شعبہ فکر و ثقافت کے پہلےعلمی سمپوزیم میں مخطوطہ ورثہ کے تحفظ اوربحالی کے حوالے سے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا گیا۔

روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے شعبہ فکر و ثقافت کے پہلے علمی سمپوزیم میں مخطوطہ ورثہ کے تحفظ اوربحالی کے حوالے سے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا گیا۔

یہ مقالہ مرکز الفضل لصيانة وحفظ التراث المخطوط والأرشيف الوثائقي کے ڈائریکٹر ليث لطفي کی جانب سے (خطے میں مخطوطہ ورثہ کے تحفظ اوربحالی میں مرکز کا کردار) کے عنوان سے پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مخطوطہ ورثہ کے تحفظ اوربحالی کے حوالے سے ہمارے مرکز کی جانب سے منعقد کیا جانے والا یہ پہلا سمپوزیم ہے اور مستقبل میں ایسے سمپوزیمز کے انعقاد کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ سمپوزیم مخطوطات کے ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کی دلچسپی اور کاوشوں کا مظہر ہے، کیونکہ روضہ مبارک کی جانب سے بہت سے ایسے مراکز اور ادارے قائم کیے گئے ہیں جو مخطوطات کی دیکھ بھال، تحفظ، اشاریہ سازی، د رجہ بندی، فوٹو گرافی، تحقیقات اورقیمتی ورثہ کی بحالی میں مہارت رکھتے ہیں اور ان مراکز میں الفضل سینٹر بھی شامل ہے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2006ء کے بعد حرمِ عباس علیہ السلام نےمخطوطات، دستاویزات، تاریخی کتابیں اور پرانی مطبوعہ چیزیں جو مختلف جگہوں پر موجود تھیں، کو اکٹھا کیا اور مخطوطات اور دستاویزات کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایک خصوصی ہال بنایا ، جس میں تحفظ کے لیے تمام بین الاقوامی معیارات، بشمول جدید نگرانی کے آلات، آگ بجھانے کا ایک خصوصی نظام، کیمرے، درجہ حرارت اور نمی کو چانچنے اور کنٹرول کرنے کے لیے جدید سینسرز اور مثالی اسٹوریج کنڈیشنز شامل ہیں، موجود تھیں۔

انہوں نے کہا کی کہ ان مراحل کے بعد تیاری اور تربیت کا مرحلہ شروع ہوا اور حرم مبارک کے متولی شرعی سید احمد الصافی اور حرم مقدس کی انتظامیہ کے تعاون سے مرکز کے عملے کو متعدد خصوصی کورسز کروائے گئے۔

سمپوزیم میں مرکز کے شعبہ جات اور ان کی جانب سے منعقد کی جانے والے کورسز، سیمینارز، نمائشوں اور ورکشاپس کے بارے میں ایک تصویری اور ویڈیو پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: