روضہ مبارک حضرت عباس(ع) دنیا کو حضرت زینب(ع) کی شخصیت کو گہرائی سے سمجھنے کی دعوت دیتا ہے

روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے سیکشن برائے دینی امور کے معاون سربراہ شیخ عادل وکیل نے حضرت زینب(ع) کی شخصیت کو گہرائی سے سمجھنے اور ان کی سیرت کو عملی نونہ قرار دینے پر زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کی طرف سے منعقد ہونے والے سالانہ جشن میلاد حضرت زینب(ع) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے کہا کہ حضرت زینب(ع) اور آنسوؤں کے درمیان کبھی جدائی نہ ہوئی، جب وہ سات سال کی تھیں تو انہوں نے اپنے نانا حضرت محمد(ص) کی شہادت کا مشاہدہ کیا، اور الٰہی ہدایت کے خلاف ہونے والی بغاوت کو بھی دیکھا، اور پھر اس کے بعد اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء(ع) کی شہادت کی شاہد بنی، اور اس کے بعد اپنے والد امام علی(ع) اور پھر اپنے بھائی امام حسن(ع) کی شہادت کا صدمہ بھی برداشت کیا۔


انہوں نے مزید کہا کہ "سب سے بڑی مصیبت اور سب سے بڑا سانحہ جس سے حضرت زینب(ع) کو گزرنا پڑا وہ کربلا کا دردناک واقعہ اور اپنے بھائی سید الشہداء حضرت امام حسین(ع) کی شہادت تھی۔

شیخ وکیل نے کہا کہ مورخین کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ حضرت زینب کی شخصیت کے بارے میں تمام پہلوؤں سے تحقیق کرتے ہیں، تو وہ اس شخصیت سے حیران رہ جاتے ہیں، اس نے ایسے سانحات سے کیسے گزری کہ جو انسان کی ہستی اور طاقت کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں جبکہ ہم اس عظیم خاتون کو ہر مقام پر صابر اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی ہم ان کے کردار اور ان کی شخصیت میں غور و فکر کرتے ہیں تو ان سے ہمیں صبر و تحمل کا سبق ملتا ہے ورنہ گیارہویں محرم کی رات ایک عورت جلے ہوئے خیموں اور اپنے بھائیوں اور بچوں کے لاشوں اور ان کے اصحاب کے لاشوں میں کیسے پوری ہمت و حوصلے کے ساتھ کھڑی ہو سکتی تھی۔ امام سجاد(ع) نے ان کے حق میں فرمایا: (أنت بحمد الله عالمةٌ غير مُعلَّمة وفَهمةٌ غير مُفهَّمة)
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: