اس اہم علمی و فکری تقریب کا انعقاد روضہ مبارک کی ’’ہیتِ عالیہ برائے احیاء تراث‘‘ کے ذیلی ادارے ’مرکز شیخ طوسی برائے مطالعات وتحقیق‘ نے کیا ہے۔ اس سلسلے میں روضہ مبارک کے شعبہ فکری و ثقافتی امور کے ’مرکز تصوير مخطوطات وفہرستھا‘ (سینٹر فار مینو اسکرپٹ فوٹوگرافی اینڈ انڈیکسنگ) کا بھرپور تعاون بھی حاصل ہے۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے متولیِ شرعی علامہ سید احمد صافی (دام عزہ)، روضہ مبارک کے اعلیٰ عہدیداروں، حوزہ علمیہ کی جید شخصیات اور ممتاز تعلیمی و علمی ماہرین نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز قاری سید عباس موسوی نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔
اس کے بعد متولیِ شرعی علامہ سید احمد صافی نے کلیدی خطاب کیا۔ بعد ازاں مرکز شیخ طوسی کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد الحکیم صافی نے خطاب کیا۔
اس موقع پر سید المجاہد (1180ھ - 1242ھ) کی حیاتِ مبارکہ، جہدِ مسلسل اور علمی خدمات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔
کانفرنس کے پہلے روز ایک خصوصی تحقیقی نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت ڈاکٹر شیخ حسام العبیدی نے کی۔ اس نشست میں درج ذیل مقالہ جات زیرِ بحث آئے:
پہلا مقالہ: شیخ علی سعدون غزی (حوزہ علمیہ نجف اشرف) نے سید المجاہد کی تصنیف ’وسائل الاصول‘ سے تین رجالی مسائل پر گفتگو کی۔
دوسرا مقالہ: شیخ حسن خشیش عاملی (حوزہ علمیہ لبنان) نے سید المجاہد کے ہاں ’استقراء کی حجیت‘ کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔
تیسرا مقالہ: شیخ علی وفی بدری نے ’قاعدہ ترکِ استفصال‘ کے موضوع پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔
تقریب کے دوران متعدد جلدوں پر مشتمل دو اہم علمی کتابوں یعنی موسوعہ ’المناھل‘ اور موسوعہ ’السید المجاہد و تراثہ العلمی‘ کی رونمائی بھی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیقی نشست میں شریک محققین کی علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں اعزازات سے نوازا گیا۔
اس بین الاقوامی کانفرنس کا بنیادی مقصد عالمِ اسلام کی عظیم علمی شخصیت سید محمد بن سید علی طباطبائی الحائری (سید المجاہد) کی یاد کو زندہ رکھنا، ان کے فکری سفر کو اجاگر کرنا اور ان کے علمی و فقہی ورثے کو نئی نسل اور محققین تک پہنچانا ہے۔



































