روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے متولّی شرعی علامہ سید احمد صافی نے شعبۂ آلیات سے وابستہ خادمِ روضۂ عباس(ع) سید مرتضیٰ عزیز بحر عبد علی کو میسان کے صحرائی علاقے میں گم ہونے والے ایک بچے کو ڈھونڈ کر اس کے اہلِ خانہ تک پہنچانے کی اعلیٰ انسانی خدمت کے اعتراف میں خصوصی اعزاز سے نوازا۔
یہ تکریم علامہ سید صافی سے رئیسِ شعبۂ آلیات، انجینئر علاء عمار الجبوری کے ہمراہ مذکورہ بالا خادم روضہ کی شرفِ ملاقات کے دوران عمل میں آئی۔
علامہ صافی نے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: اِس عمل نے گمشدہ بچے کے اہلِ خانہ کے دلوں کو خوشی سے لبریز کر دیا اور یہ نہایت مبارک اور قابلِ ستائش قدم ہے اور شکریہ اور تحسین کا حقدار ہے۔
اپنے بیان میں انجینئر علاء عمار جبوری نے کہا کہ مذکورہ خادم کا یہ کردار روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے خدام کی اعلیٰ اخلاقی تربیت اور احساسِ ذمہ داری کا مظہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب روضہ مبارک کا وفد میسان سے واپسی پر تھا کہ فجر کے وقت ڈرائیور نے ایک بچے کو صحرا میں تنہا بھٹکتے ہوئے دیکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈرائیور نے فوراً گاڑی روکی، بچے کو اپنے ساتھ لیا اور علاقے میں ذرائعِ مواصلات کی عدم دستیابی کے باوجود اس کے گھر والوں کی تلاش میں کئی گھنٹے صحرائی سفر کیا۔ بالآخر چھ سے سات گھنٹے سے لاپتہ بچے کے اہلِ خانہ تلاش کر لیے گئے، جو اپنے بچے کو صحیح سلامت پا کر بے حد خوش ہوئے۔
انجینئر جبوری کے مطابق یہ جذبۂ انسانیت ناصرف اس ڈرائیور کی اصیل تربیت کی دلیل ہے بلکہ روضہ مبارک کی جانب سے علامہ سید صافی کا یہ تکریمی قدم بھی ایسے مثالی رویّوں کو اجاگر کرنے اور دیگر خدام کو ان کی پیروی کی ترغیب دینے کے لیے ہے، تاکہ انسانی ہمدردی کے یہ روشن پیغامات مزید مضبوطی سے معاشرے تک پہنچیں۔
