روضہ مبارک کی تاریخ
روضہ مبارک کی تعمیر و ترقی کے مراحل
کربلا کے مقدس اورتاریخی مقامات کی زیارت کے لیے آنے والوں کی سب سے پہلی نظر جس چیز پر پڑتی ہے وہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضوں کے سنہری مینار اور گنبد ہیں۔ پس سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے علمدار بھائی حضرت عباس علیہ السلام کا روضہ اس شہر کے لیے پیشانی پہ نصب نگینے اور انقلابی روحوں اور حریت پسندوں کے لیے زندگی کی خبر دینے والے دھڑکتے ہوئے دل کی حیثیت رکھتا ہے اور طاغوت کی تمام تر بندشوں کے باوجود حق کے آسمانی پیغام کی ہمیشہ بقا کی علامت اور یادگار ہے ۔

یہاں آنے والا ان مراقد کے سامنے کھڑے ہو کر ان سے شجاعت و دلیری ،ایثار و قربانی اور حق کے اصولوں پر ثابت قدمی کے وہ معانی و مفاہیم اور دروس کسب کرتا ہے کہ جن کی تعلیم سید المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دی اور تاریخ عالم میں گزرنے والی سب سے بڑی مصیبت اور اسلام کو پیش آنے والی سب سے بڑی مشکل کے وقت رسول اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تعلیم کردہ یہی معانی اور
مفاہیم کربلا کے میدان میں ایک جسدی صورت میں ابھر کر سامنے آئے اور اسلام کو شیطانی طاقتوں کے چنگل سے نجات عطا کرکے اسے رہتی دنیا تک ابدی حیات بخشی اور اسی وجہ سے کہا جاتا ہے :الاسلام محمدی الوجود حسینی البقاء یعنی: اسلام کا وجود حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اسلام کی بقا حضرت امام حسین علیہ السلام کے مرہونِ منت ہے۔

جب زائر ان مقدس مراقد کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اسے کربلا میں رونما ہونے والا المناک حادثہ اور ہولناک مصیبت یاد آجاتی ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ اکثر صالحین کی یہ سیرت رہی ہے کہ جب بھی وہ کربلا میں زیارت کے لیے آتے ہیں تو سب سے پہلے قمرِ بنی ہاشم، فخرِ عدنان حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے روضہ مبارک پر حاضری دیتے ہیں اور اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں کیونکہ حضرت عباس علیہ السلام ہی حضرت امام حسین علیہ السلام کے وزیر اور ان تک پہنچنے کا دروازہ ہیں،کہا جاتا ہے کہ جو بھی گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ دروازے سے ہی داخل ہوتا ہے۔

زیارت کے لیے آنے والا حضرت عباس علیہ السلام کے حرم میں آدابِ زیارت بجا لاتا ہے اور حضرت عباس علیہ السلام کے مرقد مبارک کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے اور علمدارِ وفا کی قبر اقدس اسی جگہ پر ہے کہ جہاں وہ دس محرم 61ہجری کو فرات کے قریب شہید ہوئے تھے۔ قبیلہ بنی اسد نے حضرت امام سجاد علیہ السلام کے حکم کے مطابق حضرت عباس علیہ السلام کو الگ سے ان کی جائے شہادت پہ ہی دفن کیا اور باقی شہداء کربلا کو امام حسین علیہ السلام کے مرقد کے قریب دفن کیا۔ ظاہری طور پر جناب عباس علیہ السلام کو الگ دفن کرنے کی وجہ یہ تھی کہ جنابِ عباس علیہ السلام کے جسم پر تیروں، تلواروں اور نیزوں وغیرہ کے اتنے زیادہ زخم تھے کہ پورا بدن زخموں سے چھلنی ہو گیا تھا اور لاشہ کو صحیح و سالم اٹھانا ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے امام سجاد علیہ السلام نے انہیں وہیں دفن کر دینے کا حکم دیا۔

لیکن امام سجاد علیہ السلام کے جناب عباس علیہ السلام کو اس طرح سے الگ دفن کرنے میں اور بھی بہت سے اسرار تھے اور ظاہری طور پر کم ازکم حضرت عباس علیہ السلام کو الگ دفن کرنے کے نتیجہ میں اپنی مکمل تفاصیل کے ساتھ ایک الگ سے روضہ تعمیر ہوا اور الگ سے ضریح بنائی گئی اور اسلام کی دنیا میں حق کے بلند و بالا میناروں اور راہِ حق کی رہنمائی کرنے والی مشعلوں میں سے ایک حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ کی صورت میں سامنے آئی اور دنیا والوں کو حضرت عباس علیہ السلام کی عظمت و منزلت باقی شہداء سے بلند اور واضح ترین شکل میں نظر آئی۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے میری پھوپھی حضرت زینب علیہا السلام نے بتایا: کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے کچھ لوگوں سے وعدہ لے رکھا ہے کہ جن لوگوں کو اس امت کے فرعون نہیں جانتے لیکن یہ لوگ اہلِ آسمان میں مشہور و معروف ہیں یہ لوگ ان بکھرے ہوئے اعضا اور زخموں سے چُور جسموں کو اکٹھا کر کے دفن کریں گے اور اس کربلا میں تمہارے بابا امام حسین علیہ السلام کی قبر کی ایسی علامت نصب کریں گے کہ جس کا اثر کبھی نہ مٹے گا اور نہ اس کی صورت زمانے کے گزرنے سے محو ہو گی اور کافر سلاطین اور ذلیل و پست لوگ اس کو جتنا زیادہ مٹانے اور محو کرنے کی کوشش کریں گے یہ اتنا زیادہ ظاہر ہو گا اور رفعت و بلندی اختیار کرے گا۔(کتاب بحار الانوار جلد 45صفحہ 179.180) حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کی تعمیر و ترمیم اور توسیع کے حوالے سے یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ جس کسی نے بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کی تعمیر کا کام کیا اسی نے ہی حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کا بھی تعمیری کام کروایا۔ یعنی اکثر یہ تعمیراتی کام حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ سے شروع ہوتا اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک پر ختم ہوتا ۔مؤرخین کے مطابق تعمیر کا یہ کام بادشاہوں ،امراء اور ثروت مند افراد کے ذریعے ہوتا رہا ہے ۔لیکن صدام کی طاغوتی حکومت کے2003/4/9میں ختم ہو جانے کے بعد روضوں کے امور اور انتظامات میں بہت بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے اور نجف اشرف میں موجود مراجع عظام کی سربراہی میں تعمیر و ترقی اور باقی تمام امور کا انتظام حرم کے ادارے کے ہاتھوں میں آگیا ہے اور حرم کے ادارے نے بہت زیادہ شعبوں کا اضافہ کیا ہے اور اس کو بہت زیادہ ترقی دی ہے۔

عراق سے تعلق رکھنے والا حرم کا سٹاف خود تمام نئے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتا ہے اور ان کی سر پر ستی کرتا ہے جب کہ اس سے پہلے حرم سے باہر کا عملہ آکر تعمیراتی کاموں کو سر انجام دیتا تھا جس سے کبھی تو کام کے مکمل ہونے میں بہت تاخیر ہو جاتی تھی اور کبھی حرم کا بہت زیادہ پیسہ ضائع ہو جاتا تھا۔لیکن اب حرم کا اپنا عملہ بغیر کسی واسطہ کے تمام کاموں کو سر انجام دیتا ہے۔ حرم مبارک تعمیر و توسیع کے جن مراحل سے تاریخ میں گزرا ہے ہم اس کو سن ہجری کی صدیوں میں تقسیم کر کے تحریر کریں گے اور یہ بات واضح رہے کہ اس حوالے سے ہم جن تعمیراتی کاموں کو تاریخی حوالے سے ذکر کریں گے ان میں سے بعض اپنے حجم میں بہت چھوٹے ہیں مثلاً کسی دروازے کا تبدیل کر دینا یا پھر حرم میں رنگ و روغن وغیرہ کا کام۔

لیکن صدام کی ظالمانہ حکومت کے ختم ہونے کے بعدحرم نے جن منصوبوں پہ کام شروع کیا ہے وہ اپنی نوعیت کے بہت بڑے اور وسیع پیمانے کے منصوبے ہیں لیکن ہم تاریخ میں ہوئے تمام معمولی اور بسیط کاموں کو بھی ذکر کریں گے تاکہ اس موضوع پر لکھی گئی تحریر کا حق ادا ہو سکے اور قارئین گزشتہ تاریخ اور موجودہ زمانہ کے درمیان فرق کو محسوس کر سکیں ۔
مزید
پہلی صدی ہجری
دوسری صدی ہجری
تیسری صدی ہجری
چوتھی صدی ہجری
پانچویں صدی ہجری
چھٹی صدی ہجری
ساتویں صدی ہجری
آٹھویں صدی ہجری
نانویں صدی ہجری
دسویں صدی ہجری
گیارھویں صدی ہجری
بارھویں صدی ہجری
تیرھویں صدی ہجری
چودھویں صدی ہجری
پندرھویں صدی ہجری
روضہ مبارک پر حملے اور انہدام

دس محرم 61ہجری کے المناک حادثہ اور ہمیشہ باقی رہنے والے انقلاب کے بعد جب شہداء کربلا کے مراقد کو پہلی مرتبہ تعمیر کیا گیا اور بالکل ہی عام قبروں کی طرح علامتِ قبر کو بنایا گیا تو اسی وقت سے ہی طاغوت کی طرف سے کربلا کے ان مقدس مراقد کے زائرین کو قتل اور حراساں کرنااور ان کے تقدس اور احترام کو پامال کرنا لازم قرار پایا ۔

کربلا کے ان مقدس مراقد کے ساتھ مختلف طریقوں سے آج تک پیش آنے والے حوادث میں غور و فکر کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ظالم و طاغوت اور گمراہیوں کے راستے پر چلنے والے کربلا میں موجود ان عظیم و مقدس رموز سے ہمیشہ سے ہی خوف زدہ رہتے ہیں کہ جو رموز اس ملک میں ظاہر ہوئے اور جنھوں نے تمام ممالک کے مظلوم لوگوں اور ظالم حکمرانوں کی ظلم و بربریت کی چکی میں پس نے والے ناداروں کے لیے حریت اور آزادی کا راستہ روشن کیا۔ کربلا کے یہ رموز ظالموں کے خلاف قیام کی ترغیب اور عمل کا جذبہ عطا کرتے ہیں اور اعوان و انصار کی کمی کے باوجود بھی مظلوموں کو فتح و نصرت اور کامیاب
ی کی بشارت دیتے ہیں اگرچہ یہ کامیابی کچھ عرصہ کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ظالم حکمران اور ان کے ہم خیال ان قبروں کے نشانات کو مٹانے اور اپنے گمراہ کن اور باطل نظریات کے ذریعے ہدایت و رہنمائی کے اس سورج کو چھپانے میں ہمیشہ سے ہی کوشاں ہیں۔

تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جن لوگوں نے بھی اپنے مفادات یا اپنی حکومت و سلطنت کو استحکام دینے کے لیے کربلا کے روضوں پر جسارت کی اور انہیں منھدم کیا وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اس قبیح ترین فعل کے ذریعے اللہ کی ہدایت کا یہ نور بجھ گیا ہے لیکن ان ظالم حکمرانوں کے نصیب میں فقط لعنت اور گھاٹا ہی آیا جب کہ کربلا کے ان روضوں کے تقدس و احترام میں اضافہ ہوا اور واقعہ کربلا نے بلندی حاصل کی اور اسی بات کی تائید جناب زینب سلام اللہ علیھا کا یہ فرمان بھی کرتا ہے کہ جو انہوں نے حضرت امام سجاد علیہ السلام سے ارشاد فرمایاجناب زینب سلام اللہ علیھا فرماتی ہیں:اللہ تعالیٰ نے اس امت کے کچھ لوگوں سے یہ وعدہ لے رکھا ہے کہ جن لوگوں کو اس امت کے فرعون نہیں جانتے لیکن وہ لوگ آسمان والوں میں معروف و مشہور ہیں پس وہ لوگ ان بکھرے ہوئے اعضاء اور زخموں سے چُور جسموں کو اکٹھا کر کے دفن کریں گے اور وہ اس میدان کربلا کے ذریعے تمہارے بابا کی قبرپہ ایسی نشانی نصب کریں گے کہ زمانے کے گزرنے سے نہ تو اس کا اثر چھپے گا اور نہ ہی اس کی صورت مٹے گی اور کافروں کے سربراہ اور گمراہی کے پیروکار ان قبروں کو جتنا بھی مٹانے اور چھپانے کی کوشش کریں گے اتنا ہی ان کا اثر زیادہ اور واضح ہو گا اور ان کا اصل واقعہ بلندی اختیار کرے گا ۔(کتاب کامل الزیارات مؤلف ابن قولویہ صفحہ 260.266)

امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار کو کربلا میں بے دردی سے شہید کرنے اور خاندانِ رسالت کی خواتین اور بچوں کو قید کرنے کے بعد ظاہری طور پرتاریخ میں بنی امیہ کو کربلا میں موجود مراقد کو مسمار کرنے کا موقع فراہم نہ ہوسکا یا شاید تاریخ کے اندھیرے کنویں اس پہلو کو ہم سے چھپانے میں کامیاب ہو گئے تاریخ کے ظاہر کے مطابق بنی امیہ نے کربلا میں موجود قبروں کو تو مسمار نہ کیا لیکن کربلا کے گرد پہرے بٹھائے رکھے اور کربلا کے راستوں پر چوکیاں بنائے رکھیں اور جو بھی امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے لیے جاتا اس کو سخت سے سخت سزا دی جاتی اور اسے قتل کر دیا جاتا۔ لیکن عباسی حکومت نے آتے ہی نا صرف بنی امیہ کی اس قبیح سیرت کو باقی رکھا بلکہ عباسی حکومت نے زائرین کی قتل و غارت گری کے ساتھ ساتھ کربلا میں موجود مراقد کو بھی متعدد بار مسمار کیا اور ان قبروں کا نشان مٹانے کی مکمل کوشش کی۔

حرم کو مسمار اور منھدم کرنے کے واقعات کو ہم نے سن ہجری کے اعتبار سے صدیوں میں تقسیم کرکے مختصر طور پر ان واقعات کو بیان کیا ہے ۔
مزید
دوسری صدی ہجری
تیسری صدی ہجری
نانویں صدی ہجری
تیرھویں صدی ہجری
پندرھویں صدی ہجری
روضہ مبارک کا ادارہ اور انچارج
روضہ مبارک کے اداری سربراہان کی تاریخ
اس مقدس مقام کی اہمیت کے پیش نظر یہاں کسی ایسے ادارے کا ہونا بہت ضروری ہے کہ جو اس مقدس مقام کی حفاظت، تعمیر و ترقی اور یہاں آنے والے کروڑوں زائرین کے امور کو منظم و مرتب کرے۔(2) اور اسی طرح اس مقدس مقام کی دیکھ بھال کے لئے کام کرنے والے ادارے کے لئے کسی سربراہ کا ہونا بھی بہت ضروری ہے چاہے یہ مقدس مقام ظاہری وسعت کے حوالے سے چھوٹا ہو جیسا کہ ابتدائی زمانے میں یہ حرم فقط ایک چھوٹی سی مسجد پر مشتمل تھا(3) یا پھر یہ مقام ظاہری وسعت اور کام کے حوالے سے وسیع ہو جیسا کہ آج کے اس دور میں ہے۔
روایات اور شرعی قوانین سے یہ بات ثابت ہے کہ آئمہ اطھار علیھم السلام اور ان کی اولاد کے مراقد اور روضے اوقاف عامہ میں مندرج ہوتے ہیں اور اوقاف عامہ کے تمام امور اور انتظامات کی ذمہ داری اور ان کی اداری سربراہی حاکم شرعی کے ذمہ ہوتی ہے اور چونکہ حضرت عباس علیہ السلام کا روضہ مبارک بھی اوقاف عامہ سے تعلق رکھتا ہے لہٰذا فقط حاکم شرعی کی طرف سے ہی مقرر کردہ
شخص کے لئے اس مقدس مقام کے انتظامی اور اداری امور کو چلانا جائز ہے اور کسی بھی دوسرے شخص کو شرعی طور پر یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی مقدس مقام پر کسی کی تعیین اور تقرری کرے۔ اس طرح کے مقدس مقامات کا اداری نظام حاکم شرعی یا اس کے نمائندے کے ذریعے شرعی قواعد و ضوابط کی روشنی میں انجام پاتا ہے اور شرعی قوانین اور قواعد و ضوابط صرف حاکم شرعی ہی صحیح معنوں میں جانتا ہے۔
حضرت عباس علیہ السلام کا روضہ مبارک کافی عرصے تک حاکم شرعی یا حاکم شرعی کے تابع افراد اور ان کی طرف سے معین کردہ شخصیات کے ہاتھ میں رہا لیکن گزشتہ دو صدیوں میں حکومتوں اور سامراجی طاقتوں کی دخل اندازی کی وجہ سے اکثر حاکم شرعی کی رضا مندی کے بغیر ہی بہت سے دوسرے افراد روضہ مبارک کے انچارج بنتے رہے۔ لیکن 9/4/2003 میں طاغوتی حکومت کے خاتمے کے بعد روضہ مبارک کا کا ادارہ پھر سے حاکم شرعی کی سربراہی میں کام کرنا شروع ہو گیا۔
پہلے پہل جو شخص بھی روضہ مبارک کا انچارج ہوتا تھا اس کو (خازن) یا پھر (سادن) کہا جاتا تھا لیکن 9/4/2003 کے بعد روضہ مبارک کے ادارے کی سربراہی کسی ایک شخص کی بجائے ایک کمیٹی کے ہاتھوں میں آئی صدامی و بعثی حکومت کے خاتمے کے بعد نجف اشرف میں موجود اعلیٰ دینی مرجع و مجتہد کے حکم پر ان کے نمائندے نے کربلا کے دونوں حرموں میں انتظامی ادارہ کے طور پر عبوری مدت کے لئے ایک ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس کمیٹی کو (لجنۃ ادارۃ الروضۃ) کا نام دیا گیا۔
اہل بیت علیھم السلام کی شریعت کے مطابق حاکم شرعی ہی آئمہ اور ان کی اولاد کے روضوں اور حرموں کا متولی اور انچارج ہوتا ہے لہٰذا 2003میں ملک پر سامراجی طاقتوں کے قبضہ اور تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور عالمی دہشت گردوں کی طرف سے لاحق خطرات کے پیش نظر نجف اشرف میں موجود اعلیٰ دینی مرجع و مجتہد نے بغیر کسی تاخیر کے روضوں کے انتظامات کو اپنے ہاتھوں میں لینا ضروری سمجھا تاکہ گزشتہ فراغ کی بھی تلافی کی جا سکے اور دوسری طرف روضوں کو لاحق مختلف خطرات سے بھی نمٹا جا سکے۔ پس طاغوتی حکومت کے خاتمے کے چند ہفتے بعد اعلیٰ دینی مرجعیت کی طرف سے کربلا کے تمام مقدس مقامات اور روضوں کی دیکھ بھال اور اداری امور سنبھالنے کے لئے ایک سپریم کمیٹی تشکیل دے دی گئی جسے (اللجنۃ العُلیا لاادارۃ العتبات المطھرۃ فی کربلاء) کا نام دیا گیا۔ پس اس سپریم کمیٹی کو تحریری طور پر نجف اشرف میں موجود چار بڑے مجتہدین کی حمایت حاصل تھی۔ پس یہ سپریم کمیٹی (لجنۃ عُلیا) ہی کربلا کے روضوں کی شرعی انچارج تھی پس اس سپریم کمیٹی (لجنۃ علیا) نے دونوں روضوں میں (مُشرف) کے نام سے ایک ایک فرد کو حرم کے ادارے کے انچارج کے طور پر معین کیا کہ جو اس سپریم کمیٹی کی طرف سے صادر ہونے والے احکامات کو روضہ مبارک کے ادارے میں نافذ کرتا تھا۔ پس یہ سلسلہ 20/7/2006 تک جاری رہا۔ پھر اس کے بعد 2005ء میں پاس ہونے والے نئے عراقی دستور کی شِک نمبر19 کے قانون کے مطابق اعلی دینی مرجع کی حمایت و تصدیق سے ہر روضے کے لئے الگ سے ایک انچارج کی تعیین و تقرری کی گئی اور اس انچارج کو سادن کی بجائے (امین عام) کا نام دیا گیا۔
ہم اس تحریر میں گیارھویں صدی ہجری سے لے کر اب تک جن افراد نے روضہ مبارک کے اداری انچارج کے طور پر کام کیا ان کے نام اور کام کرنے کی مدت کو بیان کریں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ بعض جگہ ایک انچارج کے فوت ہو جانے یا ادارے کی سربراہی ترک کرنے کے بعد دوسرے انچارج کے عہدہ سنبھالنے کی تاریخ کے درمیان بہت زیادہ وقت کا فاصلہ آتا ہے۔ بعض مؤرخین کے مطابق ایک انچارج کے فوت ہو جانے کے بعد دوسرے انچارج کے انتخاب اور تقرری میں تاخیر کی وجہ بہت سے امور کی انجام دہی ہے جس کی وجہ سے تاریخ میں روضہ مبارک کے ایک انچارج کے فوت ہو جانے کے بعد دوسرے انچارج کے عہدہ سنبھالنے تک کافی زمانی فراغ موجود میں آیا جیسا کہ 9/4/2003 کے بعد کافی عرصے تک عراق کی حکومت بغیر کسی سربراہ اور اداری انچارج کے ہی رہی اور ہم اس بات کی طرف بھی اپنی اس تحریر میں اشارہ کریں گے پہلے حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کا انچارج الگ سے نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کا انچارج ایک ہی شخص ہوتا تھا۔ اداری طور پر حضرت عباس علیہ السلام کا روضہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ کے تابع یا اس سے ہی ملحق ہوتا تھا پس حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کا انچارج کسی شخص کو حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک میں اپنا نائب بنا دیتا تھا کہ جو حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کے تمام اداری و غیر اداری کاموں کو سر انجام دیتا تھا۔ (4)
اسی طرح یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ تاریخ میں کوئی ایسی خاص تحریر نہیں ہے کہ جس سے ہم کو قبر اقدس پر تعمیر کے بعد سے کسی انتظامی ادارے اور اس کے انچارج کے نام کا پتہ چل سکے۔ بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومتوں کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر اقدس کی زیارت کرنا جرم تھا لہٰذا باقاعدہ طور پر کوئی ادارہ یا اس کے انچارج کے بارے میں بھی معلومات کا ملنا بہت مشکل ہے۔ ممکن ہے کہ روضہ مبارک کے لئے کسی باقاعدہ ادارے اور انچارج کی تقرری کا آغاز 132 ھجری سے شروع ہو گیا ہو لیکن 132ہجری لے کر دسویں ھجری کے وسط تک روضہ مبارک کے ادارے اور اس کے انچارج کے بارے میں تاریخ یا تو بالکل خاموش ہے اور اگر کہیں اس سلسلہ کے بارے میں ذکر ہوا بھی ہے تو وہ اتنا مختصر اور اجمالی ہے کہ اس سے مکمل طور پر ادارے کے بارے میں معلومات کا ملنا ناممکن ہے۔ ہم تک جو معلومات پہنچی ہیں ان کے مطابق سب سے پہلے عباسی خلیفہ مہدی کی والدہ ام موسیٰ نے کچھ افراد کو روضہ مبارک کے امور کی دیکھ بھال کے لئے معین کیا اور ان کے لئے باقاعدہ تنخواہ کا بھی انتظام کیا، البتہ ہارون رشید نے تخت حکومت سنبھالنے کے بعد روضہ کے انتظامات کے لیے مقرر کردہ خادموں کو ہٹا کر روضہ مبارک مسمار کر دیا۔
ام موسی کی طرف سے مقرر کردہ یہ پہلا باقاعدہ اور رسمی ادارہ تھا کہ جو روضہ مبارک کی دیکھ بھال کے لئے مقرر کیا گیا تھا(6) اور یہ ادارہ حضرت امام حسین علیہ السالم اور حضرت عباس علیہ السلام دونوں کے ہی مراقد کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔
سید ابن طاؤوس کی کتاب فرحۃ الغری میں پہلی دفعہ واضح طور پر حرم کے جس ادارے کا ذکر کیا گیا ہے وہ عضد الدولۃ کے زمانے کے بارے میں ہے۔ پس جب عضد الدولۃ 371 ھجری میں کربلا آیا تو اس نے کربلا میں رہنے والے تمام افراد کو ان کے مرتبے کے مطابق روپیہ پیسہ دیا اور حرم کے نگہبانوں، خزانچی، دیگر خدام اور اداری سربراہ کو تحفے دیے اور حرم کے اداری ارکان ہونے کے ناطے ابی الحسن العلوی، ابی القاسم بن ابی عابد اور ابی بکر بن سیار کو اموال سے نوازا گیا۔(7)
ظاہری طور پر اس زمانے میں روضہ مبارک کے انچارج کا کام فقط روضہ مبارک کی دیکھ بھال کرنا تھا اور شہر کے باقی امور میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوا کرتا تھا اور عوامی مسائل اور شہر کے انتظامات کا کام نقیب الاشراف کے ذمہ ہوا کرتا تھا۔(8)
سن656 ھجری میں مغولوں(تاتاریوں) کے عراق پر حملے کے بعد کے زمانے کی عراقی تاریخ ایک عرصہ تک اندھیرے میں چلی گئی اس تاریک دور کے حوالے سے ہمارے پاس ایسے مصادر اور کتابیں نہیں پہنچیں کہ جن میں روضہ مبارک کے ادارے کے بارے میں کوئی ذکر ہو۔ اس کے بعد آٹھویں صدی ھجری کے شروع میں قبیلہ بنی اسد کے کچھ افراد نے روضہ مبارک کے امور اور حفاظت کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لی، اس قبیلے کو عراق کے اکثر علاقوں میں اہمیت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ابن بطوطہ نے تحفہ النظار میں لکھا ہے کہ جب وہ عراق میں آیا تو کربلا میں دو علوی قبیلوں آل فائز اور آل زحیک کے درمیان نزاع اور جھگڑا چل رہا تھا جس سے شہر کے حالات خراب تھے(9)۔ چند دوسری کتابوں میں مذکور ہے کہ دونوں قبیلوں کے درمیان اختلافات کی وجہ امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کے ادارے کی سربراہی اور شہر کی نقابت تھی اور اس وقت روضہ مبارک کے ادارے کی سربراہی آل فائز کے ہاتھوں میں تھی۔(10)
آٹھویں صدی ھجری کے وسط میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کا انچارج شیخ محمد شمس الدین حائزری اسدی تھا اور اس بات کی طرف شہید ثانی کا وہ اجازہ اشارہ کرتا ہے کہ جو انہوں نے کربلا میں لکھا تھا۔(11)
ڈاکٹر عماد عبد السلام رؤوف کہتے ہیں مذکورہ شدہ دو قبیلے ایک دوسرے کے بعد باری باری نقیب الاشراف کا منصب سنبھالتے تھے۔ ان دونوں قبیلوں آل فائز اور آل زحیک نے آپس میں یہ معاہدہ کیا ہوا تھا کہ دونوں میں سے ایک قبیلہ نقیب الاشراف کا منصب سنبھالے گا اور دوسراقبیلہ روضہ مبارک کا ادارہ اپنے ہاتھ میں لے گا اور شاید ہو سکتا ہے دونوں قبیلوں نے ایک دوسرے سے اپنے اپنے منصب کا تبادلہ کر لیا ہو لیکن اس سے دونوں قبیلوں میں طے شدہ معاہدے میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی اور دوسری بات یہ ہے کہ نقیب الاشراف کا منصب اور روضہ مبارک کا ادارہ دونوں ہی اپنی اپنی طاقت اور لوگوں میں اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک دوسرے سے کم نہ تھے۔
سن1216 ھجری سے 1220 ھجری کے عرصہ میں وھابیوں کے کربلا اور اس کے گرد ونواح پر حملوں کے زمانہ میں روضہ مبارک کے ادارے نے عوامی طاقت کو اپنے دفاع کے لئے بآسانی اپنے ساتھ ملا لیا۔ اسی طرح جب 1258ھجری میں نجیب پاشا نے کربلا پر حملہ کیا تو اس وقت بھی لوگوں نے اس ادارے کے ساتھ مل کر روضہ مبارک کا دفاع کیا اور جب9/4/2003 (7 صفر1424هـ) کو امریکہ کے ہاتھوں ڈکٹیٹر نظام کا خاتمہ ہوا تو اس وقت بھی روضہ مبارک کے ادارے کا عوامی حلقوں میں اثر و رسوخ واضح طور پر سامنے آیا۔
جب نقیب الاشراف کا عہدہ اور شہر کی حکومت بھی روضہ مبارک کے ادارے کے سپرد کر دی گئی تو اس وقت روضہ مبارک کے ادارے کی قوت میں بے انتہاء اضافہ ہوا لیکن یہ طاقت نجیب پاشا کے حملے کے بعد بالکل ہی ختم ہو گئی اور اس کے بعد روضہ مبارک کا ادارہ دو سو سال تک غیر علوی قبیلوں کے ہاتھوں میں رہا اور عثمانی حکومت کے خاتمے بلکہ اس کے بعد تک روضہ مبارک کا ادارہ اور اس کی سربراہی غیر علوی قبیلوں میں ہی رہی(12)۔
روضہ مبارک کے انچارج السيد مرتضى السيد مصطفى ضياء الدين (آل ضوي) کے زمانے تک دونوں حرموں کا انچارج ایک ہی شخص ہوا کرتا تھا لیکن اس کے بعد مختلف افراد کی کوششوں سے حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کا ادارہ اور اس کا سربراہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک سے الگ کر لیا گیا اور پھر اس کے بعد حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کا الگ سے انچارج ہوتا تھا اور اس کے سارے انتظامات اور ادارہ بھی بالکل الگ طور پر کام کرتا تھا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
البتہ 9/4/2003 کے بعد تین مہینے تک اعلی دینی مرجع و مجتہد کا وکیل دونوں حرموں کے انچارج کے طور پر کام کرتا رہا اور دونوں حرموں کے ادارے کا سربراہ ان تین مہینوں میں ایک ہی رہا اور اس کے بعد اعلی دینی مرجع مجتہد کی طرف سے ایک تین رکنی سپریم کمیٹی تشکیل دی گئی جس کو لجنۃ علیا کا نام دیا گیا۔ یہ سپریم کمیٹی حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کے لئے اداری انچارج کے طور پر تقریبا تین سال تک کام کرتی رہی۔ پس اس سپریم کمیٹی نے دونوں حرموں میں ایک اداری نظام بنایا اور دونوں حرموں کے امور کی دیکھ بھال کے لئے زندگی کے اکثرشعبوں پر مشتمل ادارے کو تشکیل دیا اور دونوں حرموں کے ادارے کے لئے الگ سے سربراہ کی بھی تعیین کی اور اسی اداری سربراہ کو (مُشرف) کا نام دیا گیا ہے۔
جب عراقی عوام کی منتخب کردہ حکومت نے عراق کا دستور لکھا تو اس میں حرموں کے لئے جو قانون پاس ہوا اس میں تمام حرموں اور روضوں کا ادارہ دوسرے حرم کے ادارے سے الگ قرار دیا گيا اور ہر روضہ کے لئے الگ سے ادارے اور اس کے لیے الگ سے سربراہ کی تقرری کا قانون پاس کیا گیا۔ لہٰذٓ جب تین رکنی کمیٹی میں سے تیسرے رکن کی وفات ہو گئی تو عراقی حکومت نے اعلیٰ دینی مرجع و مجتہد کے مشورہ و تائید سے سپریم کمیٹی کو ختم کر دیا اور عراقی دستور کے مطابق اس سپریم کمیٹی کے باقی دونوں ارکان کو کربلا کے دونوں حرموں کے اداروں کا الگ سے سربراہ بنا دیا اور اس سربراہ کو(امین عام) کا نام دیا گیا۔ پس 20/07/2006 کو عراقی حکومت اور اعلیٰ دینی مرجعیت کی طرف سے پھر سے دونوں حرموں کے ادارے ایک دوسرے سے الگ الگ کر دئیے گئے اور ہر حرم کو ایک مستقل ادارہ کی حیثیت دے دی گئی۔
جن جن افراد نے روضہ مبارک کے ادارے کے انچارج کے طور پر گیارھویں صدی ھجری سے لے کر اب تک کام کیا ہے ان کے نام اور انچارج کے طور پر کام کرنے کی مدت کو مختصر طور پر بیان کرتے ہیں:
1:۔ محمد بن نعمۃ اللہ 1025ھجری میں روضہ مبارک کے خازن(انچارج) تھے اور اپنی موت تک اسی عہدے پر باقی رہے۔
2:۔ شیخ حمزہ سلامی نے1091 ھجری سے لے کر1108ھجری کے بعد تک روضہ مبارک کے انچارج کے طور پر کام کیا اور ان کا تعلق عراقی قبیلہ سلامۃ سے تھا۔
3:۔ شیخ محمد شریف نے گزشتہ سادن(انچارج) کے بعد یہ منصب سنبھالا۔ وہ 1161ھجری میں سادن(انچارج) کے طور پر کام کر رہے تھے اور اپنی وفات تک اسی منصب پر رہے۔
4:۔ شیخ احمد الخازن گزشتہ انچارج کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے اور ان کی وفات 1187ھجری میں ہوئی۔
5:۔ شیخ علی بن عبد الرسول نے 1187ھجری میں روضہ مبارک کے ادارے کا چارج لیا اور 1222ھجری کے بعد تک وہ ادارے کے انچارج رہے دنیا کو خیر باد کہنے تک اس خدمت کو سرانجام دیتے رہے۔ شیخ علی بن عبد الرسول شیخ محمد علی محمود کیشوان کے دادا ہیں اور ان کا خاندان آج کل بیت شیخ کے نام سے معروف ہے اس خاندان کا تعلق عربی قبیلہ جشعم سے ہے۔
6:۔ شیخ عبد الجلیل کلیدار نے 1224ھجری میں روضہ مبارک کے ادارے کا چارج لیا لیکن کچھ عرصے کے بعد نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس منصب سے معزول کر دئیے گئے۔
7:۔ سید محمد علی بن درویش بن محمد آل ثابت 1225ھجری میں روضہ مبارک کے ادارہ کے انچارج بنے اور 1229ھجری کے بعد تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ ان کا نسب ثابت بن سلطان کمال الدین کے ساتھ ملتا ہے کہ جو 957ھجری میں عراق میں نقیب النقباء تھے۔
8:۔ سید ثابت بن درویش 1232ھجری سے 1238ھجری کے بعد تک روضہ مبارک کے اداری انچارج رہے اور وہ سابقہ انچارج کے بھائی تھے۔
9:۔ آل وہاب کے جد اعلیٰ سید حسین بن حسن بن محمد بن حسین آل ثابت کو 4 شوال 1240ھجری میں سابقہ سادن کے معزول کرنے کے لئے سادن بنا دیا گیا۔
10:۔ سید وہاب سید محمد علی بن عباس آل طعمہ علم الدین پہلے آل طعمہ کی طرف سے امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کے سادن تھے اور پھر بعد انھیں 1243ھجری میں حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کا سادن بنا دیا گیا۔
11:۔ قبیلہ آل فائز موسوی سے تعلق رکھنے والے سيد محمد بن جعفر بن مصطفى بن أحمد آل طعمة نے 1250ھجری میں کچھ عرصہ کے لیے روضہ مبارک کے سادن کے عہدے پر کام کیا۔
12:۔ سيد حسين بن حسن بن محمد علي بن موسى الوهاب کو سابقہ سادن کے معزول کرنے کے بعد 1254ھجری میں سادن بنایا گیا اور وہ اس عہدے پر 1256ھجری تک باقی رہے۔ پھر ان کو ان کے منصب سے ہٹا کر سابقہ انچارج کو دوبارہ سادن بنایا دیا گیا اور انھیں ان کا نائب بنا دیا گیا پھر 1259ھجری میں دوبارہ ان کو انچارج کا عہدہ دے دیا گیا اور 1265ھجری میں ان کو بھی معزول کر دیا گیا۔
13:۔ سيد سعيد بن سلطان بن ثابت بن درويش آل ثابت کو 1265ھجری میں گزشتہ سادن کے معزول کرنے کے بعد دو مرتبہ سادن کا عہدہ دیا گیا اور وہ 1285ھجری میں وفات پا گئے۔
14:۔ سید حسین بن عرف نائب التولیہ کہ جو سابقہ سادن کے بیٹے تھے کو اپنے والد کی وفات کے بعد چھوٹی عمر میں ہی سادن بنا دیا گیا اور ان کی نیابت میں سید حسین بن اسید محمد علی آل ضیاء الدین کام کرتے تھے لیکن کچھ عرصے کے بعد انہوں نے نائب التولیۃ سے سادن کا عہدہ لے لیا اور خود سادن بن گئے۔
15:۔ سيد حسين بن محمد علي بن مصطفى بن محمد بن شرف الدين بن ضياء الدين بن يحيى بن طعمة (الأول) 1282ھجری میں سادن بنے اور 1288ھجری میں ان کی وفات ہوئی۔
16:۔ سید مصطفیٰ کہ جو گزشتہ سادن کے بیٹے تھے انہوں نے1289ھجری میں سادن کا عہدہ حاصل کیا اور اپنی وفات تک اسی عہدے پر قائم رہے اور ان کی وفات 1297ھجری میں ہوئی۔
17:۔ سيد محمد مهدي بن محمد كاظم بن حسين بن درويش بن أحمد آل طعمة نے 1297ھجری میں سادن کا عہدہ سنبھالا لیکن انھیں 1298ھجری میں معزول کر دیا گیا۔
18:۔ سید مرتضٰی بن سید مصطفی کو چھوٹی عمر میں ہی گزشتہ سادن کے بغداد کے گورنر کی طرف سے معزول کرنے کے بعد سادن بنا دیا گیا۔ پس انہوں نے گزشتہ سادن کو اپنا نائب مقرر کیا لیکن جب 1298ھجری میں اسے اس نیابت سے بھی معزول کر دیا گیا تو کم عمر سادن کے چچا سید عباس سید حسین آل ضیاء الدین نے کم عمر سادن کے بڑے ہونے تک روضہ مبارک کے سادن کے فرائض سر انجام دی۔
19:۔ گزشتہ سادن کے بیٹے سید محمد حسن آل ضیاء الدین عرف آغا حسن نے اپنے والد کی وفات کے بعد1257ھجری میں روضہ مبارک کے انچارج کا عہدہ سنبھالا اور اپنے والد کے شروع کئے ہوئے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ان منصوبوں میں سر فہرست کربلا کے شہر کے لئے پینے کے صاف پانی کی پائپ لائن بچھانا بھی ہے آغا حسن نے اپنی وفات تک روضہ مبارک کے سادن کے طور پر فرائض سر انجام دئیے ان کی وفات 1372 ھجری (1952) میں ہوئی۔
20:۔ گزشتہ سادن کے بڑے بیٹے سید بدر الدین آل ضیاء الدین نے اپنے والد کی وفات کے بعد روضہ مبارک کے انچارج کا عہدہ سنبھالا سید بدر الدین کے زمانے میں حسن بن سید صافی آل ضیاء الدین نے سادن کی نیابت میں روضہ مبارک کے تمام امور کو سر انجام دیا۔
21:۔ سید محمد حسین بن سید مہدی آل ضیاء الدین نے 1402 ھجری میں روضہ مبارک کے انچارج کے طور پہ کام شروع کیا اور 1411 ہجری (1991) میں انھیں صدامی حکومت کی طرف سے اس عہدے سے معزول کر دیا گیا۔
22:۔ سید مہدی فاضل الغرابی کو بعثی حکومت نے 1412 ھجری (1991) میں روضہ مبارک کا انچارج تعینات کیا کہ جو 9/4/2003(7صفر 1424) تک اس عہدے پہ کام کرتے رہے اور صدامی حکومت کے خاتمے کے فورا بعد عراق سے بھاگ گئے۔
23:۔ صدامی حکومت کے خاتمے کے بعد کربلا میں نجف اشرف کے مراجع عظام کے نمائندے علامہ شیخ عبد المھدی کربلائی نے مراجع عظام کے حکم پہ 9/4/2003(7صفر 1424) کے فورا بعد کربلا کے دونوں مقدس حرموں کے عبوری انچارج کے طور پر کام شروع کیا اور 25 جمادی الاولی1424 ھجری تک مذکورہ عنوان کے تحت اپنے فرائض کو سر انجام دیا علامہ کربلائی نے اس مختصر عرصہ میں دونوں حرموں میں انتطامی امور کی انجام دہی کے لئے الگ الگ کمیٹی تشکیل دی۔
24:۔ (لجنۃ العلیا لادارۃ العتبات المطھرۃ فی کربلا المقدسۃ) کے نام سے بنائی گئی کمیٹی نے صدامی حکومت کے خاتمے کے بعد کربلا کے مقدس حرموں کے انتظامات کو اپنے ہاتھوں میں لیا اس کمیٹی میں مرحوم علامہ سید محمد حسین طباطبائی، علامہ سید احمد جواد نور صافی اور علامہ شیخ عبد المھدی عبد الامیر السلامی الکربلائی کو سپریم رکن کی حیثیت حاصل تھی۔ یہ سپریم کمیٹی نجف اشرف میں موجود اعلی دینی مرجع آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے حکم پر 25 جمادی الاول 1424 ھجری کو تشکیل دی گئی اوراس کمیٹی کو نجف اشرف میں موجود دیگر تین سپریم مراجع عظام کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی۔ جس کے بعد باقاعدہ طور پر کربلا کے تمام مقدس مقامات کے حوالے سے ہر طرح کے اختیارات اس کمیٹی کو حاصل ہو گئے۔ اس کمیٹی نے کربلا کے دونوں حرموں میں الگ الگ اداری انچارج تعینات کیا کہ جسے مشرف کا نام دیا گیا اس کمیٹی کی طرف سے روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے اداری مشرف کے طور پر الحاج عبد الھادی عبد الجلی کو نامزد کیا گیا کہ جو 19/7/2006 تک اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔
۲۵:۔ علامہ سید احمد صافی کو عراق کے نئے دستور کے مطابق 20/7/2006 کو روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کا اداری سربراہ تعینات کیا گیا کہ جو اب تک اس عہدہ پہ اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
طاغوتی حکومت کے خاتمے کے چند ہفتے بعد اعلیٰ دینی مرجعیت کی طرف سے کربلا کے تمام مقدس مقامات اور روضوں کی دیکھ بھال اور اداری امور سنبھالنے کے لئے ایک سپریم کمیٹی تشکیل دے دی گئی جسے (اللجنۃ العُلیا لاادارۃ العتبات المطھرۃ فی کربلاء) کا نام دیا گیا۔ اس سپریم کمیٹی کو تحریری طور پر نجف اشرف میں موجود چار بڑے مجتہدین کی حمایت حاصل تھی اور یہ سپریم کمیٹی (لجنۃ عُلیا) ہی کربلا کے روضوں کی شرعی انچارج تھی اور19/7/2007 تک یہی سپریم کمیٹی دونوں حرموں کے انتظامات اور ادارے کے مسؤول رہی۔
اس کے بعد سن 2005 میں بننے والے دستور کی شق نمبر19 کے مطابق علامہ سید احمد جواد نور الصافی کو حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کا امین عام (سیکرٹری جنرل) بنا دیا گیا اور دونوں حرموں کے لئے الگ الگ ادارہ اور اس کے سربراہ کی تقرری کی گئی اور دستور میں پاس ہونے والے قانون کے مطابق دیوان وقف شیعی کا سربراہ (کہ جو اپنے عہدے میں وزیر اوقاف کے برابر ہوتا ہے) اعلیٰ دینی مرجع کی تائید کے ساتھ ہر روضہ کے لئے الگ سے امین عام کا تقرری کا ذمہ دار ہے پس اس قانون سے علامہ سید احمد صافی اب تک حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کے اداری انچارج اور سربراہ ہیں۔
مزید
طویل زمانے کے بعد روضوں کے ارادہ میں شریعت کی واپسی
سن2003/4/9میں صدام ملعون کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایک طرف تو عمومی طور پر حکومتی ادارے مکمل طور پر ختم ہو ئے، امن و امان کی صورت حال بہت زیادہ خراب ہو گئی اور شر پسند عناصر کو عراق میں آزاد میدان مل گیا اور دوسری طرف خاص طور پر ا ہل بیت علیھم السلام کے دشمنوں نے اپنا پہلا اور اولین ہدف اہل بیت علیہ السلام کے روضوں کو تباہ کرنا اور زیارت کے لیے آنے والے افراد کو قتل کرنا قرار دیا اور کربلا میں موجود روضے اور حرم نا صرف اہل بیت علیھم السلام کی اتباع کرنے والے شیعوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں بلکہ دنیا میں پھیلے ہوئے ہر باشعور انسان اور ہر حریت پسند فرد کے دل میں عظیم قدر و منزلت رکھتے ہیں۔
پس ان تمام حالات کی وجہ سے مومنین کربلا کے روضوں کے بارے میں کافی فکرمند ہوئے لہٰذا کربلا کے مومنین کی ایک بڑی تعداد نے رضاکارانہ طور پر کربلا کے روضوں اور یہاں آنے والے زائرین کی حفاظت اور حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضوں میں آنے والی انجمنوں اور ماتمی جلوسوں کی دیکھ ب
ھال کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لی۔
تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور روضوں کے امور کی تنظیم سازی اور زائرین کی دیکھ بھال کے لیے ایک ادارے کی اشد ضرورت کے پیش نظر اعلیٰ دینی مرجعیت کی زیرسر پرستی میں ہرروضے کے لیے کربلا میں ایک اداری کمیٹی تشکیل دی گئی اور پھر کچھ عرصے کے بعد نجف اشرف میں موجود اعلیٰ دینی مرجعیت کی منظوری سے حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضوں کے اداروں کی دیکھ بھال کے لیے ایک سپریم کمیٹی بنائی گئی کہ جسے (لجنة عُلیا ) کا نام دیا گیا اس سپریم کمیٹی میں دونوں حرموں کے اداروں کے موجودہ سربراہان اور مرحوم علامہ حجة الاسلام سید محمد حسین طباطبائی شامل تھے اور یہی وہ افراد ہیں کہ جنہوں نے دونوں روضوں کا اداری نظام سنبھالا اور ان حرموں کے اداروں میں دو صدیوں سے مفقود شرعی نظام کو دوبارہ بحال کیا اور دونوں روضوں میں دسیوں شعبوں پر مشتمل اداری ڈھانچا تشکیل دیا اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق ثقافتی، تعلیمی، دینی، اعلامی، مالی، طبی، سوشل ورکنگ اور انجینیئرنگ وغیرہ کے شعبوں کو بھر پور طریقہ سے روضوں کے اداروں کا حصہ قرار دیا تا کہ روضوں کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق زیادہ سے زیادہ ترقی دی جا سکے۔
مزید