جانا چاہتا ہوں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔
تو حر نے کہا تو پھر خدا کی قسم میں بھی آپ سے دستبردار نہیں ہو ں گا۔
پس امام علیہ السلام اور حر کے درمیان اس طرح کی بہت سی باتیں ہوئیں قریب تھا کہ دونوں لشکروں کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی لیکن حر نے جنگ سے بچنے کے لیے کہا مجھے آپ سے جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا مجھے تو بس یہ کہا گیا ہے کہ جونہی آپ سے ملوں تو آپ سے الگ نہ ہوں اور آپ کو کوفہ لے کر آؤں لہٰذا اگر آپ گرفتاری دے کر کوفہ جانے سے انکار کرتے ہیں تو کوئی ایسا راستہ اختیار کریں کہ جو نہ تو مدینہ جاتا ہو اور نہ ہی کوفہ تا کہ میں ابن زیاد کو صورت حال کے بارے میں خط لکھوں شاید کوئی ایسی صورت حال نکل آئے کہ جس میں میرے لیے خیریت ہو اور میں آپ کے ساتھ جنگ سے محفوظ رہ سکوں۔
پس اس بات پر امام علیہ السلام نے اتفاق کیا اور عذیب و قادسیہ سے اپنا راستہ بدل لیا۔ امام علیہ السلام کا یہ قافلہ ان صحراؤں اور ریگستانوں کو عبور کرتا ہوا جا رہا تھا اور حر بھی اپنے لشکر کے ساتھ امام علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہا

لشکر حر سے امام علیہ السلام کا ایک اور خطاب
جب قافلہ چلتا ہوا مقام بیضہ پر پہنچا تو امام علیہ السلام نے پھر حر اور اس کے لشکر سے خطاب کیا اور اپنے قیام کے مقاصد سے انہیں آگاہ کیا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا اے لوگو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی ایسے ظالم و جابر بادشاہ کو دیکھے کہ جو خدا کی حرام کردہ اشیاء کو حلال قرار دے اور عہد خدا کی پابندی نہ کرے اور لوگوں کے ساتھ گناہ و ظلم سے پیش آئے اور وہ شخص اس بادشاہ کی قول و فعل سے مخالفت نہ کرے تو خدا کو حق حاصل ہے کہ وہ اسے بھی اس ظالم بادشاہ کے ساتھ قرار دے۔ آگاہ ہو جاؤ یہ (بنی امیہ اور ان کے نمک خوار)وہ لوگ ہیں جنہوں نے شیطان کی اطاعت کو اپنے لیے لازمی قرار دیا ہے اور رحمن کی اطاعت کو چھوڑ دیا ہے اور فتنہ و فساد برپا کیا ہے اور خدا کے قوانین کو معطل کر دیا ہے اور مسلمانوں کے اموال کو غصب کر لیا ہے اور خدا کی طرف سے حرام کردہ اشیاء کو حلال قرار دے دیا ہے اور اس وقت سب سے زیادہ میرا حق بنتا ہے کہ میں ان ظالموں حکمرانوں کی مخالفت کروں اور صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کروں پس تمہارے خطوط مجھے وصول ہوئے اور تمہارے قاصد میرے پاس تمہارا یہ پیغام لے کر آئے کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ہم آپ کو ہر گزتنہا نہ چھوڑیں گے اور نہ ہی آپ کی مدد سے دستبردار ہوں گے۔ پس اگر تم اپنے عہد و پیمان پر قائم ہو تو راہ راست اختیار کرو میں حسین بن علی ہوں میں فاطمہ بنت رسول خدا کا بیٹا ہوں میری جان تمہاری جانوں سے وابستہ ہے اور میرے اہل و عیال تمہارے اہل وعیال سے وابستہ ہیں اور جو مجھ پر گزرے گی اس میں تم بھی میرے شریک رہو گے۔ اوراگر تم ایسا نہیں کرتے اور اپنے وعدے کو توڑ دیا ہے اور بیعت و عہد پیمان سے روگردان ہو گئے ہو تو میری جان کی قسم یہ بات تم سے کوئی عجیب نہیں ہے تم نے اس سے پہلے بھی اس طرح سے میرے بابا علی علیہ السلام، میرے بھائی حسن علیہ السلام اور میرے چچا کے بیٹے مسلم سے کرچکے ہو پس بہت ہی فریب خوردہ ہے وہ کہ جو تمہارے فریب میں آئے لیکن تم نے اپنے مقدر کو خود ہی برباد کردیا ہے اور اپنے نصیب کو خود ہی کھو دیا ہے پس جس شخص نے بھی عہد و پیمان کو توڑا اس نے اپنا ہی نقصان کیا اور عنقریب خدا مجھے تم سے بے نیاز کر دے گا۔ جب امام علیہ السلام نے اپنا یہ خطاب مکمل کیا تو حُر کھڑا ہوا امام علیہ السلام سے کہا :میں آپ کو خدا کی یاد دلواتا ہوں اگر آپ نے جنگ کی تو آپ ہر صورت قتل ہو جائیں گے۔ تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ کیا تو مجھے موت سے ڈراتا ہے؟ کیا تو مجھے قتل کرے گا؟ پھر امام علیہ السلام نے یہ شعر پڑھے
سأمضی وما بالموت عار علی الفتی اذا ما نویٰ حقا و جاھد مسلما
فان مت لم اندم و ان عشت لم الم کفی بک عاراً ان تذل و ترغما
یعنی : میں اپنے سفر کو جاری رکھوں گا جوان کے لیے موت اس وقت برائی نہیں ہے کہ جب اس کی نیت عینِ حق اوراس کا جہاد عینِ اسلام ہو۔ پس اگر میں اس دنیا سے چلا گیا تو مجھے کوئی ندامت نہ ہو گی اور اگر زندہ رہا تو کوئی دکھ نہ ہو گا تمہارے لیے یہی ننگ و عار کافی ہے کہ تم ذلت اور مغلوب ہو نے کو اختیار کرو۔ پس جب حُر نے امام علیہ السلام سے یہ شعر سنے تو اسے یقین ہو گیا کہ امام علیہ السلام مسلمانوں کو بنی امیہ کے ظلم و ستم سے نکالنے کے لیے جہاد اور شہادت کا مکمل ارادہ رکھتے ہیں

ابن زیاد ملعون کا حُر کے نام خط
حُر کا لشکر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہا امام علیہ السلام اپنے قافلے کو کبھی بائیں موڑتے اور کبھی دائیں۔ جبکہ حُر اور اس کے لشکر کی مکمل کوشش تھی کہ اس قافلہ کو ابن زیاد کے پاس کوفہ لے جائے لہٰذا لشکر حُر ہر دفعہ راستہ میں حائل ہو جاتا پس اسی کشمکش میں چلتے چلتے نینوی کی حدود میں جا پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ کوفہ کی جانب سے ایک سوار نمودار ہوا کہ جو تیزی سے آرہا تھا پس دونوں لشکر اس سوار کے انتظار میں رک گئے پس جب وہ خبیث لشکر کے پاس پہنچا تو اس نے حُر اور اس کے لشکریوں کو سلام کیا اور رسول کے نواسہ کو سلام نہ کیا اور حُر کو ابن زیاد کا خط دیا کہ جس میں لکھا تھا
اما بعد!جب میرا قاصد تمہارے پاس پہنچے تو حسین علیہ السلام پر معاملہ تنگ کر دو اور انہیں ایسے بیابان میں اتارو کہ جہاں آبادی اور پانی نہ ہو میں نے اپنے قاصد کو حکم دیا ہے کہ وہ تم سے اس وقت تک جدا نہ ہو کہ جب تک کہ میرے حکم کی تعمیل نہ ہو جائے تاکہ وہ مجھے اس کی آ کر اطلاع دے۔
پس حر نے وہ خط امام علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو سنایا اور آپ کو وہیں اترنے کا حکم دیا۔ حضرت نے فرمایا ہمیں اجازت دو کہ ہم ان نزدیک کی بستیوں میں جو کہ نینوی، غاضریہ یا کوئی بستیاں ہیں جہاں پانی اور آبادی ہے اتر جائیں۔ لیکن حُر نے کہا میں ابن زیاد کے حکم کی مخالفت نہیں کر سکتا اس قاصد کی وجہ سے کہ جو اس نے مقرر کیا ہے اور اسے مجھ پر نگاہبان قرار دیا ہے۔
زہیر بن قین نے کہا اے فرزند رسول آپ اجازت دیں کہ ہم ان سے جنگ کریں کیونکہ ان سے جنگ کرنا ان بے شمار لشکروں کے ساتھ جنگ کرنے سے آسان ہے کہ جو بعد میں آئیں گے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا میں پسند نہیں کرتا کہ میں جنگ کی ابتداء کروں۔ پس وہیں اتر پڑے اور خیموں کو لگا دیا یہ واقعہ 2محرم جمعرات کے دن کا ہے.
روز عاشور
روزِ عاشور
حوادثِ دہر، غم و الم اور مصائبِ زمانہ کے اعتبار سے عاشورہ کی مثل کوئی دن نہیں ہے کہ جس میں دنیا کی ہر مصیبت اور آفت خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ گری۔ عالمِ غم اور مصائب کی دنیا میں روزِعاشورہ کی مانند کوئی دن نہیں ہے۔

امام حسین علیہ السلام کی دعا
عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام اپنے خیمہ سے نکلے تو دیکھا کہ میدانِ کربلا گھوڑا سواروں اور پیادوں سے بھرا ہوا ہے کہ جو سب کے سب اپنی تلواروں سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے اور ان کے اہل بیت علیھم السلام و انصار کا خون بہانا چاہتے ہیں تا کہ ابن زیاد ملعون سے اس کا اجر لے سکیں۔ پس امام حسین علیہ السلام نے قرآن مجید طلب کیا اور اپنے سر مبارک پر رکھ کر یہ دعا مانگی
اللھم انت ثقتی فی کل کرب، ورجائی فی کل شدة، وانت لی فی کل امر نزل بی ثقة وعدة، کم من ھم یضعف فیہ الفؤاد، وتقل فیہ الحیلة، ویخذل فیہ الصدیق، ویشمت فیہ العدوّ انزلتہ بک، وشکوتہ الیک رغبة منی الیک عمن سواک، ففرّجتہ وکشفتہ، وکفیتہ، فانت ولی کل نعمة، وصاحب کل حسنة، ومنتھی کل رغبة۔۔۔۔۔
ترجمہ: پروردگار ہر کرب و رنج میں مجھے تیرا ہی سہارا ہے اور ہر سختی و شدت میں تو ہی میری امید اور چارہ ساز ہے اپنے ساتھ پیش آنے والے تمام حوادث میں مجھے تیرا آسرا اور تجھ پر ہی بھروسہ ہے نجانے کتنے صدمے اور غم ایسے ہیں جن سے دل کمزور ہو جاتے ہیں اور تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں اور دوست ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور دشمن طعنہ زنی کرتے ہیں میں نے ان (صدموں اور غم) کا تیرے حضور شکوہ کیا اس حال میں کہ مجھے تجھ سے وہ امید اور رغبت ہے جو کسی اور سے نہیں، پس تو نے ان کو دور کیا اور ان کی تلافی اور تدارک کیا۔ تو ہی ہر نعمت کا مالک اور ہر احسان کا مرکز اور ہر امید کی آخری جائے پناہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس امام حسین علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل خلوص کے ساتھ رجوع کیا کہ جو حقیقی سہارا اور ہر مصیبت و آفت میں جائے پناہ ہے۔

