روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے زیراہتمام صوبہ ذی قار میں'محفلِ نہج البلاغہ' کے ہفتہ وار علمی دروس کا باقاعدہ آغاز

روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے ادارے "دار علومِ نہج البلاغہ" نے صوبہ ذی قار میں موضوعاتی درجہ بندی کے مطابق 'محفلِ نہج البلاغہ' کے ہفتہ وار علمی دروس کے سلسلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، اس کے بعد مسجد امام علی علیہ السلام کے متولی شیخ حیدر الغزی نے خطاب کیا۔ انہوں نے اس مبارک منصوبے کی حمایت کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مرجعِ اعلیٰ آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی کی ہدایات کی روشنی میں نہج البلاغہ سے کسبِ فیض نہایت ضروری ہے اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کے محبین کی ذمہ داری ہے کہ وہ امیر المؤمنین (علیہ السلام) کے علم، خطبات اور دانش کو معاشرے کی اصلاح کے لیے عام کریں۔اس کے بعد روضہ مبارک کی نمائندگی کرتے ہوئے دار علومِ نہج البلاغہ' کے سربراہ ڈاکٹر لواء العطیہ نے اپنے خطاب میں
کہا کہ ے دار علومِ نہج البلاغہ نے گزشتہ ہفتے کربلا اور بغداد میں پراجیکٹ کے افتتاح کے بعد، ذی قار گورنریٹ کے علاقے صالحیہ میں محفلِ نہج البلاغہ کے دروس کا آغاز کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ محفل اپنی نوعیت کی پہلی علمی نشست ہے، جو عراق میں منعقد ہو رہی ہے، اور ایک ایسی علمی محفل ہے جو کتابِ نہج البلاغہ کو ایک زندہ نص اور قیمتی فکری و عملی منہج کے طور پر زیرِ مطالعہ لاتی ہے، اس کا مقصد عقائد، تربیتی اقدار اور بہترین طرزِ حکمرانی جیسے موضوعات پر کلامِ علوی سے رہنمائی حاصل کر کے اسے معاشرے میں عملی طور پر نافذ کرنا ہے۔

اپنے خطاب میں شیخ حیدر الغازی نے اس بات پر زور دیا کہ اہلِ بیت (علیہم السلام) سے محبت رکھنے والے افراد ہی سب سے بڑھ کر امیرالمؤمنین امام علی (علیہ السلام) سے منقول علوم، خطوط اور فرامیںن کو عملی طور پر پیش کرنے کے ذمہ دار ہیں، جو معاشرے کی اصلاح کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس منصوبے کی طرف توجہ دیں اور اس کے ہفتہ وار دروس میں شرکت کریں۔

تقریب میں فضائلِ امیر المؤمنین (علیہ السلام) پر مبنی منظوم نذرانہ عقیدت بھی پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ حفظِ قرآن کے معروف استاد شیخ ہانی الربیعی اور ناصریہ شہر سے تعلق رکھنے والے تین دیگر حفاظ نے نہج البلاغہ کے منتخب اقتباسات کی تلاوت کی سعادت حاصل کی۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: