یہ کانفرنس روضہ مبارک حضرت عباس (ع) کے زیراہتمام اور العمید سائنٹفک اینڈ انٹلیکچوئل سوسائٹی ، الکفیل اور العمید یونیورسٹیز کے تعاون سے (خاندان اور معاشرے کی حفاظت: شناخت اور ٹیکنالوجی کے چیلنجز) کے عنوان اور (نلتقي في رحاب العميد لنرتقي) کے نعرے کے تحت منعقد کی گئی ہے، جو دو دن تک جاری
رہی۔
ساتویں العمید بین الاقوامی علمی کانفرنس کےضمن میں منعقد کی جانے والی تقریبات میں روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے متعدد اراکین، ملکی و غیر ملکی محققین وماہرین سمیت اعلی علمی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
العمید سائنٹفک اینڈ انٹلیکچوئل ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ کانفرنس کی علمی کمیٹی نے 77 تحقیقی مقالے وصول کیے تھے، جن کی مختلف مراحل میں ٹرنیٹِن (Turnitin)عالمی پروگرام اور علمی و سائنسی کیلنڈر پروگرام کے تحت جانچ پڑتال کی گئی، اور 31 مقالے کانفرنس کومنتخب کیا گیا جن میں سے کچھ علمی کانفرنس کے دوران پیش کرنے لیے منتخب کیے گئے تھے اور کچھ العمید سائنٹفک اینڈ انٹلیکچوئل ایسوسی ایشن کی جانب سے شائع کیے جائیں گے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے بتایا گیا کہ کانفرنس میں مختلف عراقی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے محققین کے علاوہ فرانس، کینیڈا، ملائیشیا، مصر، شام، لبنان، اردن، ایران، تیونس، الجزائر، مراکش، لیبیا اور بحرین کے ماہرین تعلیم و محققین نے شرکت کی۔
کانفرنس کی تحقیقی نشستوں کے دوران عربی اور انگریزی میں مختلف موضوعات پر تحقیق پیش کی گئی، جن میں سماجی اور نفسیاتی تجزیے، خاندانی اور سماجی تحفظ، مذہب اور ورثہ، فکری سلامتی اور دیگر موضوعات شامل تھے۔
اس کانفرنس کی علمی کمیٹی نے ساتویں العمید بین الاقوامی علمی کانفرنس کا اعلامیہ جاری کیا، جس میں وزارت تربیت اور وزارت اعلیٰ تعلیم سے درخواست کی گئی کہ وہ خاندانی اور سماجی سلامتی کو نصاب میں شامل کرنے پر غور کریں۔



















