روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) سے وابستہ 'دارِ علوم نہج البلاغہ' کی جانب سے صوبہ ذی قار میں ہفتہ وار 'محفلِ نہج البلاغہ' کا انعقاد کیا گیا۔ اس علمی محفل کا مقصد موضوعاتی درجہ بندی کے مطابق نہج البلاغہ کے افکار کو عام کرنا ہے۔
دار علوم نہج البلاغہ کے سربراہ ڈاکٹر لواء العطیہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتہ وار محفل کا مقصد نہج البلاغہ کا گہرائی سے مطالعہ کرنا، اس کے مفاہیم کو سمجھنا اور انسانی و سماجی مسائل کے حل کے لیے اس کی علمی و تربیتی اقدار سے استفادہ کرنا ہے۔ نہج البلاغہ ایک زندہ جاوید متن ہے جو دورِ حاضر کے فکری اور سماجی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
محفل سے خطاب کرتے ہوئے شیخ ہانی الربیعی نے بتایا کہ اس نشست میں امیر المومنین علیہ السلام کے مکتوبات میں سے مکتوب نمبر 28 پر تحقیق و گفتگو کی گئی، جسے "محاسنِ کتب" (عمدہ ترین تحریروں) میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نے مکتوب کے تناظر میں واضح کیا کہ عترتِ طاہرہ علیہم السلام ہی وہ واحد شرعی واسطہ ہیں جو خالق اور مخلوق کے درمیان رابطے کا ذریعہ اور دارین (دنیا و آخرت) میں انسانیت کی حقیقی فلاح و سعادت کا موجب ہیں۔
واضح رہے کہ یہ محافل عراقی صوبوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر منعقد کی جاتی ہیں تاکہ عقائد، اخلاقیات، نظامِ حکومت اور سماجی تعمیر جیسے اہم موضوعات پر نہج البلاغہ کی روشنی میں رہنمائی فراہم کی جا سکے۔