امام حسین علیہ السلام کا خطبہ
جنگ شروع ہونے سے پہلے دشمنوں پر اتمام حجت کے لیے امام حسین علیہ السلام اپنی سواری پر سوار ہو کر دشمن کے لشکر کے قریب گئے اور وعظ و نصیحت اور دلیلوں پر مشتمل ایک تاریخی تقریر کی جس میں امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں
اے لوگو میری بات غور سے سن لو اور(خواہشات کی پیروی میں) جلدی نہ کرو تا کہ میں تمہیں وہ نصیحت کروں کہ جس کا مجھ پر تمہارا حق ہے اور تا کہ میں تمہیں تمہارے پاس آنے کا سبب بیان کروں پس اگر تم نے میری بات مان لی اور میرے ساتھ انصاف سے کام لیا تو تم اس کے ذریعے سعادت حاصل کرو گے اور تمہارے پاس مجھے قتل کرنے کا کوئی بہانہ نہیں بچے گا۔ اور اگر تم نے میری بات قبول نہ کی اور انصاف سے کام نہ لیا تو اپنے امور اور شرکاء کو جمع کرو تا کہ تم پر تمہارا معاملہ مخفی نہ رہے اور پھر مجھ پر بغیر مہلت کے حملہ کردو بے شک اللہ ہی میرا ولی و مددگار ہے کہ جس نے قرآن نازل کیا اور وہی نیک بندوں کا سر پرست ہے۔
راوی کہتا ہے کہ ان جملوں نے خاندان نبوت کی پاک و طاہر خواتین کے دلوں پر ایسا عجیب اثر کیا کہ ان کے رونے اور چیخنے کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ پس امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی جناب عباس علیہ السلام اور اپنے بیٹے جناب علی اکبر علیہ السلام کو خواتین کو تسلی دینے اور خاموش کروانے کے لیے بھیجا۔ اور دونوں سے فرمایا: انہیں تسلی دو اور خاموش کراؤ مجھے اپنی زندگی کی قسم انہوں نے ابھی بہت رونا ہے۔
جب خواتین خاموش ہو گئیں تو امام حسین علیہ السلام نے پھر سے اپنے خطبے کا آغازکیا اور خدا کی حمد وثناء بیان کی اور اپنے نانا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انبیاء اور ملائکہ پر درود بھیجا اور پھر فرمایا
اے لوگو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو زوال پذیر اور ختم ہونے والا گھر قرار دیا ہے یہ دنیا اپنے بسنے والوں سمیت بدلتی رہتی ہے۔ پس فریب خوردہ ہے وہ شخص جو اس دنیا سے دھوکہ کھائے۔ اور شقی و بد بخت ہے وہ شخص جسے یہ دنیا اپنے فتنہ میں ڈال دے۔ پس تمہیں یہ دنیا دھوکہ نہ دے یہ دنیا اس کی امیدوں کو ختم کر دیتی ہے کہ جو اس پر بھروسہ کرے۔ اور اس کو مفلس و فقیر بنا دیتی ہے کہ جو اس کی لالچ رکھتا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جس کام کے لیے تم جمع ہوئے ہو اس کے ذریعے سے تم نے خدا کو اپنے اوپر غضبناک کر لیا ہے اور خدا کی رحمت کے رخ کو اپنے سے موڑ دیا ہے اور تم نے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیا ہے۔ پس ہمارا خدا ہی بہترین رب ہے اور تم بد ترین بندے ہو کہ تم نے خدا کی اطاعت کا اقرار کیا، اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان کا اظہار کیا اور تم اسی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد اور ذریت کو قتل کرنے آگئے ہو، بے شک تم پر شیطان مسلط ہو چکا ہے کہ جس نے تمہیں خدا کی یاد بھلا دی ہے۔ پس لعنت ہے تم پر اور تمہارے ارادوں پر۔
اے لوگو مجھے پہچانو میں کو ن ہوں؟ کس کی اولاد ہوں؟ اور پھر اپنے ضمیر کی طرف پلٹ کر اس کی ملامت کرو اور غور کرو کہ کیا تمہارے لیے مجھے قتل کرنا اور میرے احترام و حرمت کو پامال کرنا جائز ہے؟ کیا میں تمہارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ نہیں ہوں؟ کیا میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نائب اور چچا زاد بھائی کا بیٹا نہیں ہوں؟ کہ جنہوں نے سب سے پہلے اللہ پر ایمان لایا اور اس کے رسول اور ہر اس چیز کی تصدیق کی کہ جو ان پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھی۔ کیا جناب حمزہ میرے بابا کے چچا نہیں ہیں؟ کیا تم تک اللہ کے رسول کا میرے اور میرے بھائی کے بارے میں یہ فرمان نہیں پہنچا کہ حسن اور حسین اہل جنت کے سردار ہیں؟ پس اگر تم نے میری تصدیق کی اور میری بات مان لی تو حق کو پہچان لو گے۔ خدا کی قسم میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے کیونکہ جھوٹ بولنے والوں سے اللہ نفرت کرتا ہے اور جھوٹوں کو جھوٹ کی سزا دیتا ہے۔ اور اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو تم میں ایسے افراد زندہ ہیں کہ جن سے اگر تم پوچھوتو وہ تمہیں بتائیں گے۔ پس تم جابر بن عبد اللہ انصاری، زید بن ارقم، انس بن مالک سے پوچھ لو وہ تمہیں بتائیں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے (الحسن والحسین سیدا شباب اھل الجنة ) کیا یہ بات تمہیں میرے قتل سے روکنے کے لیے کافی نہیں ہے؟
جب امام حسین علیہ السلام نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا تو شمر ملعون امام حسین علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہتا ہے مجھے نہیں معلوم کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے خدا کے اسلام سے منحرف ہو کر عبادت کی ہو اگر مجھے کچھ سمجھ میں آیا ہو۔
تو اس پر جناب حبیب بن مظاہراس ملعون کو جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں خدا کی قسم میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسلام سے ستر ستر طریقہ سے منحرف ہو کر خدا کی عبادت کرتے ہو اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ تمہیں امام حسین علیہ السلام کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی کیونکہ خدا نے تمہارے دل پر مہر لگا دی ہے۔
پھر امام حسین علیہ السلام نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: اگر تم کو اس بات میں شک ہے کہ جو میں نے بیان کی ہے تو کیا تمہیں اس بات میں بھی شک ہے کہ میں تمہارے نبی کا نواسہ ہوں خدا کی قسم مشرق و مغرب میں میرے علاوہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی نواسہ نہیں ہے۔ لعنت ہو تم پر کیا میں نے تم میں سے کسی کا کوئی قتل کیا ہے یا کسی کا مال لوٹا ہے یا کسی کو زخمی کیا ہے کہ جس کا تم مجھ سے بدلہ لینا چاہتے ہو۔
امام علیہ السلام کے ان سوالوں کا کسی نے کوئی جواب نہ دیا پھر امام علیہ السلام دشمن کے لشکر کے سرداروں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں اے شبث بن ربعی، اے حجار بن ابجر، اے قیس بن اشعث، اے زید بن حرث، کیا تم نے مجھے یہ خط نہیں لکھا کہ پھل پک کر تیار ہو چکا ہے، باغات سر سبز و شاداب ہو گئے ہیں اور آپ کی مدد کے لیے لشکر آراستہ ہو چکا ہے۔ لیکن ان ملعونوں نے خط لکھ کر دعوت دینے اور خدا کی طرف سے واجب شدہ امام حسین علیہ السلام کی مدد و نصرت سے انکار کیا اور کہنے لگے ہم نے ایسا نہیں کیا۔
اس پر امام حسین علیہ السلام نے جواب میں فرمایا سبحان اللہ خدا کی قسم بے شک تم ہی نے ایسا کیا ہے اور مجھے خط لکھ کر بلایا ہے۔ پھر امام حسین علیہ السلام نے پورے لشکر کو مخاطب کر کے فرمایا اے لوگو اگر تم اب مجھے نہیں چاہتے تو مجھ سے دستبردار ہو جاؤ اور مجھے زمین کے کسی اور علاقے میں جانے دو۔
اس وقت قیس بن اشعث ملعون کہنے لگا ہم نہیں جانتے کہ تم کیا کہہ رہے ہو لیکن تم اپنے ابن عم یزید کی حکومت کو تسلیم کر لو وہ تمہارے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرے گا جیسا تم چاہتے ہو اور تمہیں اس کی طرف سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ امام حسین علیہ السلام نے اس ملعون کو جواب دیتے ہوئے فرمایا تم اپنے بھائی (محمد بن اشعث )کی طرح ہو (کہ جس نے جناب مسلم علیہ السلام کو جھوٹی امان دی)کیا تم چاہتے ہو کہ بنی ھاشم جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کے خون سے زیادہ تم سے بدلہ کے طلبگار ہو جائیں خدا کی قسم نہ تو ذلیل لوگوں کی طرح ان لوگوں کی حکومت قبول کروں گا اور نہ ہی غلاموں کی طرح فرار کروں گا۔ اے اللہ کے بندو! میں اپنے اور تمہارے رب سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم پر پتھروں کی بارش ہونے لگے میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ طلب کرتا ہوں ہر اس طاغوت سے کہ جو قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔
وعظ و نصیحت اور عزت و شرف پر مبنی اس خطاب نے ان ملعونوں کے جہل و کفر اور منافقت سے بھرے دلوں پر کوئی اثر نہ کیا اور امام حسین علیہ السلام اس کے بعد واپس اپنے انصار کے پاس آ گئے۔
اس کے بعد امام حسین علیہ السلا م کے بعض اصحاب نے بھی ان ملعونوں کو نصیحت کرنے اور راہِ راست پر لانے کے لیے خطاب کیے اور انہیں بنی امیہ کی حکومت کے ظلم و ستم یاد کرائے لیکن یہ ملعون مرجانہ کے بیٹے کو خوش کرنے کے لیے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کرنے اور انہیں قتل کرنے سے پیچھے نہ ہٹے۔

امام حسین علیہ السلام کا دوسرا خطاب
امام حسین علیہ السلام نے دشمن کی فوج کو جہنم سے نکالنے اور صورت حال کو مکمل طور پر واضح کرنے کے لیے پھر دوبارہ دشمنوں کو نصیحت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ ہم صورت حال سے واقف نہ تھے۔ پس امام حسین علیہ السلام نے اپنے نا نا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عمامہ پہنا اور اپنے نانا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار کو حمائل کیا اور اپنے سر پر قرآن رکھ کر دشمن کی فوج سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا لعنت ہو تم پر اے بے وفا، جفا کاراور غدار گروہ، تم نے ہم کو اپنی ہدایت کے لیے بلایا اور جب ہم نے تمہاری دعوت کو قبول کیا اور تیزی سے تمہاری طرف آئے تو تم نے ہمارے مدمقابل وہ تلواریں کھینچ لیں کہ جو ہماری نصرت و مدد کے لیے تمہارے ہاتھ میں تھیں اور ہم پر وہ آگ برسانا شروع کر دی جو ہم نے اپنے اور تمہارے دشمن کے لیے روشن کی تھی اور تم اپنے خیر خواہوں اور دوستوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اپنے ہی دشمن کے ساتھ مل گئے حالانکہ نہ تو پہلے اس نے تمہارے ساتھ کبھی عدل و انصاف کیا اور نہ ہی تمہیں آئندہ اس سے انصاف کی امید ہے۔ لعنت ہو تم پر تم نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا حالانکہ تلواریں نیام میں تھیں اور دل مطمئن تھے اور آراء محکم و پختہ تھیں لیکن تم لوگوں نے جلدی کی اور فتنہ کی آگ کو بھڑکانے کے لیے ٹڈیوں کی طرح جمع ہو گئے اور پروانوں کی طرح اپنے آپ کو جنگ کی آگ میں پھینک دیا۔ لعنت و ہلاکت ہے تمہارے لیے اے امت کوذلیل کرنے والو، اے جمعیت و قوم سے الگ ہونے والو، اے قرآن کو چھوڑنے اور اس میں تحریف کرنے والو، اے گناہوں کے مجموعے، اے شیطان کے وسواس کی پیروی کرنے والو، اے سنت نبوی کو مٹانے والو! کیا تم ان ظالموں سے تعاون کرتے ہو اور ہم کو دھوکہ دے کر ہماری مدد سے دست بردار ہوتے ہو۔ ہاں خدا کی قسم مکر و فریب ہمیشہ سے تم میں تھا اور دھوکہ بازی تمہاری جڑوں میں رچی بسی ہوئی ہے اور اسی سے ہی تمہاری شاخیں قوت پکڑتی ہیں تم وہ خبیث درخت ہو جو دیکھ بھال کرنے والے کی پیشانی پھوڑ دیتا ہے اور غاصب کے لیے معمولی لقمہ بن جاتا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ حرام زادے کے حرام زادے بیٹے نے مجھے دو کاموں میں سے ایک کے کرنے کا اختیار دیا ہے کہ یا تو تلوار لے کر میدان جنگ میں آجاؤ ں یا ذلت کو اختیار کرکے بیعت کر لوں حالانکہ ذلت ہم سے دور ہے اور اللہ نے ہمارے لیے اس کو ممنوع قرار دیا ہے۔ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صاحبانِ ایمان اور پاک و طاہر گودوں میں پلنے والے اور غیرت و حمیت سے سر شار لوگ کبھی بھی کمینے لوگوں کی اطاعت کو شہادت پر ترجیح نہیں دیتے۔ آگاہ ہو جاؤ میں تم پر حجت تمام کر چکا ہوں۔ اعوان و انصار کی قلت اور مدد گاروں کی کمی کے باوجود میں تم سے جنگ کروں گا۔ اور دورانِ گفتگو فروة بن مسیک مرادی کے یہ شعر پڑھے:
فَـإِنْ نَهْـزِمْ فَهَزّامُونَ قِدْماً وَإِنْ نُغْلَـبْ فَغَيْـرُ مُغَلِّبيـنا
وَمــا إِنْ طِبُّنا جُبْـنٌ وَلكِنْ مَنايانــــا وَدَوْلَة آخَرينا
إِذا مَا الْمَوْتُ رَفَّعَ عَـنْ أُناسٍ كَلاكِلَـــهُ أَنـاخَ بِآخِرينا
فَأَفْنى ذلِكُـمْ سَـرَواتِ قَوْمي كَما أَفْنـى الْقُـرُون الاْولينا
فَلَـوْ خِلْـدَ الْمُلُوكُ إِذاً خُلِدْنا وَلَوْ بَقِـيَ الْكِـرامُ إِذاً بَقينا
فَقُـلْ لِلشّامِتيــنَ بِنا أَفيقُوا سَيَلْقىَ الشّامِتُونَ كَما لَقينا
پھر فرمایا خدا کی قسم تم میرے بعد پیادہ کے گھوڑے پر سوار ہونے کی مدت سے زیادہ زندہ نہ رہو گے اور موت تمہارے گرد چکی کے پاٹ کی طرح گھومے گی اور تم درمیان میں اس کے محور کی طرح اضطراب میں رہو گے اور یہ میرے نانا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ وعدہ ہے جو میرے بابا کے ذریعے مجھ تک پہنچا ہے۔ پس تم اپنے امور اور شرکاء کو جمع کر لو تا کہ تم پر تمہارا انجام مخفی نہ رہے اور پھر مہلت دئیے بغیر مجھ پر حملہ کر دو۔ میں اس خدا پر توکل رکھتا ہوں جو میرا اور تمہارا پالنے والا ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں ہر ذی روح کی جان ہے بے شک میرا رب ہی عدل و انصاف کے راستہ پر ہے۔
پھر اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے بد دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے اور فرمایا
اے اللہ ان کے لیے آسمان سے بارش کو روک دے اور ان پر ایسا قحط نازل کر جیسا جناب یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں آیا تھا اور ان پر ثقیف کے لڑکے کو مسلط کر جو ان کو موت کے پیالے پلائے۔ کیونکہ ان لوگوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے اور ہمیں دشمنوں میں بے یار و مدد گار کر دیا ہے اور تو ہی ہمارا پروردگار ہے ہم تجھ پر توکل کرتے ہیں اور تیری ہی ذات پر ہمیں بھروسہ ہے اورہم تیری ہی طرف پلٹنے والے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کا یہ انقلابی خطاب، امام علیہ السلام کی ثابت قدمی اور عزم و ارادہ کی پختگی اور یہ عظیم حوصلہ اور جرأت یہ سب کچھ ان لوگوں کے ہاتھوں اہانت کا شکار ہوا کہ جنہوں نے بنی امیہ کے ظلم و جور سے نجات کے لیے امام حسین علیہ السلام کو پکارا اور مسلسل خط لکھ کر آنے کی دعوتیں دیں اور جب وہ ان کی دعوت پر ان کے پاس آئے تو وہ اپنے مہمان کے مد مقابل تلواریں لے کر کھڑے ہو گئے اسی کو قتل کرنے کے در پے ہو گئے جس کو خود دعوت دی۔
امام حسین علیہ السلام نے ان دشمنوں کو پیشین گوئی کر دی تھی کہ تم مجھے قتل کرنے کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکو گے اور ایک ایسا حکمران آئے گا جو قاتلانِ حسین علیہ السلام کو موت کے جام پلائے گا پس زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ خدا وندِ متعال نے جناب مختار ثقفی کو ان ظالموں پر تسلط عطا کیا اور انہوں نے چُن چُن کر قاتلانِ حسین علیہ السلام کو موت کے گھاٹ اتارا۔

جناب حر کا حق کی طرف رجوع:
جناب حر نے امام حسین علیہ السلام کا خطاب سنا تو ان کا ضمیر غفلت کی نیند سے بیدار ہو گیا اور انہوں نے اپنے آپ کو حق کے ساتھ مربوط کرنے کا فیصلہ کر لیا پس جناب حر تیزی سے گزرتے ہوئے ان لمحات میں سوچنے لگے کہ یا تو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ملحق ہو کر خدا کی راہ میں شہید ہو جاؤں اور اپنے آپ کو خدا کے عذاب اور غضب سے محفوظ کر لوں یا پھر بنی امیہ کی فوج کے ایک جرنیل کی حیثیت زندہ رہوں اور ابن مرجانہ سے اس کا صلہ وصول کروں۔ پس جناب حر نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور اپنی دنیاوی خواہشات کو شکست دے کر مکمل طور پر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ملنے کے لیے تیار ہو گئے۔
امام حسین علیہ السلام کے انصار کے ساتھ ملحق ہونے سے پہلے جناب حر نے عمر بن سعد کا رخ کیا اور اس سے کہا کیا تم اس شخص کے ساتھ جنگ کرو گے؟ عمر بن سعد لعین جناب حر میں برپا ہونے والے انقلاب سے بے خبر تھا لہٰذا اس نے کہا ہاں خدا کی قسم ایسی جنگ ہو گی کہ جس کا آسان ترین نقشہ یہ ہے کہ سر بدن سے اڑیں گے اور ہاتھ کٹ کٹ کر گریں گے۔ جناب حر نے کہا کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ معاملہ صلح کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے اور جن باتوں کا امام حسین علیہ السلام نے کہا ہے ان میں سے کسی ایک پر عمل کر لیا جائے۔ تو اس وقت ابن سعد کہتا ہے اگر یہ سب کچھ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں ایسا ہی کرتا لیکن تمہارا امیر ابن زیاد صلح نہیں چاہتا۔
جب جناب حر کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ امام حسین علیہ السلام سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ امام حسین علیہ السلام کے لشکر کے ساتھ ملحق ہونے کے لیے گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھنا شروع ہو گئے لیکن جناب حر کا جسم کانپ رہا تھا اور گزشتہ اعمال پر شرمندگی کی وجہ سے عجیب حالت ہو رہی تھی۔ جب مہاجربن اوس نے یہ حالت دیکھی تو کہنے لگا اے حر مجھے تمہاری حالت نے حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ خدا کی قسم میں نے کسی جنگ میں تمہاری یہ حالت نہیں دیکھی اگر لوگ مجھ سے پوچھتے کہ اہل کوفہ میں سب سے زیادہ شجاع کون ہے؟ تو میری نظر تجھ سے تجاوز نہ کرتی اور تیرے علاوہ کسی کا نام نہ لیتا۔
پس جناب حر نے اپنی اندرونی کیفیت کو ظاہر کرتے ہو ئے کہا خدا کی قسم میں اپنے آپ کو جنت اور جہنم کے درمیان دیکھ رہا ہوں لہٰذا میں جنت کے علاوہ کسی چیز کو بھی پسند نہیں کروں گا چاہے میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں اور مجھے جلا دیا جائے۔
پس جناب حر گھوڑا دوڑاتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے قریب آگئے جبکہ انہوں نے اپنا سر گزشتہ کوتاہیوں کے سبب جھکایا ہوا تھا اور جب پاس پہنچے تو بہتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ دست دعا بلند کیے اور کہا اے اللہ میں نے تیری بارگاہ کی طرف رجوع کیا پس تو مجھے بخش دے کیونکہ میں نے تیرے اولیاء اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد کے دل خوف زدہ کیے ہیں۔
پھر امام حسین علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے میرے مولا حسین علیہ السلام میں توبہ و معافی کا طلبگار ہوں کیا میرے لیے معافی ہے؟ پس جناب حر گھوڑے سے اترے اور امام حسین علیہ السلام کے سامنے گریہ و زاری کرنے لگے تا کہ انہیں مولا کی طرف سے معافی عطا کر دی جائے جناب حر کہتے ہیں اے میرے مولا حسین علیہ السلام اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے خدا مجھے آپ پر قربان کرے میں وہی ہوں کہ جس نے آپ کو واپس جانے سے روکا تھا اور اس جگہ اترنے پر مجبور کیا تھا۔ مجھے اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ جو کچھ آپ نے ان لوگوں سے کہا ہے اس کو ماننے سے انکار کر دیں گے اور آپ کی بات ٹھکرا دیں گے اور آپ کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے۔ میں نے سوچا تھا کہ ان لوگوں کی بھی تھوڑی بہت بات مانتا رہتا ہوں تاکہ مجھے اپنی فرمانبرداری سے خارج نہ سمجھیں۔ میرا خیال تھا کہ آپ ان سے جن چیزوں کا مطالبہ کریں گے اس میں سے بعض کو تو ضرور قبول کر لیں گے۔ مجھ سے جو کچھ سر زد ہوا ہے میں اس پر پشیمان و نادم ہوں اور خدا کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور اپنے آپ کو آپ پر قربان کر دینا چاہتا ہوں۔
پس امام حسین علیہ السلام نے جناب حر کو معافی و توبہ کی بشارت دی اور فرمایا ہاں خدا تیری توبہ قبول کرتا ہے۔
اس کے بعد جناب حر نے امام حسین علیہ السلام سے اہل کوفہ کو نصیحت کرنے کی اجازت طلب کی تا کہ شاید ان میں سے کوئی حق کی طرف آ جائے۔ پس جناب حر لشکر کوفہ کے پاس آئے اور بلند آواز میں کہا اے کوفہ کے لوگو تمہاری مائیں تمہارے غم میں ماتم کریں اس مردِ صالح کو تم نے دعوت دی اور اپنے پاس بلایا اور جب اس نے تمہاری دعوت کو قبول کیا تو تم اس کی مدد سے دستبردار ہو گئے اور دشمنوں کے ساتھ جا ملے حالانکہ تم نے تو کہا تھا کہ ہم اس کی راہ میں جہاد کریں گے اور اپنی جان اس پر قربان کریں گے پس تم لوگ مکر و فریب کے دروازے سے باہر آئے اور اس کو قتل کرنے کے لیے اکٹھے ہو گئے اور اب اس کا گریبان پکڑ لیا ہے اور ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور اسے وسیع و عریض زمین میں کہیں اپنے اور اپنے اہل بیت کے لیے کسی محفوط جگہ پر جانے سے روک دیا ہے اور اب وہ کسی ایسے قیدی کی طرح تمہارے ہاتھوں گرفتار ہے کہ جو دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے اور اس پر او ر اس کے اہل بیت و انصار پر اس فرات کا پانی بند کر دیا ہے کہ جس سے عیسائی، یہودی اور مجوسی بھی سیراب ہو رہے ہیں اور کتے اور خنزیر بھی جس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاس کی شدت سے حالت غیر ہوگئی ہے تم نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانے کے بعد ان کی اولاد سے بہت برا سلوک کیا اور اگر تم نے توبہ نہ کی اور اس ہٹ دھرمی کو نہ چھوڑا تو خدا تمہیں اس دن سیراب نہ کرے کہ جس دن لوگ پیاسے ہوں گے۔ جب جناب حر کی گفتگو یہاں تک پہنچی تو اہل کوفہ نے ان پر تیر برسانا شروع کر دئیے حالانکہ ان سب کو اپنی گمراہی کا یقین تھا لیکن انہوں نے اپنے نفس اور شیطان کی اتباع کی اور جہنم کو اپنے لیے مقدر بنا لیا۔
کربلا کی جنگ اور حضرت عباس(ع)کے مادری بھائیوں کی شہادت
کربلا کی جنگ
حضرت امام حسین علیہ السلام کے لشکر کا علم حضرت عباس علیہ السلام کے فولادی ہاتھوں میں تھا جبکہ جناب زہیر بن قین میمنہ کے سالار تھے اور جناب حبیب ابن مظاہر میسرہ کے سالار تھے اور امام حسین علیہ السلام اور بنی ہاشم کے افراد قلبِ لشکر میں تھے۔ امام حسین علیہ السلام کا لشکر خیام کے سامنے صف آراء ہوا جبکہ خیام کی پچھلی جانب خندق کھود کر اس میں لکڑیاں ڈال کر انھیں آگ لگا دی گئی تاکہ جنگ فقط ایک طرف سے ہو اور کوئی دشمن بھی پشت سے خیام پر حملہ آور نہ ہو سکے۔ امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں مشہور قول کی بنا پر 32بتیس سوار اور 40چالیس پیادے تھے۔ امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی تعداد کے بارے مختلف روایات ہیں، سب سے کم تعداد جو روایات میں ملتی ہے وہ61اکسٹھ ہے(کتاب اثبات الوصیة)اوربعض روایات میں ذکر شدہ تعداد 45پنتالیس سوار اور100سو پیادے ہیں(کتاب لہوف ۔کتاب مثیرالاحزان)۔
ان ملعونوں کے لشکرمیں سواروں کا سردار عروہ بن قیس لعین اور پیادوں کاسردار شبث بن ربعی پلید تھا اور لشکر کے میمنہ کی سالاری عمرو بن قیس ملعون کے ہاتھ میں تھی اورمیسرہ کی سرداری لعین ابن لعین شمربن ذی الجوشن کے پاس تھی اور علم درید ملعون کے پاس تھا۔
پہلا حملہ
جب ابن سعد ملعون کو جناب حر اور کچھ دوسرے افراد کے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ملنے کا علم ہوا تو وہ اس بات سے خوف زدہ ہوا کہ کہیں دوسرے افراد بھی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نہ مل جائیں، لہٰذا ابن سعد لعین سامنے آیا اور چیخ کر کہا: اے درید اپنا علم آگے لے آؤ جب وہ علم اس کے نزدیک لایا تو عمربن سعد لعین نے کمان میں تیر جوڑ کر امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف پھینکا اور اپنے لشکر کو مخاطب کر کے کہنے لگا اے لوگوں گواہ رہنا کہ میں وہ پہلا شخص ہوں کہ جس نے جنگ کے لیے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف تیر پھینکا۔ سید ابن طاؤس کی نقل کردہ روایت کے مطابق جب ابن سعد لعین نے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف تیر پھینکا تو اس کے بعد ان ملعونوں نے امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر تیر برسانے شروع کر دیے اور ہزاروں کی تعداد میں آنے والے تیروں نے امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کو زخمی کیا۔ اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا کھڑے ہو جاؤ اور موت کے لئے تیار ہو جاؤ بیشک یہ تیر تمہاری طرف اس قوم کے قاصد ہیں۔
کتاب منتھی الامال (احسن المقال) کے مطابق ابن سعد لعین کے لشکر نے تیر چلانے کے بعد امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر دیا کافی دیر تک دونوں لشکروں میں جنگ ہوتی رہی امام حسین علیہ السلام کے اصحاب نے اپنی بہت ہی کم تعداد کے باوجود شجاعت، بہادری اور ایثار وقربانی کی عظیم تاریخ رقم کی، اس جنگ میں عمربن سعد لعنتی کی فوج کے بے شمار افراد واصل جہنم ہوئے۔ اس اجتماعی حملے میں امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تقریبا آدھے افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد دو، یا تین، یاچارافراد مل کر میدان جنگ میں آتے اور شجاعت کے ساتھ جنگ کرتے کرتے شہادت سے سرفراز ہوتے اورکبھی فقط ایک ہی فرد میدانِ جنگ میں آنے کے بعد دشمن کے ہزاروں فوجیوں پر حملہ کر دیتا۔ پس ہر کوئی میدانِ جنگ میں جانے سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا اورمیدانِ جنگ میں جانے کی اجازت لے کر دشمن پر حملہ کردیتا(کتاب ارشاد مؤلف شیخ مفید۔ کتاب تاریخ طبری۔ بحارالانوار)۔ ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب مناقب آل ابی طالب میں پہلے حملے میں شہید ہونے والے اصحابِ امام حسین کے نام اس مندرجہ ذیل ترتیب سے لکھیں ہیں
(1)نعیم بن عجلان :کہ جو نعمان بن عجلان کے بھائی تھے۔ کہ جن کو حضرت امیر المؤمنین نے بحرین اور عمان کا گورنر بنا یا تھا۔
(2)عمران بن کعب بن حارث اشجعی: کہ جن کا ذکر رجال شیخ میں موجود ہے۔
(3)حنظلہ بن عمرو شیبانی
(4)قاسط بن زہیر۔
(5)کنانہ بن عتیق۔
(6)عمرو بن مشیعہ۔
(7)ضرغامہ بن مالک۔
(8)عامر بن مسلم۔
(9)سیف بن مالک نمیری۔
(10)عبدالرحمن ارحبی۔
(11)مجمع عائذی۔
(12)حباب بن حارث۔
(13)عمرو جندعی۔
(14)حلاس بن عمروراسبی۔
(15)سوار بن ابی عمیرفہمی۔
(16)عماربن ابی سلامہ دالانی۔
(17)نعمان بن عمرو راسبی
(18)ابن الحمق کا غلام زاہر بن عمرو
(19)جبلہ بن علی
(20)مسعود بن حجاج
(21)عبداللہ بن عروہ غفاری
(22)زہیر بن بشر خثعمی
(23)عمار بن حسان
(24)عبداللہ بن عمیر
(25)مسلم بن کثیر
(26)زہیر بن سلیم
(27)عبداللہ بن زید بصری
(28)عبیداللہ بن زید بصری
ان کے علاوہ 10دس امام حسین علیہ السلام کے غلام اور2دو حضرت علی علیہ السلام کے غلام بھی اس پہلے حملے میں شہید ہوئے(کتاب مناقب ال ابی طالب مؤلف ابن شہر آشوب)

انصار امام حسین علیہ السلام کا مبارزہ
ابن سعد ملعون کی فوج سے سب سے پہلے زیاد بن ابیہ کا غلام یسار اور ابن زیاد کا غلام سالم جہنم واصل ہونے کے لیے میدان میں آیا اور امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں سے عبد اللہ بن عمیر کلبی ان کے مقابلے کے لیے باہر نکلے۔
وہ ملعون کہنے لگے: تو کون ہے؟
انھوں نے جواب دیا: میں عبد اللہ بن عمیر ہوں۔
وہ ملعون کہنے لگے: ہم تمہیں نہیں پہچانتے تم واپس چلے جاؤ اور زہیر بن قین یا حبیب بن مظاہر یا بریر کو ہماری طرف بھیجو۔
یسار سالم سے آگے تھا عبد اللہ نے اس سے کہا: اے زانیہ کے بیٹے کیا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے کہ جسے تو چاہے انتخاب کرے یہ کہہ کر اس پر حملہ کیا اور اسے تلوار مار کر زمین پر گرا دیا۔
ابن زیاد کے غلام سالم نے جب یہ دیکھا تو دوڑا، تا کہ یسار کی مدد کرے۔ اصحابِ امام حسین علیہ السلام نے عبد اللہ کو پکار کر کہا: اپنے آپ کو بچاؤ دشمن آ پہنچا۔ عبد اللہ چونکہ اپنے مقتول کی طرف مشغول تھے وہ یہ با ت سن نہ سکے۔ لہٰذا سالم نے پہنچ کر عبد اللہ کو تلوار ماری عبد اللہ نے بایاں بازو سِپر کے طور پر اپنے سر کو بچانے کے لیے رکھا تو ان کی انگلیاں کٹ گئیں لیکن عبد اللہ نے اس زخم کی پرواہ کیے بغیر زخم خوردہ شیر کی طرح باگ موڑ دی اور تلوار کے ایک وار سے سالم کو بھی یسار کے پاس جہنم کی طرف بھیج دیا۔
اور یہ رجز یہ اشعار پڑھے۔

اِنْ تُنْکِرُوْنِیْ فَاَنَاا بْنُ کَلْبٍ حَسْبِیْ بِبَیْتِیْ فِیْ علَیْمٍ حَسْبِیْ
اِنِیْ مْرُائٍ ذُوْمِرَّةٍ وَعَصْبٍ وَلَسْتُ بِالْخَوَارِ عِنْدَ الّنَکْب

پھر عمر و بن حجاج نے اپنے دستہ کو حکم دیا کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے لشکر کے میمنہ پر حملہ کرے۔ اصحابِ حسین علیہ السلام نے جب یہ کیفیت دیکھی تو اپنے زانو زمین پر ٹیک دئیے اور نیزے ان کی طرف سیدھے کر لیے۔ دشمن کے گھوڑے جب وہاں پہنچے تو وہ ان کے نیزوں کے ڈر سے پشت پھیر کر دوڑے۔ پھر اصحابِ حسین علیہ السلام نے ان پر تیروں کی بارش کر دی جس سے بعض گر پڑے اور بعض کودتے پھاندتے نکل گئے۔
اس وقت قبیلہ بنی تمیم کا ایک شخص کہ جسے عبد اللہ بن حوزہ کہتے تھے وہ امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف رُخ کر کے امام مظلوم علیہ السلام کے مد مقابل کھڑے ہو کر کہنے لگا۔ اے حسین( علیہ السلام) اے حسین (علیہ السلام)
حضرت نے فرمایا کیا کہتا ہے؟
وہ خبیث کہنے لگا:آپ کو آگ کی بشارت ہو۔
آپ نے فرمایا: یہ بات ہر گز نہیں بلکہ میں تو مہربان ما لک اور شفقت کرنے والے کے پاس جانے والا ہوں۔
حضرت نے فرمایا: یہ کون ہے؟
لوگوں نے بتایا حوزہ تمیمی کا بیٹا ہے۔
حضرت نے اپنے خدائے کریم کو پکارا اور عرض کیا بارِ الہا اسے جہنم کی آگ کی طرف کھینچ لے۔
اسی وقت ابن حوزہ کا گھوڑا مچلنے لگا اور اسے اپنی پشت سے گرا دیا اور اس کا بایاں پاؤں رکاب میں پھنس گیا جبکہ اس کا دایاں پاؤں اوپر کی طرف تھا۔ اسی اثناء میں مسلم بن عوسجہ تیزی سے آگے بڑھے اور اس کا دایاں پاؤں تلوار مار کر اس کے نجس بدن سے الگ کر دیا جبکہ بایاں پاؤں رکاب میں ہی پھنسا رہ گیا۔ اس کا گھوڑا دوڑنے لگا اور اس کا سر پتھروں اور درختوں سے ٹکراتا رہا یہاں تک کہ وہ ناری ہلاک ہوا اور خدا وند عالم نے اس کی روح جہنم کی طرف بھیج دی۔ پھر میدان کارزار گرم ہوا اور دونوں طرف سے ایک گروہ قتل ہوا

حُر بن یزید ریاحی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارزت
اس وقت جناب حر نے عمر سعد کے ساتھیوں پر شیر غضب ناک کی طرح حملہ کیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ حُر کے گھوڑے کے کانوں اور ابرو پر زخم لگے ہوئے تھے اور ان سے خون جاری تھا۔
حصین بن تمیم نے یزید بن سفیان کی طرف دیکھ کر کہا: اے یزید یہ وہی حر ہے کہ جس کے قتل کرنے کی تو آرزو رکھتا تھا، اب اس کے مقابلہ میں جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہنے لگا: ہاں ٹھیک ہے اور وہ حُر کی طرف لپکا۔
حصین کہتا ہے کہ خدا کی قسم ! ایسے معلوم ہوا جیسے یزید کی جان حر کے ہاتھ میں تھی، حرنے اسے مہلت دیے بغیرقتل کر دیا۔
جناب حر تابڑ توڑ حملے کرتے آگے بڑھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ عمر بن سعد لعین نے حصین بن تمیم کو حکم دیا کہ پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ اصحاب حسین علیہ السلام پر تیربارانی کرو پس عمر سعد کے لشکر نے ان پر تیروں کی بارش کر دی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کے گھوڑے ہلاک ہو گئے اور سوار پیادہ ہو گئے۔ ابو مخنف نے ایوب سے نقل کیا ہے وہ کہتا ہے کہ خدا کی قسم میں نے حُر کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ اور ان کے گھوڑے کے شکم پر تیر مارا وہ لرزنے اور مضطرب ہونے لگا اور گر گیا۔
راوی کہتا ہے کہ پس حُر اپنے گھوڑے سے شیر کی طرح کود پڑے اور شمشیر براں ان کے ہاتھ میں تھی اور وہ کہہ رہے تھے

ان تعقروا بی فانا ابن الحر اشجع من ذی لبد ھزبر

یعنی اگر تم نے میرے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے ہیں تو پرواہ نہیں میں حُر کا بیٹا اور شیر نر سے زیادہ بہادر ہوں۔
پس روای کہتا ہے کہ میں نے اس جیسا کوئی بہادر نہیں دیکھا جو سروں کو قلم کرتا اور لشکر کو ہلاک کرتا تھا۔
اہل سیر و تاریخ کہتے ہیں کہ حُر اور زہیر نے اتفاق کیا تھا کہ دونوں مل کر لشکر پر حملہ کریں گے اور سخت قسم کی جنگ کریں گے اور دونوں میں سے جو گھیرے میں آ جائے دوسرا حملہ کر کے اسے چھڑائے گا اور اسی طرح ایک گھنٹہ تک جنگ کرتے رہے اور حُر یہ رجز پڑھتے تھے
ا لیت لا اقتل حتی اقتلا ولن اصاب الیوم الا مقبلا
اضربھم بالسیف ضربا مقصلا لا ناکلا عنھم و لا مھلّلا

یعنی: میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک قتل نہ کروں قتل نہیں ہوں گا، اور آج فقط سامنے کی طرف زخم کھاؤں گا۔ میں انہیں کاٹنے والی تلوار سے ماروں گا، نہ پیچھے ہٹوں گا نہ انھیں مہلت دوں گا۔
حُر کے ہاتھ میں ایسی تلوار تھی کہ جس کی دھار سے موت ظاہر تھی اور جو بھی سامنے آتا وہ اس تلوارسے موت کے گھاٹ اتر جاتا۔
پھر عمر سعد کے ایک گروہ نے مل کر ان پر حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا۔
بعض کہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام حُر کے پاس آئے اور ابھی ان کے بدن سے خون بہہ رہا تھا پس آپ نے فرمایا کیا کہنا تو واقعاً آزاد و شریف ہے جس طرح تیرا یہ نام رکھا گیا ہے تو دنیا و آخرت میں آزاد ہے پھر آپ نے یہ اشعار پڑھے
لنعم الحر حر بنی ریاح صبور عند مختلف الریاح
ونعم الحر اذ نادی حسینا فجاد بنفسہ عند الصباح

بنی ریاح کا حُر بہترین انسان ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی سب سے زیادہ صبر کرنے والا ہے اور حُر بہترین شخص ہے کہ جس نے امام حسین علیہ السلام کو پکارا اور اپنی جان صبح کے وقت یا پکارنے کے وقت قربان کر دی۔

جناب بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ کی شہادت
جناب بریر بن خضیر رحمہ اللہ میدان میں آئے۔ وہ زاہد و عابد، قاریِ قرآن اور اشراف اہلِ کوفہ اور قبیلہ ہمدان میں سے تھے اور انھیں ابو القراء کہا تھا اور وہ ابو اسحاق عمرو بن عبد اللہ سبیعی کوفی تابعی کے ماموں ہیں کہ جن کے حق میں کہتے ہیں کہ انھوں نے چالیس سال صبح کی نماز، عشاء کے وضو سے پڑھی ہے اور ہر رات کو ایک قرآن ختم کرتے تھے اور ان کے زمانہ میں ان سے زیادہ عابد و زاہد کوئی نہ تھا اور روایت میں ہے کہ ان سے زیادہ قابل وثوق خاصہ و عامہ کے نزدیک کوئی شخص نہیں تھا اور وہ حضرت علی بن حسین علیہ السلام کے نزدیک قابلِ وثوق لوگوں میں سے تھے۔ بہر حال جب جناب بریر میدان میں آئے تو ادھر سے یزید بن معقل ان کی طرف آیا اور آپس میں انہوں نے طے کیا کہ مباہلہ کریں اور خدا سے دعا کریں۔ کہ جو شخص باطل پر ہے وہ دوسرے کے ہاتھ سے مارا جائے یہ کہہ کر ایک دوسرے پر حملہ کرنے لگے یزید نے بریر پر تلوار لگائی مگر انہیں اس سے کوئی نقصان نہ ہوا لیکن جب بریر نے اس کو ضرب لگائی تو وہ اس کی فولادی ٹوپی کو دو ٹکڑے کرتی ہوئی اس کے سر کو چیر کر دماغ تک پہنچی اور یزید پلید زمین پر اس طرح گرا جیسے کوئی شخص اونچی جگہ سے زمین پر گرتا ہے۔
رضی بن منقد عبدی نے جب یہ دیکھا تو اس نے بریر پر حملہ کیا اور وہ ایک دوسرے سے کافی دیر تک لڑتے رہے بالآخر بریر نے اس کو زمین پر چت کر دیا اور اس کے سینے پر سوار ہو گئے۔
رضی نے اپنے لشکر سے فریاد کی تا کہ وہ اسے چھڑائے۔
کعب بن جابرملعون نے حملہ کیا اور اپنا نیزہ جناب بریر کی کمر میں گھونپ دیا اور وہ رضی کے منہ پر گرے اور اس کے چہرے کو دانتوں سے کاٹنے لگے اور اس کی ناک کاٹ لی اور دوسری طرف چونکہ جابر ملعون کے لیے کوئی مانع نہیں تھا لہٰذا اس نے اپنے نیزہ کو اتنا دبایا کہ جناب بریر کو رضی کے اوپر سے گرا کر اتنی تلواریں لگائیں کہ وہ شہید ہو گئے۔
راوی کہتا ہے کہ رضی لعین زمین سے اپنی قبا جھاڑتے ہوئے اٹھا اور کعب سے کہا کہ اے بھائی تو نے مجھ پر احسان کیا ہے جب تک زندہ ہوں میں اس احسان کو نہیں بھولوں گا۔ جب کعب بن جابر واپس اپنے گھر گیا تو اس کی بیوی اوراس کی بہن نوار بنت جابر نے کہا تو نے سید القراء کو قتل کیا ہے تو نے بہت بڑا گناہ کیا ہے خدا کی قسم میں تجھ سے آئندہ بات نہیں کروں گی۔

جناب وہب علیہ السلام کی شہادت
جناب وہب بن عبد اللہ بن حباب کلبی اپنی ماں اور بیوی کے ساتھ لشکر حسینی علیہ السلام میں حاضر تھے اپنی ماں کی تشویق پر جہاد
کے لیے تیار ہوئے اورگھوڑا میدان میں دوڑایا اور یہ رجز پڑھے
ان تنکرونی فانا بن الکلب سوف ترونی و ترون ضربی
وحملتی و صولتی فی الحرب ادرک ثاری بعد ثاری صحبی
و ادفع الکرب امام الکرب لیس جہادی فی الوغی باللعب

یعنی :اگر تم مجھے نہیں پہچانتے تو تم جان لو کہ میں قبیلہ کلاب کا بیٹا ہوں عنقریب تم جنگ میں مجھے اور میری ضربوں کو اور میرے حملے کو اور میرے دشمن پر غلبے کو دیکھوں گے، میں اپنے ساتھیوں کے انتقام کے بعد اپنا انتقام لوں گا۔ اور میں دکھ و پریشانی کو دکھ و پریشانی کے سامنے پھینک دوں گا اور میرا جہاد کھیل میں کوئی شور شرابا نہیں ہے۔
بہت سارے ملعونوں کو قتل کرنے کے بعد واپس اپنی والدہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ اے ماں کیا آپ میرے جہاد سے راضی اور خوش ہوئیں یا نہیں ؟
تو ان کی والدہ نے جواب دیا: میں تم پر اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تم امام حسین علیہ السلام کے سامنے شہید نہیں ہو جاتے۔
پس جناب وہب واپس لوٹے اور یہ کہتے ہوئے دوبارہ دشمن پر حملہ کر دیا
انی زعیم لک ام وھب بالطعن فیھم تارة والضرب
ضرب غلام موقن بالرب حتی یذوق القوم مر الحرب
انی امرء ذومرة وغضب حسبی الھی من علیم حسبی

اے وہب کی ماں میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں، کہ میں کبھی ان کو نیزہ ماروں گا اور کبھی تلوار کی ضربیں ان پر چلاؤں گا۔ اور یہ ضربیں ایسے نوجوان کی ہیں جو اپنے رب پر ایمان رکھتا ہے، یہاں تک کہ اس قوم کو جنگ کی کڑواہٹ چکھاؤں گا۔ میں کڑواہٹ اور غصے والا شخص ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس انیس( 19)سوار اور بارہ(12)پیادوں کو قتل کیا اور کچھ دیر تک جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے دونوں ہاتھ قلم کر دئیے گئے۔
اس وقت ان کی ماں نے خیمہ کا ستون لیا اور میدان میں چلی گئیں اور کہا اے وہب میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ جتنا ہو سکے جنگ کرو اور حرمِ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دشمنوں کو دفع کرو۔ وہب نے چاہا کہ اسے واپس کر دے وہب کی ماں نے اس کا دامن پکڑ لیا اور کہنے لگی میں واپس نہیں جاؤں گی۔ جب تک تیرے ساتھ اپنے خون میں نہ نہا لوں۔
جناب امام حسین علیہ السلام نے جب یہ دیکھا تو فرمایا اہل بیت علیھم السلام کی طرف سے خدا تمہیں جزائے خیر دے عورتوں کے خیام کی طرف پلٹ جاؤ خدا تم پر رحمت کرے۔ پس وہ خاتون خیام کی طرف واپس گئیں اور وہ نوجوان جنگ کرتے کرتے شہید ہو گئے۔
راوی کہتا ہے کہ وہب کی بیوی اس کی شہادت کے بعد بے تاب ہو کر اپنے شوہر کی طر ف دوڑی اور ان کے لاشے پہ گر گئیں۔
شمرملعون نے اپنے غلام سے کہا: اس عورت کے سر پر گرز مار کر اسے اس کے شوہر کے ساتھ ملحق کر دے۔ پس اس ملعون نے ایسا ہی کیا اور انھیں شہید کر دیا۔ یہ پہلی خاتون تھیں جنھیں کربلا میں شہید کیا گیا

عمرو بن خالد ازدی اسدی صیداوی کی شہادت
وهبت الفتية الأماجد من آل عقيل إلى الجهاد لتفدي إمام المسلمين وريحانة رسول الله صلى الله عليه وآله وهي ساخرة من الحياةاس کے بعد عمرو بن خالد ازدی اسدی صیداوی عازم میدان ہوئے اورامام حسین علیہ السلام کی خدمت میں آ کر عرض کیا: اے میرے آقا ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام میری جان آپ پر قربان ہو میں نے ارادہ کیا ہے کہ آپ کے اصحاب میں سے جو شہید ہو گئے ہیں ان سے جا ملوں، مجھے یہ پسند نہیں کہ زندہ رہ کر آپ کو تنہا شہید ہوتے دیکھوں لہذا اب مجھے اجازت دیجئے۔
آپ نے اجازت دی اور فرمایا ہم بھی تھوڑی دیر میں تم سے آ ملتے ہیں۔
وہ سعادت مند میدان میں آئے اور یہ رجز پڑھے
الیوم یا نفس الی الرحمن تمضین بالروح و بالریحان
الیوم تجزین علی الاحسان ماخط فی اللوح لدی الدیان
لا تجزعی فکل حی فان

آج اے نفس تم خدائے رحمن کی طرف رحمت اور جنت کی طرف جاؤ گے۔ آج تم احسان کا وہ بدلہ پاؤ گے جو دین داروں کے لئے لوہے محفوظ پر لکھا ہوا ہے۔ اور تم پریشان نہ ہو ہر زندہ نے ایک دن مر ہی جانا ہے۔
پس جنگ کر کے شہید ہوئے

خالد بن عمرو بن خالد اسدی صیداوی کی شہادت
وسارعت الفتية من أبناء الامام الزكي أبي محمد عليه السلام إلى نصرة عمهم والذب عنه ، وقلوبهم تنزف دماً على ما حل به من عظيم
صبراعلی الموت بنی قحطان کی تکونوا فی الرضی الرحمن
ذی المجد و العزة و البرھان و ذوالعلی و الطول و الاحسان
یا ابتا قد صرت فی الجنان فی قصر در حسن البنیان
یعنی:اے بنی قحطان موت پر صبر کرو تاکہ خدائے رحمن کی رضا میں داخل ہو جاؤ۔ کہ جو خدا صاحب عظمت، صاحب عزت اور صاحب برہان ہے اور جو بلند و بالا، ہمیشہ رہنے والا اور احسان کرنے والا ہے۔ اے بابا آپ جنت میں اور نگنیوں سے بہترین انداز میں بنے ہوئے محل میں جا پہنچے۔
پس وہ بھی اپنے والد کی طرح جہاد کر تے ہوئے شہید ہوئے

سعد بن حنظلہ تمیمی کی شہادت
اس کے بعد سعد(سعید) بن حنظلہ تمیمی میدان میں گئے اور وہ امام حسین علیہ السلام کے لشکر کے نامور افراد میں سے تھے۔ انہوں نے رجز پڑھے اور کہا
صبرا علی الاسیاف و الا سنہ صبرا علیھا لدخول الجنة
و حور عین ناعمات ھنہ یا نفس للراحة فاجھدنہ
وفی طلاب الخیر فارغبنہ

تلواروں اور نیزوں پر جنت میں داخل ہونے اور نرم و نازک حورا لعین کے لیے صبر کرو، اے نفس راحت وسکون کے حصول کے لئے جہاد کرو اور نیکی کی طلب میں رغبت رکھو۔
پس انہوں نے حملہ کیا اور سخت جنگ کر کے شہید ہوئے رحمة اللہ علیہ

عبد اللہ مذحجی کی شہادت
پس عبد اللہ مذحجی(اور بعض روایات کے مطابق عمیر بن عبداللہ مذحجی) میدان میں گئے اور یہ رجز پڑھے
قد علمت سعد وحی مذحج انی لدی الھیجاء لیث مخرج
اعلو بسیفی ھامة المدجج و اترک القرن لدی التعرج
فریسة الذئب الاذل الاعرج
یعنی: قبیلہ سعد اور قبیلہ مذحج جانتا ہے کہ میں جنگ کے وقت باہر آنے والا شیر ہوں، میں اپنی تلوار کے ساتھ مسلح مرد میدان کی کھوپڑی پر غالب آجاتا ہوں اور میں شجاع کو اپنے مد مقابل آتے وقت بھیڑیے کا ایسا شکار بناتا ہوں جو لنگڑا کر چلتا ہے۔
پس جنگ کی اور بہت سے لعینوں کو قتل کیا اور مسلم ضبابی اور عبد اللہ بجلی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

نافع بن ہلال کا مبارزہ اور مسلم بن عوسجہ کی شہادت
اصحاب سید الشہداء میں سے نافع بن ہلال بجلی جنگ کے لیے باہر نکلے اور ان کلمات کے ساتھ رجز پڑھے
انا الغلام الیمنی البجلی دینی علی دین حسین بن علی
اضربکم ضرب غلام بطل و یختم اللہ بخیر عملی

یعنی:میں یمنی قبیلہ بجلی کا جوان ہوں اور میرا دین حسین ابن علی والا دین ہے۔ میں تمھیں شجاع جوان کی ضربیں لگاؤں گا خدا میرے عمل کو بخریت انجام تک پہنچائے۔
مزاحم بن حریث ان کے مقابلہ پر آیا اور کہنے لگا: میں عثمان کے دین پر ہوں۔
نافع نے کہا تو شیطان کے دین پر ہے۔ یہ کہہ کر اس پر حملہ کیا اور دنیا کو اس کے نجس وجود سے پاک کر دیا۔
عمرو بن حجاج نے جب یہ بہادری دیکھی تو اپنے لشکر کو پکار کر کہا: اے بے وقوف لوگو! تمہیں معلوم ہے کہ کن لوگوں سے جنگ کر رہے ہو یہ لوگ اہل مصر کے شہسوار ہیں پستانِ شجاعت سے انھوں نے دودھ پیا ہے اور یہ لوگ مرنا چاہتے ہیں۔ کوئی شخص اکیلا ان کے مقابلہ میں نہ جائے ورنہ اپنے آپ کو ہلاکت کے لیے پیش کرے گا۔ اس گروہ کی تعداد تھوڑی ہے اور یہ جلدی ختم ہو جائیں گے۔
عمر سعد نے کہا: کہ سچ بات وہی ہے جو تم نے کی ہے۔
پس اس نے لشکر کی طرف کسی کو بھیجا تا کہ وہ منادی کرے کہ کسی شخص کے لیے یہ اجازت نہیں کہ وہ اکیلا مبارزت کرے پس عمرو بن حجاج نے فرات کے کنارہ سے اپنی فوج کے ساتھ اصحاب امام حسین علیہ السلام کے میمنہ پر حملہ کیا۔
پس کچھ دیر تک دونوں لشکر جنگ کرتے رہے اور اس جنگ میں مسلم بن عوسجہ اسدی علیہ الرحمة بے حا ل ہو کر زخموں کی زیادتی کی بنا پر زمین پر گر گئے۔
عمر سعد کے لشکر نے حملہ سے ہاتھ روک لیا اور اپنی لشکر گاہ کی طرف پلٹ گیا جب غبار جنگ بیٹھ گیا تو جناب مسلم بن عوسجہ کو زمین پر پڑے ہوئے دیکھا گیا۔ امام حسین علیہ السلام ان کے پاس آئے جب کہ مسلم ابھی زندہ تھے تو ان کو خطاب کر کے فرمایا: اے مسلم خدا تجھ پر رحمت کرے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی
فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر و مابدّلوا تبدیلا۔
یعنی: پس ان میں سے بعض اپنا وعدہ پورا کر چکے اور بعض اس کے انتظار میں ہیں اور انھوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔
جناب حبیب بن مظاہر وہاں موجود تھے پس وہ مسلم بن عوسجہ کے قریب آئے اور کہنے لگے: اے مسلم میرے لیے گراں ہے یہ رنج و تکلیف جس میں آپ ہیں اب آپ کو بہشت کے بشارت ہو۔
جناب مسلم بن عوسجہ نے کمزور آواز میں کہا: خدا تمہیں اچھائی کی بشارت دے۔
جناب حبیب نے کہا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گا تو میں دوست رکھتا کہ آپ مجھے جو چاہتے وصیت کرتے تا کہ میں اس کو انجام دینے کا اہتمام کرتا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ابھی ابھی میں بھی قتل ہو جاؤں گا اور آپ سے آ ملوں گا۔
جناب مسلم نے امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں ان کے متعلق وصیت کرتا ہوں، جب تک تمہارے بدن میں جان ہے ان کی مدد کرنا اور ان کی نصرت سے دستبردار نہ ہونا۔
جناب حبیب نے کہا: کعبہ کے رب کی قسم! اس کے علاوہ کچھ نہیں کروں گا اور اس وصیت پر عمل کر کے تمہاری آنکھوں کو روشن کروں گا۔ پس جناب مسلم بن عوسجہ نے دنیا کو الوداع کہا جب کہ ان کا بدن امام حسین علیہ السلام کے ہاتھوں پر تھا۔
جناب مسلم بن عوسجہ زمانہ کے مشہور بہادروں میں سے تھے جیسا کہ شبث بن ربعی نے ان کی شجاعت آذربائیجان میں دیکھی تھی اور اس نے اس کا ذکر کیا۔ جس وقت جناب مسلم بن عقیل کوفہ میں آئے تو مسلم بن عوسجہ اموال قبض کرنے، ہتھیار خریدنے اور بیعت لینے پر مامور تھے۔ اس کے علاوہ وہ بہت بڑے عابد و زاہد تھے اور ہمیشہ مسجد کوفہ کے ایک ستون کے پاس عبادت و نماز میں مشغول رہتے تھے جیساکہ دنیوری کی اخبار الطوال میں مذکور ہے اور انھیں ارباب تاریخ امام حسین علیہ السلام کا پہلا صحابی قرار دیتے تھے۔ انھوں نے کربلا میں بڑا سخت حملہ کیا اور یہ رجز پڑھ رہے تھے
ان تسألوا عنی فانی ذو لبد من فرع قوم فی ذری بنی اسد
فمن بغانا حاید عن الرشد و کافر بدین جبار صمد

یعنی:اگر میرے متعلق پوچھتے ہو تو میں شیر ہوں اس قوم کی شاخ کا جو بنی اسد کی چوٹی کے لوگ ہیں، پس جو ہم سے بغاوت کرے وہ ہدایت سے ہٹا ہوا ہے اور وہ خدائے جبار و بے نیاز کے دین کا منکر ہے۔
اس بزرگوار کی کنیت ابو حجَل ہے جیسا کہ کمیت اسدی نے اپنے اشعار میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حجل کا معنی:شہد کی مکھیوں کا سردار ہے۔
بہر حال دونوں لشکر آپس میں ٹکرائے اور شمر بن ذی الجوشن ملعون نے میسرہ سے میسرہ امام حسین علیہ السلام پر حملہ کیا آپ کے جانثاروں نے ثبات قدمی سے جنگ کی اور دونوں طرف کے لشکر سے نیزے اور تلواریں چلنے لگیں۔
عمر بن سعد لعین کے لشکرنے امام حسین علیہ السلام کی فوج کو ہر طرف سے گھیر لیا اور حضرت کے اصحاب نے اس لشکر کے ساتھ گھمسان کی لڑائی کی اور پوری شجاعت کا مظاہر کیا اور آپ کی فوج کے سارے شہسوار بائیس افراد تھے جو شعلہ جوالہ کی طرح حملہ کرتے اور ابن سعد لعین کی فوج دائیں بائیں سے منتشر کر دیتے۔
عروہ بن قیس جو پسر سعد کی فوج کا ایک افسر تھا جب اس نے اصحابِ امام علیہ السلام کی یہ شجاعت اور جوانمردی دیکھی تو کسی کو عمر بن سعد لعین کے پاس بھیج کر پیغام دیا کہ اے پسرِ سعد تو دیکھتا نہیں کہ میرے لشکر نے اس چھوٹے سے گروہ سے کتنی زحمت و تکلیف اٹھائی ہے تیر اندازوں کو حکم دے کہ انھیں اپنے تیروں کا نشانہ بنائیں۔
ابن سعد نے تیر اندازوں کو تیر بارانی کا حکم دیا۔ راوی کہتا ہے کہ اصحابِ حسین علیہ السلام نے دوپہر تک سخت قسم کی جنگ کی تو حصین بن تمیم نے پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ مل کر اصحابِ امام حسین علیہ السلام پر تیر برسانے شروع کر دیے، ان منافقین نے ابن سعد لعین کے حکم پر لشکر امام علیہ السلام کو اپنے تیروں سے ہدف و نشانہ بنایا ان کے گھوڑوں اور جسموں کو زخمی کر دیا۔
لشکرِ حسین علیہ السلام کم تعداد میں تھا اگر ان میں سے ایک آدمی بھی شہید ہو جاتا تو ظاہر و واضح ہو جاتا اور عمر سعد کے لشکر سے اگر سو افراد بھی قتل ہوتے تو تعداد کی زیادتی کی وجہ سے معلوم نہ ہوتا بہر حال جنگ بڑی سخت ہوئی اور بہت سے لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے یہاں تک کہ زوال کا وقت آگیا۔

ابوثمامہ کا امام حسین(ع)کی خدمت میں نمازکا تذکرہ اورشہادت حبیب بن مظاہر
ابو ثمامہ صیداوی نے کہ جن کا نام عمرو بن عبد اللہ ہے جب دیکھا کہ زوال کا وقت ہو گیا ہے تو امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ابا عبد اللہ میری جان آپ پر قربان ہو میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لشکر آپ سے جنگ کرنے کے لیے قریب آچکا ہے لیکن آپ اس وقت تک شہید نہیں ہوں گے جب تک میں قتل نہ ہو جاؤں اور اپنے خون میں نہ لوٹوں البتہ میں چاہتا ہوں کہ یہ ظہر کی نماز آپ کی اقتدا میں پڑھ لوں اور پھر خدا کی بارگاہ میں جاؤں آپ نے سر آسمان کی طرف بلند کر کے فرمایا تو نے نماز کو یاد کیا خدا تجھے نماز گزاروں اور ذکر کرنے والوں میں سے قرار دے، بے شک یہ نماز کا اول وقت ہے۔
پھر فرمایا اس قوم سے خواہش کرو کہ وہ جنگ سے روک دیں تا کہ ہم نماز پڑھ لیں۔
حصین بن تمیم نے جب یہ بات سنی تو پکار کر کہا: کہ تمہاری نماز بارگاہ خدا میں قابل قبول نہیں۔
جناب حبیب بن مظاہر نے اس ملعون کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: اے شراب خور! فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز تو قبول نہیں اور تیری نماز قبول ہو جائے گی۔
حصین نے جناب حبیب پر حملہ کردیا اور جناب حبیب نے شیر کی طرح اس ملعون کے حملے کا جواب دیا اور اسے تلوار ماری جو اس کے گھوڑے کے منہ پر لگی اور حصین لعین زین سے زمین پر گر پڑا۔ لیکن اس کے ساتھیوں نے جلدی سے جناب حبیب پر حملہ کر دیا اور اس ملعون کو چھڑا لیا۔
جناب حبیب نے کہا
اقسم لو کنا لکم اعدادا او شطر کم ولیتم الاکتاداً
یا شر قوم حسباً وآدا وشر ھم قد عملوا انداداً

ترجمہ:میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر ہم تمہاری تعداد میں ہوتے یا تم سے آدھے ہوتے تو تم کندھے پھیر کر جاتے، اے حسب و نسب کے لحاظ سے بری قوم کہ جس نے اپنے اعمال سے ہر طرف برائی کو پھیلا دیا۔
اور یہ رجز پڑھا‏
انی حبیب و ابی مظاہر فارس ھیجاء و حرب تسعر
و انتم عند العدید اکثر و نحن اعلی حجة و اقھر

میں حبیب ہوں اور میرے والد مظاہر تھے میں جنگ کا شہسوار ہوں جب جنگ بھڑک جائے تم تعداد و تیاری میں زیادہ ہو لیکن ہم زیادہ وفا دار اور زیادہ صابر ہیں ہم حجت کے لحاظ سے اولیٰ ہیں اور زیادہ طاقت والے ہیں۔
بہرحال بڑی سخت جنگ کی یہاں تک کہ ایک روایت کے مطابق باسٹھ افراد کو ہلاک کیا۔ پس بنی تمیم کے ایک شخص نے کہ جسے بُدیل بن صریم کہتے تھے آپ پر حملہ کیا اور آپ کے سر مبارک پر تلوار لگائی اور بنی تمیم کے ایک دوسرے شخص نے آپ کو نیزہ مار کر زمین پر گرا دیا آپ اٹھنا چاہتے تھے کہ حصین بن تمیم نے آپ کو سر پر تلوار مار کر شہید کر دیا پس وہ تمیمی شخص گھوڑے سے اتر اور اس نے ان کا سر تن سے جدا کر لیا۔ حصین کہنے لگا میں تیرے ساتھ اس کے قتل کرنے میں شریک ہوں اس کا سر مجھے دے کہ میں اسے گھوڑے کی گردن میں لٹکا کر گھوڑے کو جولان دوں گا تا کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ میں اس کے قتل میں شریک تھا پھر تو اسے لے کر عبید اللہ کے پاس جا کے انعام وصول کرنا۔
پس اس ملعون نے حبیب کا سر لے کر اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکا کے لشکر میں پھرایا اور پھر اسے واپس کر دیا جب لشکر کوفہ کی طرف واپس گیا تو وہ تمیمی شخص جناب حبیب کا سر اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکا کر قصرالامارہ کی طرف ابن زیاد کے پاس لے جا رہا تھا تو قاسم بن حبیب نے جو ان دنوں نوخیز بچے تھے اپنے باپ کے سر کو دیکھا تو اس سوار کے ساتھ ہو لیا اور اس سے جدا نہیں ہوتا تھا جب وہ شخص دارالامارہ میں جاتا تو یہ ساتھ جاتا اور جب وہ باہر آتا تو یہ ساتھ آتا وہ سوار اس بات سے شک میں پڑا اور اس نے کہا اے لڑکے تجھے کیا ہوا ہے کہ میرے پیچھے لگا ہوا ہے اور مجھ سے الگ نہیں ہوتا۔ اس نے کہا کچھ نہیں وہ شخص کہنے لگا یہ بات بلا وجہ نہیں ہو سکتی مجھے بتا: بچے نے کہا کہ یہ میرے باپ کا سر ہے جو تیرے پاس ہے کیا مجھے دیتا ہے کہ میں اسے دفن کر دوں۔ کہنے لگا:امیر راضی نہیں ہوتا کہ وہ دفن ہو اور میں بھی اچھے قسم کا انعام اس کے قتل کی وجہ سے لینا چاہتا ہوں۔ بچے نے کہا لیکن خدا تجھے اس کی بد ترین سزا دے گا۔ خدا کی قسم تو نے اس شخص کو قتل کیا ہے جو تجھ سے کہیں بہتر تھا یہ کہہ کر رونے لگا اور ہمیشہ انتقام کی فکرمیں رہا یہاں تک کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ میں اپنے باپ کے قاتل کو قتل کیا۔
ابو مخنف نے محمد بن قیس سے روایت کی ہے کہ جب حبیب شہید ہوئے تو ان کی شہادت سے امام مظلوم کو بہت دکھ ہوا اور اس وقت آپ نے فرمایا: میں اپنے حمایت کرنے والے صحابیوں کا حساب اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ بعض مقاتل میں ہے آپ نے فرمایا: اے حبیب خدا تمہارا بھلا کرے تم صاحبِ فضل انسان تھے ایک ہی رات میں قرآن ختم کرتے تھے۔
مخفی نہ رہے کہ حبیب حاملینِ علوم اہل بیت علیھم السلام اور امیر المومنین علیہ السلام کے خاص اصحاب میں شمار ہوتے تھے اور روایت ہے کہ جب ایک دفعہ میثم تمار سے ان کی ملاقات ہوئی اور ایک دوسرے سے کافی دیر باتیں کرتے رہے تو حبیب نے کہا: میں ایک بوڑھے کو دیکھ رہا ہوں جوخربوزے دار الرزق کے قریب بیچتا ہے اسے پکڑ لیں گے اور اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت رکھنے کی وجہ سے سولی پر لٹکائیں گے اور سولی پر اس کا شکم چاک کریں گے۔ اس بوڑھے سے ان کی مراد جناب میثم تھی اور ایسا ہی ہوا جس طرح جناب حبیب نے خبر دی تھی اور اس روایت کے آخر میں ہے کہ حبیب ان ستر افراد میں سے ہیں جنہوں نے امام مظلوم علیہ السلام کی مدد کی اور جو لوہے کے پہاڑ وں کی طرح کھڑے ہوئے اور کئی ہزار تیروں اور تلواروں کے مد مقابل سینہ سپر رہے اور وہ کافر انہیں امان دیتے اور بہت سے مال کا وعدہ کرتے تھے لیکن یہ انکار کرتے اور کہتے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہماری آنکھوں میں حرکت موجود ہو اور امام مظلوم شہید ہو جائیں۔
بعض علماء نے حبیب بن مظاہر، مسلم بن عوسجہ، ہانی بن عروہ اور عبد اللہ بن یقطر کو صحابہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرار دیا ہے۔

صحابی رسول(ص) انس بن حارث کاہلی کا ذکرِ شہادت
ایک دفعہ سید الشہدا علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں تشریف فرما تھے اور قریب ہی جناب انس بن حارث بھی بیٹھے تھے پس آپ(ص) نے فرمایا: میرا یہ بیٹا عراق کی سر زمین پر شہید ہوگا اور جو شخص وہ زمانہ پائے تووہ اس کی مدد کرے۔ جناب انس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جنگ و بدر و حنین میں حاضر ہو چکے تھے۔ عاشور کے دن انھوں نے اپنی کمر کو عمامہ سے محکم و پختہ طریقہ سے باندھا اور اپنے ابرو(جو کہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کی آنکھوں پر پڑے تھے)اوپر کیے اور انہیں ایک رومال سے باندھ دیا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام یہ دیکھ رہے تھے فرمایا کہ شکر اللہ سعیک یا شیخ اے بزرگ خدا تمہاری سعی و کوشش کو قبول کرے یہاں تک کہ کربلا میں سید الشہداء علیہ السلام کی مدد کرتے ہوئے شہید ہوئے اور بڑھاپے کے باوجود بھی اٹھارہ افراد کو قتل کیا۔ (مقتل الحسین، مؤلف سید عبدالرزق مقرم ۔ کتاب اسد الغابہ ،ج1، مؤلف الجزری۔ کتاب الخصائص،ج2مؤلف جلال الدین سیوطی)

صحابی رسول(ص)جابر بن عروہ غفاری کی شہادت
ابی فراس کے قصیدہ کی شرح میں ہے کہ جابر بن عروہ غفاری جو بہت بوڑھے تھے اورصحابی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے انہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کئی جنگوں میں شرکت کی تھی۔ عاشورہ کے دن انہوں نے امام حسین علیہ السلام سے جہاد کی اجازت لی اور دشمنوں پر حملہ کر دیا پس وہ پے در پے حملہ کرتے رہے یہاں تک کہ ساٹھ آدمیوں کو قتل کر کے شہید ہوئے۔رحمة اللہ علیہ و رضوانہ(منتھی الآمال (احسن المقال)جلد1)

شہادتِ سعید بن عبد اللہ حنفی رحمة اللہ علیہ
روایت میں ہے کہ جب ان ملعونوں نے کہنے کے باوجود بھی نماز کے لیے جنگ بندی نہ کی تو حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے زہیر بن قین اور سعید بن عبد اللہ سے فرمایا: کہ میرے سامنے کھڑے ہو جاؤ تا کہ میں ظہر کی نماز پڑھ لوں۔ پس یہ دونوں بزرگوار آپ کے حکم کے مطابق آگے کھڑے ہو گئے اورامام علیہ السلام کو تیر و سنان سے بچانے کے لیے اپنے جسموں کو ڈھال قرار دیا۔ پس امام حسین علیہ السلام نے آدھے اصحاب کے ساتھ نماز خوف پڑھی اور آدھے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے۔
روایت میں ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام نے نماز شروع کی تو دشمن نے تیر برسانا شروع کر دیے سعید بن عبداللہ حنفی حضرت کے سامنے کھڑے ہوئے اور دشمن کے تیروں کو امام علیہ السلام تک نہ پہنچنے دیا اور ہر آنے والے تیر کو اپنے جسم سے روکا، حضرت جہاں کہیں دائیں بائیں جاتے تو وہ بھی حضرت کے آگے ہو جاتے یہاں تک کہ بہت زیادہ تیر ان کے بدن میں پیوست ہو گئے اور وہ نماز کے ختم ہونے کے بعد زمین پر گر گئے اور اس حالت میں عرض کیا خدایا اس گروہ پرقوم عاد و ثمود جیسی لعنت کر، اے میرے پروردگار میرا سلام اپنے پیغمبر تک پہنچا دے اور جو تکلیف اور زخم مجھے لگے ہیں ان کی خبر بھی ان تک پہنچا دے کیونکہ میں نے اس کام میں تیرے پیغمبر کی ذریت کی نصرت و مدد کا ارادہ کیا ہے یہ کہہ کر جان دے دی۔
ان کے بدن میں تلوار و نیزہ کے زخموں کے علاوہ تیرہ تیر لگے ہوئے تھے۔(کتاب مقتل الحسین،مؤلف سید عبد الرزاق مقرم۔ کتاب مقتل الحسین ،مؤلف الخوارزمی۔ کتاب مقتل العوالم) شیخ ابن نما نے کہا ہے کہ حضرت اور آپ کے اصحاب نے نماز فرادی اور اشارہ سے پڑھی تھی۔(کتاب مثیر الاحزان) سعید بن عبد اللہ کوفہ کے سر کردہ شیعوں میں سے مردِ بہادر اور عبادت گزار تھے اور یہ بزرگوار اور ہانی سبیعی کو اہل کوفہ نے کچھ خطوط دے کر امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا تا کہ حضرت کو مکہ سے تیار کر کے کوفہ لے آئیں اور یہ دونوں افراد آخری تھے کہ جنہیں اہلِ کوفہ نے حضرت کی طرف بھیجا تھا۔ وہ زیارت کہ جو شہداء کے ناموں پر مشتمل ہے اس میں ان کا ذکر موجودہے۔

شہادت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ
راوی کہتا ہے کہ زہیر بن قین نے سخت جنگ کی اور یہ رجز پڑھے
انا زھیر و انا ابن القین اذودکم بالسیف عن حسین
ان حسیناً احد السبطین من عترة البرالتقی الزین

میں زہیرہوں اور قین کا بیٹا ہوں میں تلوار کے ساتھ تمہیں حسین علیہ السلام سے دور دھکیلوں گا۔ بے شک حسین علیہ السلام نیک و متقی اور صاحب زینت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو نواسوں میں سے ایک ہیں۔
پھر آگ برسانے والی بجلی کی طرح ان اشرار پر حملہ کر دیا اور بہت سے بہادروں کو ہلاک کیا اور محمد بن ابو طالب کی روایت کے مطابق ایک سو بیس منافقین کو جہنم واصل کیا، اس وقت کثیر بن عبد اللہ صعبی نے مہاجربن اوس تمیمی کے ساتھ مل کر ان پر حملہ کیا اور انھیں شدید زخمی کر دیا، جس کی وجہ سے جناب زہیر زمین پر گر گئے اور ان ملعونوں نے ان کو شہید کر دیا۔ جب جناب زہیر زمین پر گرے تو حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :خدا وند عالم تجھے اپنی بارگاہ کے قریب رکھے اور تیرے قتل کرنے والوں پر وہ لعنت بھیجے کہ جو بندرو خنزیر کی شکل میں مسخ ہونے والوں پر بھیجی تھی۔
جناب زہیر بن قین کی جلالت وشان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے عاشورہ کے دن اپنے لشکر کا میمنہ انہیں سپرد کیا اور نماز پڑھتے وقت انھیں سعید بن عبد اللہ کے ساتھ فرمایا کہ تم میرے سامنے کھڑے ہو جاؤ اور میری حفاظت کرو۔

نافع بن ہلال بن نافع بن جمل رحمہ اللہ کی شہادت
نافع بن ہلال جو امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں سے ایک بہادر تھے ان کے پاس زہر سے بجھے ہوئے تیر تھے اور انہوں نے اپنا نام تیر کے پھل پر لکھا ہوا تھا وہ تیر دشمن پر پھینکتے اور کہتے جاتے
ارمی بھا معلمة افواقھا مسمومة تجری بھا اخفاقھا
لیملان ارضھا رشاقھا و النفس لا ینفعھا اشفاقھا

جناب نافع پے در پے ان تیروں کے ساتھ جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ وہ ختم ہو گئے۔ اس وقت قبضہ تلوار پر ہاتھ رکھا اور جہاد شروع کیا اور یہ رجز پڑھا
انا الغلام الیمنی البجلی دینی علی دین حسین بن علی
اضربکم ضرب غلام بطل و یختم اللہ بخیر عملی

یعنی:میں یمنی قبیلہ بجلی کا جوان ہوں اور میرا دین حسین ابن علی والا دین ہے۔ میں تمھیں شجاع جوان کی ضربیں لگاؤ گا خدا میرے عمل کو بخریت انجام تک پہنچائے۔
روایت میں ہے کہ ستر افراد پسرِ سعد کے لشکر کے قتل کر دئیے اور بہت سے ملعونوں کو زخمی کیا، پھر لشکر نے ان پر حملہ کیا اور ان کے بازو توڑ دئیے اور انہیں قید کر لیا۔ راوی کہتا ہے کہ شمر بن ذی الجوشن ملعون نے انہیں گرفتار کیا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی تھے اور وہ نافع کو عمر سعد کے پاس لے جارہے تھے جب کہ ان کے چہرہ سے خون جاری تھا جب عمر سعد نے انہیں دیکھا تو کہنے لگا وائے ہو تجھ پر اے نافع تجھے کس چیز نے اپنے نفس کے خلاف ابھارا ہے کہ تو نے اس پر رحم نہیں کیا اور اپنے آپ کو اس حالت میں مبتلا کیا ہے۔
نافع نے کہا: خدا جانتا ہے میرا مقصد کیا تھا اور میں اپنے آپ کو ملامت نہیں کرتا کہ تم سے جنگ کرنے میں میں نے کوتاہی کی ہو اگر میرے ہاتھ اور بازو سلامت ہوتے تو تم مجھے قید نہ کرسکتے۔
شمر نے ابن سعد سے کہا: اسے قتل کر دے۔ ابن سعد کہنے لگا: تو اسے لے کر آیا ہے اگر چاہتا ہے تو اسے قتل کر دے۔
پس شمر نے انھیں قتل کرنے کے لیے اپنی تلوار نکالی تو نافع نے کہا: خدا کی قسم اگر تو مسلمان ہوتا تو اپنے لیے اس کو بہت بُری چیز سمجھتا کہ تو ہمارے خون بہا کے خدا سے ملاقات کرے، پس حمد ہے اس خدا کی جس نے ہماری اموات اپنی بد ترین مخلوق کے ہاتھ میں قرار دی ہے۔
پس شمر ملعون نے انہیں شہید کر دیا۔
شیخ عباس قمی اپنی کتاب منتھی الامال میں کہتے ہیں: بعض کتب میں ان کے بجائے ہلال بن نافع کا ذکر ہے اور میرا یہ گمان ہے کہ لفظ نافع ان کتب میں ابتداء میں مذکور نہیں ہے اور اس کا سبب نام میں لفظ نافع کا تکرار ہے۔ یہ بزرگوار بہت بہادر، بابصیرت، شریف اور بلند مرتبہ تھے اور آپ چھپتے چھپاتے سید الشہداء علیہ السلام کی مدد کے لیے کوفہ سے نکلے تھے اور راستہ میں مجمع بن عبد اللہ اور کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ حضرت سے آ کر ملے تھے۔ یہ نافع بن ہلال وہی بزرگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی گفتگو میں سید الشہداء علیہ السلام سے عرض کیا تھا کہ بے شک ہم اپنی بصیرت کی بناء پر اس سے محبت رکھتے ہیں جو آپ کا دوست ہے اورجو آپ کا دشمن ہے اس سے دشمنی رکھتے ہیں۔

عبد اللہ غفاری اور عبد الرحمن غفاری رحمہما اللہ کی شہادت
اصحابِ امام حسین علیہ السلام نے دیکھا کہ ان میں سے بہت سے مارے گئے ہیں اور ان میں یہ طاقت نہیں کہ دشمن کو روک سکیں تو عروہ غفاری کے بیٹے عبد اللہ اور عبد الرحمن جو کوفہ کے بہادروں اور اشراف میں سے تھے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: اے ابا عبد اللہ علیہ السلام آپ پر سلام ہو دشمن ہم پر غالب آچکے ہیں اور ہم اتنے کم ہو گئے ہیں کہ دشمن کو نہیں روک سکتے لہٰذا ہم سے تجاوز کر کے آپ تک پہنچ گئے ہیں پس ہم چاہتے ہیں کہ دشمن کو آپ سے دفع کریں اور آپ کے سامنے قتل ہو جائیں۔ حضرت علیہ السلام نے ان کو اجازت دی اور انہوں نے دشمن پر حملہ کر دیا۔
عبد الرحمن کہتا ہے
قد علمت حقا بنو غفار و خندف بعد بنی نزار
لنضربن معشر الفجار بکل عضب صارم بتار
یاقوم ذو دوا عن بنی الاحرار بالمشرفی والقنا الخطار

یعنی:بنی نزار کے بعد بنی غفار وخندف اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم فاجر لوگوں کو کاٹنے والے نیزے سے مارتے ہیں، اے قوم شریفوں کی اولاد سے دشمن کوتلوار و نیزہ کے ساتھ دور کرو۔
پس دونوں نے شدید جنگ کی اور شہید ہو گئے ان دونوں بھائیوں کومقتل کی کتابوں میں غفاریان کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔

جابریان کی شہادت
راوی کہتا ہے کہ سیف بن حارث بن سریع اور مالک بن عبد اللہ بن سریع آگے بڑھے اور یہ دونوں جابریان کے نام سے مشہور ہیں یہ چچا زاد اور مادری بھائی تھے، پس یہ دونوں امام حسین کی خدمت میں روتے ہوئے آئے۔ آپ نے فرمایا: اے میرے بھائی کے بیٹے تم کیوں روتے ہو، خدا کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ ایک لحظہ کے بعد تمہاری آنکھیں روشن ہوں گی۔ دونوں نے عرض کیا: خدا ہمیں آپ پر قربان کر دے خدا کی قسم ہم اپنی جان کے لیے نہیں روتے بلکہ آپ کی حالت پر گریہ کرتے ہیں کہ دشمنوں نے آپ کو گھیر رکھا ہے اور ان کو روکا نہیں جا سکتا۔ آپ نے فرمایا: خدا تمہیں اس غم و اندوہ کی جزاء دے جو تمہیں ہمارے حال پر ہے اور مجھ سے ہمدردی کی بہترین جزاء دے۔ پس انہوں نے حضرت کو الوداع کہا اور میدان میں آئے اور جنگ کر کے شہید ہوئے۔

شہادتِ حنظلہ بن اسعد شبامی
حنظلہ بن اسعد شجاعت اور وفا کا ثبوت پیش کرتے ہوئے آگے بڑھے اور امام علیہ السلام کے سامنے آ کے کھڑے ہو گئے اور جو کوئی بھی تیر یا تلوار یا نیزہ سے امام علیہ السلام پہ حملہ کرتا وہ اسے اپنے چہرہ اور جسم پر برداشت کرتے اور پکارتے ہوئے کہتے: اے قوم میں ڈرتا ہوں کہ تم لشکر احزاب والے عذاب کا سبب نہ بن جاؤ، مجھے خوف ہے کہ تمہیں وہ عذاب اپنی لپیٹ میں نہ لے لے کہ جو گزشتہ قوموں قومِ نوح و عاد و ثمود اور ان کے بعد کفر و الحاد کا راستہ اختیار کرنے والوں پرواقع ہوا اور خدا کسی قوم پر ظلم نہیں کرتا، اے قوم مجھے تمہارے متعلق قیامت کے عذاب کا ڈر ہے جب میدان محشر سے جہنم کا رخ کرو گے اور تمہیں عذابِ خدا سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا، اے قوم حسین علیہ السلام کو شہید نہ کرو ورنہ خدا تمہیں اپنے عذاب سے ہلاک و فنا کر دے گا اور یقینا وہ شخص بے بہرہ و نا امید ہے جو خدا پر افتراء باندھے اور ان کلمات سے اشارہ کیا ان نصیحتوں کی طرف جو مومن آل فرعون نے قومِ فرعون کو کی تھیں ۔
بعض کتبِ مقاتل کے مطابق حضرت نے فرمایا: اے حنظلہ بن اسعد خدا تجھ پر رحمت نازل کرے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ لوگ اس وقت سے مستحقِ عذاب ہو چکے ہیں جب سے انھوں نے تیری اس حق کی دعوت سے سرتابی کی ہے اور یہ تیرے خلاف ہوئے ہیں اور تجھے اور تیرے ساتھیوں کو برا بھلا کہا ہے، اب ان کا کیا حال ہو گا جبکہ انہوں نے تیرے نیک اور پارسا بھائیوں کو قتل کر دیا ہے۔
حنظلہ کہنے لگے: آپ نے سچ فرمایا،میں آپ پر قربان ہو جاؤں کیا مجھے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جانے اور اپنے بھائیوں سے ملحق ہونے کی اجازت ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: کیوں نہیں جلدی کرو اور اپنے لیے مہیا کی گئی ان نعمتوں کی طرف جاؤ جو دنیا اور اس دنیا میں موجود ہر چیز سے
حضرت عباس(ع) کی شہادت
حضرت عباس(ع) کی آخری آس جو پوری نہ ہوسکی
عصر عاشور امام حسین(ع) کے تمام یار و انصار شہادت کے رفیع درجے پر فائز ہوئے ۔ صبح سے سہ پہر تک حضرت عباس(ع) امام حسین(ع) کے ساتھ جوانان بنی ہاشم اور اصحاب با وفاء کی لاشیں اٹھا اٹھا کر نڈھال ہوگئے تھے اپنے بھائیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھ چکے تھے ۔
حضرت عباس(ع) کو سب سے بڑھ کر بھائی کی تنہائی اور چھوٹے بچوں کی شدت پیاس سے العطش کی صدائیں برداشت نہیں ہو پا رہی تھیں۔ حضرت عباس(ع) نے میدان میں جانے کی اجازت چاہی لیکن امام والا مقام(ع) نے یہ کہہ کر ٹالا کہ آپ میرے لشکر کے سپہ سالار اور علمدار ہیں۔ امام حضرت عباسؑ کی موجودگی سے احساس توانمندی کرتے تھے اور دشمن بھی عباسؑ کی موجودگی میں خیام حسینی ؑ پر حملہ کی جرأت نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت عباسؑ کے اصرار پر آپ کو فقط بچوں کی پیاس بجھانے کے لئے پانی فراہم کرنے کی اجازت ملی ۔ آپ ؑ مشکیزہ ساتھ لئے نہر فرات کی طرف بڑھے ، دشمن کا محاصرہ توڑ کر نہر فرات پہنچے ، ایک چلو پانی لیا پیاس کی شدت بڑھ رہی تھی ۔ لیکن آپ نے پانی نہر فرات پر پھینکا اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر کہنے لگے: اے عباسؑ یہ تیرے آئین (وفاء) کے خلاف ہے کہ تو اپنے مولا حسین ؑ اور ان کے ننھے بچوں اور مخدرات سے پہلے اپنی پیاس بجھائے ۔ مشکیزہ پانی سے بھر کر خیام حسینی کی طرف چل دیئے ، فوج اشقیاء مانع بنی لیکن ثانی حیدر ان کو مولی گاجر کی طرح کاٹتے ہوئے آگے بڑھتے گئے ، عباس کی ایک آس تھی کہ کسی طرح پانی کا مشکیزہ خیام حسینیؑ تک پہنچا دیں لیکن ایک بزدل نے پیچھے سے گھات میں لگا کر آپ ؑ کا دایاں بازو جدا کیا لیکن آپ نے مشکیزہ کو بائیں ہاتھ سے پکڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن ایک بد ذات شقی نے چھپ کر پیچھے سے بائیں بازو کو بھی شہید کر ڈالا لیکن شجاعت کے پیکر عباسؑ نے اس حالت میں بھی ہمت نہیں ہاری، مشکیزہ کو دانتوں سے پکڑ کر پاؤں سے دفاع کرتے ہوئے آگے بڑھے، لیکن دشمنوں نے ایک دفعہ مشکیزے پر تیروں کی بارش کی اور پانی زمین کربلا میں گرا ، یوں عباس کی آس ٹوٹ گئی ۔ ایک ظالم نے گرز جفا کو آنحضرت ؑ کے سر اقدس پر مارا اور آپؑ اسی حالت میں زمین کربلا پر گرے درحالیکہ دونوں بازو جدا ہو چکے تھے ؛ مولا حسینؑ کو آخری سلام دیا ۔ امام حسین ؑ آپؑ کی شہادت پر بہت روئے ۔ عرب شاعر نے کہا :
احق الناس ان یبکی علیہ فتی ابکی الحسین بکربلاء
اخوہ وابن والدہ علی ابوالفضل المضرج بالدماء
و من واساہ لا یثنیہ شئی و جادلہ علی عطش بماء
کتاب لہوف سید بن طاؤوس ، ص ۱۶۱
ترجمہ : لوگوں کے رونے کے زیادہ حقدار وہ جوان ہے کہ جس پر کربلاء میں امام حسین ؑ روئے ۔ وہ ان کے بھائی اور بابا علی ؑ کے بیٹے ہیں ۔ وہ حضرت ابوالفضل ہیں جو اپنے خون سے نہلا گئے ۔ اور اس نے اپنے بھائی کی مدد کی اور کسی چیز سے خوف کھائے بغیر ان کی راہ میں جہاد کیا اور اپنے بھائی کی پیاس کو یاد کر کے پانی سے اپنا منہ پھیرا ۔(انا للہ و انا الیہ راجعون)
تاریخ نگاروں نے شہادت ابوالفضل(ع) کی کیفیت کے بارے میں مختلف روایات نقل کی ہیں:
خوارزمی کہتے ہیں: عباس(ع) میدان کارزار میں اترے اور رجز خوانی کرتے ہوئے دشمنوں پر حملہ آور ہوئے اور متعدد دشمنوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کے بعد جام شہادت نوش کرگئے ۔ پس امام(ع) بھائی کے سرہانے حاضر ہوئے اور فرمایا:
الآن انْكَسر ظهری وقَلّت حيلتي؛ (ترجمہ: اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میں بے سہارا ہوگیا)
الخوارزمی، الموفق بن احمد؛ مقتل الحسین(ع)، ج2، ص34/حادثه کربلا در مقتل مقرم، ص262۔
ابن شہر آشوب نے آپ کی شہادت کے بارے میں لکھا ہے: "عباس، سقّا، قمر بنی ہاشم اور علمدار امام حسین(ع) جو اپنے دوسرے سگے بھائیوں سے بڑے تھے، پانی کے حصول کے لئے باہر نکلے۔ دشمن نے آپ پر حملہ کیا۔ اسی اثناء میں ایک درخت کے اوٹ میں گھات لگائے حکیم بن طفیل سنبسی نے آپ کے داہنے ہاتھ پر وار کیا تو آپ نے کہا:
خدا کی قسم! اگرچہ تم نے میرا دایاں ہاتھ کاٹ دیا ہے پھر بھی؛ میں یقینا اپنے دین کی حمایت ابد تک جاری رکھوں گا؛ اور صادق الیقین امام(ع) کی حمایت؛ جو جو پاک و طاہر و نبيِ امین(ص) کے فرزند ہیں؛ جاری رکھوں گا۔
لواعج الأشجان ، ص179 و معالم المدرستین ج3ص130۔
تھوڑی دیر بعد دوسری ضربت آپ کے بائیں ہاتھ پر لگی اور آپ کا دوسرا بازو بھی قلم ہو گیااس دوران عباس نے رجز کے طور پر یہ اشعار پڑھے:
اے میری جان کافروں سے خوفزدہ نہ ہونا، میں تجھے پیغمبر اکرم(ص) کی مصاحبت کی بشارت دیتا ہوں، انھوں نے ظلم و ستم کرکے میرا بایاں ہاتھ قلم کردیا، اے میرے پروردگار! انہيں دوزخ کی کڑکڑاتی آگ میں پھینک دے۔
عبدالرزاق موسوی مقرم، حادثه کربلا در مقتل مقرم، ص262
اس کے بعد ایک ملعون نے آہنی گرز کا سر پر وار کرکے حضرت عباس کو شہید کردیا۔
کتاب مناقب آل ابی طالب(ع) ، ابن شهرآشوب، ج4، ص108
جناب عباس بن علی بن ابی طالب(ع) آخرین شہید از اصحاب اور آل ابی طالب کے آخری شہید تھے اور آپ کے بعد آل ابی طالب کے کئی نہتے بچے شہید ہوئے ہیں۔بومخنف، کتاب مقتل الحسین، ص180 ، ابوالفرج؛ کتاب مقاتل الطالبیین، ص89.
حضرت عباس(ع) کی عمر شہادت 34 سال سے کچھ زيادہ تھی
ابن عنبه؛ عمدة الطالب فی انساب آل ابیطالب، ص280 و طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الهدی، ج1، ص395.حضرت عباس کے مصائب کے لئے رجوع کریں{شہ ملک وفا، حضرت عباس (ع) کے مصائب}۔