روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے متولی شرعی علامہ سید احمد صافی (دام عزہ) نے کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کی مصیبت سے گزرنے کے باوجود حضرت سیدہ زہراء (سلام اللہ علیہا) نے ہمیں شکرگزاری کی ثقافت کا درس دیا ہے۔
علامہ صافی نے ان خیالات کا اظہار روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے الکفیل دینی مدارس برائے خواتین کی جانب سے (السيدة الزهراء عليها السلام ألق المآثر وربيع المفاخر) کے شعار کے تحت منعقد کیے جانے والے پانچویں انٹرنیشنل ویمنز روح النبوۃ فیسٹیول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
علامہ صافی نے اپنے خطاب میں کہا:
سب سے پہلے میں اپنے محترم حاضرین اور ان کے ذریعے میری آواز سننے والوں کو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے جشن میلاد کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ اس مبارک عمل کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کی دنیا میں زیارت اور آخرت میں شفاعت عطا فرمائے۔
سب سے پہلے ہم عراق اور بیرون ملک سے اس مبارک جشن میں شرکت کے لیے آئی ہوئیں محترم بہنوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، ان کے لیے خوشگوار قیام کی امید رکھتے ہیں۔
حضرت زہراء (سلام اللہ علیہا) کے بارے میں بات کرنا اس لحاظ سے ایک مشکل کام ہے کہ اس عظیم ہستی میں خدائے بزرگ و برتر نے اپنی تخلیق کے پوشیدہ رازوں میں سے ایسے راز رکھے ہیں جن کو مجھ جیسا کوئی عام فرد نہیں جان سکتا۔ تمام آئمہ اطہار (علیہم السلام) کی احاديث میں سیدہ کا بہت زیادہ ذکر ملتا ہے، ہمارے لیے جناب سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے لیے استعمال کی جانے والی اس تعبیر کا ذکر کافی ہے کہ جس آنحضرت انھیں "أم أبيها" قرار دیتے ہیں، یہ ایک مختصر لیکن بہت ہی گہری تعبیر ہے، کہ کیسے ایک بیٹی اپنے باپ کی ماں ہو سکتی ہے؟ میں یہاں اس عظیم، مختصر جملے کے مفہوم پر بحث نہیں کروں گا، لیکن میں صرف حضرت زہراء (سلام اللہ علیہا) کے عظیم الشان منزلت کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں وہ ہستی قرار دیا ہے کہ جس کی رضا وخوشنودی خدا کی رضا وخوشنودی ہے اور جس کی ناراضگی خدا کی ناراضگی وغضب ہے، سید الرسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث میں جناب سیدہ کو حق کا معیار ومیزآن شمار کیا گیا ہے، سیدۃ النساء (سلام اللہ علیہا) کی شخصیت میں موجود خدائی اسرار ان کی شخصیت کو منفرد بناتے ہیں۔
سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے جن مواقف سے ہم استفادہ کر سکتے ہیں، ان میں سے ایک اپنے والد کی وفات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں ان کا کردار ہے، ویسے تو جناب سیدہ مکمل طور پر عطا، رحمت، علم، عبادت، رہنمائی اور ہدایت کا پیکر ہیں، البتہ جس صورت حال کا سامنا جناب سیدہ کو کرنا پڑا اس میں ان کے علاوہ کوئی بھی دوسرا فرد کمزور پڑ جاتا، انہوں نے خطبہ فدک میں وہ کلمات استعمال کیے کہ جوبہت سے زاویوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتے ہیں، جناب سیدہ فرماتی ہیں: ثنائے کامل ہے اللہ کے لیے ان نعمتوں پر جو اس نے عطا فرمائیں، اور اس کا شکر ہے اس سمجھ پر جو اس نے (اچھائی اور برائی کی تمیز کے لیے) عنایت کی ہے، اور اس کی ثنا و توصیف ہے ان نعمتوں پر جو اس نے پیشگی عطا کی ہیں، ان ہمہ گیر نعمتوں پر جن کے عطا کر نے میں اس نے پہل کی، اور ان نعمتوں کی فراہمی میں تواتر کے ساتھ فراوانی فرمائی، اور یہ نعمتیں دائرہ شمار سے وسیع تر ہیں، اور ان کے ادائے شکر کی حدود تک رسائی بہت بعید ہے، اور انسان ان کی بے پایانی کا ادراک کرنے سے قاصر ہے۔
علامہ صافی کے مکمل خطاب سے آگاہی کے لیے اس لنک سے استفادہ کیا جا سکتا ہے:
السيّد الصافي: السيدة الزهراء (عليها السلام) أعطتنا درساً خاصاً بثقافة الشكر | أخبار العتبة (alkafeel.net)
