ام البنین (سلام اللہ علیہا) ای یونیورسٹی کی جانب سے(الزهراء-عليها السلام- قدوتُنا نهجًا ومُعتَقدًا) کے عنوان سے ایک فکری سمپوزیم کا انعقاد

روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے شعبہ فکر و ثقافت سے منسلک ام البنین (سلام اللہ علیہا) ای یونیورسٹی کی جانب سے(الزهراء-عليها السلام- قدوتُنا نهجًا ومُعتَقدًا) کے عنوان سے ایک فکری سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا جس میں ماہرین تعلیم اور دینی مدارس برائے خواتین کی اساتذہ نے شرکت کی۔
یہ سمپوزیم روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام سے منسلک المرتضیٰ انٹلیکچوئل کمپلیکس کے شیخ الانصاری ہال میں منعقد کیا گیا تھا جس کا مقصد اعلی تعلیمی اداروں اور دینی مدارس سے وابستہ خواتین اساتذہ اور ماہرین تعلیم کی فکری اور ثقافتی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور ام البنین (سلام اللہ علیہا)ای یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں اور دینی مدارس برائے خواتین کے درمیان روابط کو مضبوط کرنا ہے۔
یونیورسٹی کے صدر شیخ حسین الترابی نے الکفیل نیٹ ورک کو بتایا: "سيّد طعمة الجبیری نے سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا مسلمان خواتین کے لئے بہترین رول ماڈل ہیں اور دور حاضر کے فکری و ثقافتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مسلمان عورت کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے طاقت اور رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ آج کل خواتین جس طرح کی فکری و ثقافتی جنگوں کا نشانہ بنی ہوئی ہیں اس کے لئے انھیں رہنمائی اور طاقت کے ایسے سرچشمے کی ضرورت ہے جو موثر ترین اور بہترین ہو۔"
انہوں نے مزید کہا، "سید الجبیری نے اپنے لیکچرر کے دوران نسلوں کی تربیت اور پرورش کے حوالے سے ماں کے کردار کو بھی واضح کیا، کیونکہ ماں وہ پہلا اسکول ہے جس سے بچہ سب سے پہلے رابطہ میں آتا ہے۔ انھوں نے شرکاء کو سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سمیت مختلف ادوار میں بعض مومن خواتین کے نمایاں کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ وہ کس طرح ہمارے لئے ایک نمونہ عمل ہیں۔"
انھوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا، "سید الجبیری نے اپنے لیکچر کے اختتام پرانسان کو نفس کو قابو میں رکھنے اور نافرمانی اور گناہوں سے بچنے کے لئے چند اہم نکات پربات کی۔ انھوں نے کہا کہ کیسے ہماری بچیاں اپنی تعلیمی اور سماجی زندگی کے ذریعے موجودہ حالات میں معاشرے کے لیے رول ماڈل سمجھی جا سکتی ہیں۔"
سمپوزیم کا اختتام سوالات اورجوابات کے سیشن کے ساتھ ہوا۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: