الحاج جعفر اسدی کہتے ہیں: دس برس سے بھی زیادہ عرصہ قبل میں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر ایک نہایت سادہ سا موکب قائم کیا تھا، جو ایک لوڈر رکشہ سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ ہم اور ہمارے بچے ایک کپڑے کے سائے تلے بیٹھتے اور فاؤ، البیشہ اور السیبہ کے درمیان نقل و حرکت کرتے، کیونکہ ان دنوں زائرین کے لیے کوئی خاص موکب موجود نہ تھے۔ آج، فخر و مسرت کے ساتھ میں اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ عراق کے نقشے پر موکب نمبر 1 کے مقام پر کھڑا ہوں، اور میرے بچے رأس البیشہ میں زائرین کی پہلی قدمگاہ پر خدمت انجام دے رہے ہیں۔