العمید یونیورسٹی میں تیسری روایت کے مطابق حضرت فاطمہ زہراء(عليها السلام) کی المناک شہادت کی یاد میں مجلس عزاء کا انعقاد کیا گیا۔ یہ مجلس عزاء یونیورسٹی کے امام المجتبیٰ علیہ السلام ہال میں منعقد ہوئی جس میں یونیورسٹی کے تدریسی و انتظامی عملے اور طلاب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مجلس کا آغاز فیکلٹی آف میڈیسن کی ایک طالبہ نے قرآن مجید کی تلاوت سے کیا، جس کے بعد روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے شيخ محمد الكَريطي نے مجلس سے خطاب کرتے ہوئے سیدۃ النساء العالمین حضرت طاطمہ الزہرا (عليها السلام) کی حیات مبارکہ کے اہم پہلوؤں پر خاص طور پر بقائے دین و حق و امامت کی حمایت میں ان کے جہاد، ان پر دشمنان اہل بیت علیہم السلام کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم اور ناانصافیوں پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہراؑ منصب امامت کے لحاظ سے تو اگرچہ پیغمبر گرامی ﷺکی جانشین نہیں تھیں لیکن وجودی کمالات اور منصب عصمت و طہارت کے لحاظ سے کوئی دوسری خاتون اولین و آخرین میں سے ان جیسی نہیں ہے۔ جناب سیدہ ؑ علمی ،عملی ،اخلاقی،اور تربیتی حوالے سے نمونہ عمل ہیں۔ انسان کی دینی و دنیاوی سعادت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ ان ہستیوں سے متمسک رہے جنہیں اللہ نے”اسوہ حسنہ”قرار دیا ہے۔بنابرین حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی زندگی ہماری زندگی کے ہر شعبے میں نمونہ عمل اور قابل تقلید ہے ۔
مجلس کا اختتام مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی پر ہوا۔





