سہ ماہی رسالہ تراث کربلا کا 31واں اور 32واں شمارہ شائع کر دیا گیا ہے

روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے معارف اسلامی و انسانی سیکشن کے ذیلی ادارے مرکز تراث کربلا نے اپنے سہ ماہی رسالہ تراث کربلا 31واں اور 32واں شمارہ شائع کر دیا ہے۔

مرکز کے ڈائریکٹر سید احسان علی غریفی نے بتایا ہے کہ نوے سال کے پہلے اور دوسرے شمارہ کو اکٹھا چھاپا گیا ہے ان شماروں میں ادب، سیرت، تاریخ، تحقیق اور فہرست سازی کے متعلق مختلف مضامین اور مقالات ہیں۔

اس میں شامل پہلے تحقیقی مقالہ میں کتاب الحدائق کے مؤلف کے نقطہ نظر کے مطابق قدیم محدثین کی رَوِش کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔

دوسرا مضمون کربلا کی ایک مشہور شخصیت عبد السمیع یزدی حائری (متوفی 1260ھ) کی فکری کاوشوں کے بارے میں ہے۔

تیسرے مضمون میں محمد تقی حائری طبری کے اشعار میں استعاری منظر نگاری کی جمالیات پر بات کی گئی ہے۔

چوتھا مضمون کربلا میں رہنے والے حدیث کے ایک راوی کی سیرت بیان کرتا ہے۔

پانچویں مضمون میں 1843-1847 میں اور اس کے بعد عثمانی اور قاچاری اختلافات کو حل کرنے کے حوالے برطانیہ اور روس کے کردار کو بیان کیا گیا ہے۔

تحقیق اور فہرست سازی کے باب میں بارہویں اور تیرہویں صدی ہجری سے تعلق رکھنے والے بعض کربلائی مخطوطات کی فہرست، کتاب ریاض کے مؤلف سید علی طباطبائی (1161-1231هـ) کے اجازات اور شیخ یوسف بحرانی کے مستدرک اجازات کو جگہ دی گئی ہے۔

غریفی نے مزید بتایا کہ شیخ محمد صالح البرغانی (متوفی 1283 ہجری) کی تفسیر "مفتاح الجنان في حلّ رموز القرآن" سے سورۃ الحمد کی تفسیر اور شیخ علی بن احمد الفقیہ العاملی (متوفی بعد 1230) کا دیوان بھی ان شماروں کا حصہ ہے۔
انگریزی میں شامل مضمون میں کربلا کے برغانی خاندان کی مذہبی سرگرمیوں کو بیان کیا گيا ہے۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: