کربلا کے دونوں مقامات مقدسہ سے وابستہ شعبہ شعائر حسینی و موکب حسینی نے نیمہ شعبان کے موقع پر آنے والے زائرین کے استقبال کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اس حوالے سے سیکیورٹی اور سروسز پلان ترتیب دیا جا چکا ہے تا کہ اس مبارک شب کو زیارت کے لیے آنے والے زائرین کی تحفظ و سلامتی اور نقل و حرکت کو یقینی بناتے ہوئے، بہترین سہولیات کی فراہمی کے ساتھ پرسکون ماحول میں بغیر کسی رکاوٹ کے مراسم زیارت کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔۔
شعبہ شعائر حسینی و موکب حسینی کے سربراہ سید عقیل عبدالحسین الیاسری نے الکفیل نیٹ ورک کو بتایا، "اس بابرکت زیارت کی تیاریاں اس سال کے اوائل سے ہی شروع کر دی گئی تھیں، اور اس سلسلے میں خدماتی مواکب جو زیارت کے دوران زائرین کو اپنی خدمات فراہم کرنے میں شریک ہوں گے،کو اجازت نامے جاری کئے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ مل کر امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ایک پلان پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے جس پر عمل درآمد گزشتہ کچھ عرصے شروع کر دیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا، " شعبہ شعائر حسینی و مواکب حسینی کا کام بنیادی طور پر مقامات مقدسہ اور خدماتی و عزائی مواکب کے درمیان کوارڈینیشن، تنظیم اور ہم آہنگی قائم کرنا ہے تاکہ ایک محفوظ اور پرسکون ماحول میں زائرین کرام کو بہترین خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ تمام تنظیمی امور ہماری اولین ذمہ داری ہیں۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی سروسز کے ضمن میں سکیورٹی اداروں کے ستھ ملکر شناختی اور قانونی ضمانتیں و دستاویزات جاری کرنا اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا ہے اور اس سلسلہ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے تعاون سے ایک جامع اور مربوط سکیورٹی پلان پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے۔
اس کے علاوہ زائرین کو عبادت، زیارت اور دیگر اعمال کے ادا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ کی فراہمی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ اور اسی طرح سے
دیگر خدمتی، طبی اور دینی امور کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے اربعین امام حسین علیہ السلام کے بعد کربلا میں زائرین کا سب سے بڑا اجتماع نیمہ شعبان کے موقع پر ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں زائرین مختلف
شہروں سے پیدل کربلا آتے ہیں۔









