کربلا میں قائم مشترکہ 'میڈیا مانیٹرنگ سیل' نے ۱۰ محرم الحرام کے موقع پر مراسمِ عاشوراء کی کوریج کے لیے تیار کردہ خصوصی میڈیا پلان کی تاریخی کامیابی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، تمام صحافتی اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان بے نظیر ہم آہنگی نے دنیا بھر میں زیارت و مراسم عاشوراء کے پرامن اور منظم تشخص کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ یہ جامع میڈیا پلان 'سیکیورٹی میڈیا سیل'، 'میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اتھارٹی' ، روضہ مبارک حضرت امام حسین (علیہ السلام) اور روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے میڈیا ڈیپارٹمنٹس، گورنریٹ کربلا کے محکمہ تعلقاتِ عامہ و ابلاغ، اور کربلا کی مشترکہ سیکیورٹی و پولیس کمانڈ کے باہمی تعاون سے نافذ کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد صحافیوں اور نامہ نگاروں کو معلومات، بیانات اور رپورٹس کی بلا تعطل فراہمی کو آسان بنانا اور ایامِ عزاء کے دوران یکساں صحافتی بیانیے کو برقرار رکھنا تھا۔
بیان کے مطابق، اس پلان کے تحت افواہوں اور گمراہ کن خبروں کے سدِباب کے لیے ایک خصوصی مانیٹرنگ سسٹم بھی قائم کیا گیا تھا، جبکہ زائرین کی رہنمائی اور شعورِ بیداری کے لیے ۱ لاکھ سے زائد بروشرز تقسیم کیے گئے اور فیلڈ ٹیموں نے زائرین کے درمیان براہِ راست آگاہی مہم چلائی۔
اعداد و شمار کے حوالے سے پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ اس سال کوریج کے مادی و انسانی وسائل کی تفصیلات درج ذیل رہیں:
میدانی صحافی اور فوٹوگرافرز: مجموعی طور پر ۱۰۱۱ ملکی و بین الاقوامی صحافیوں نے کوریج کی، جن میں ۱۰۲ غیر ملکی میڈیا نمائندے شامل تھے۔
میڈیا ہاؤسز کی شرکت: ۸۲ ٹی وی چینلز، ۱۲ مقامی ریڈیو اسٹیشنز اور ۲۶ عرب و بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں نے مراسمِ عزاء کو دنیا بھر میں نشر کیا۔
تکنیکی وسائل: میدانِ عمل میں ۷ سیٹلائٹ ڈی ایس این جی (DSNG) گاڑیاں، ۸۴ لائیو یو (LiveU) آلات اور ۶۷۶ پروفیشنل کیمرے متحرک رہے۔
براہِ راست نشریات کا دورانیہ: ۱۰ دنوں کے دوران مجموعی طور پر ۱۰۰۶ گھنٹوں کی لائیو کوریج کی گئی، جبکہ ۸۷ ملکی و عالمی چینلز نے بغیر کسی لوگو کے فراہم کی جانے والی 'کلین فیڈ' (Feed Clean) سروس کے ذریعے کربلا سے براہِ راست مناظر دکھائے۔
میڈیا مانیٹرنگ سیل نے اپنے بیان کے اختتام پر تمام متعلقہ اداروں کے مابین مثالی تعاون اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو سراہا، جس کی بدولت یومِ عاشوراء کی عزاداری کی ایک منظم، پرامن اور باوقار تصویر دنیا بھر کے مقامی، عرب اور بین الاقوامی میڈیا تک کامیابی کے ساتھ پہنچائی جا سکی۔
