(الإمام الحسن المجتبى -عليه السلام- عزّة للمؤمنين وإصلاح للمسلمين) کے شعار کے تحت اس عظیم جشن کا انعقاد شہر حلہ کو امام حسن(ع) کے شہر کے طور پر ایک نئی شناخت دینے کے منصوبے پر کام کرنے والی ہیئت عالیہ اور مزار سید عبداللہ الفارس کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا۔
روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے شعبہ برائے فکری اور ثقافتی امور کے سربراہ سید عقیل یاسری نے اس حوالے سے کہا کہ روضہ مبارک امام حسین(ع) اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کی طرف سے اٹھارویں سالانہ امام حسن(ع) ثقافتی فیسٹیول کا انعقاد حلہ کو امام حسن(ع) کے شہر کے طور پر ایک نئی شناخت دینے کے منصوبے پر کام کرنے والی ہیئت عالیہ کے تعاون سے ہوا۔
سید یاسری نے مزید بتایا کہ اس فیسٹیول میں ناصرف خواتین کے لیے الگ تقریبات شامل تھیں، بلکہ علمی شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بھی تقریبات اور سرگرمیاں اس فیسٹیول کا حصہ تھیں۔ اس کے علاوہ اس جشن کی مرکزی تقریب امام حسن(ع) کے پوتے سید عبداللہ الفارس کے مزار میں منعقد ہوئی، اس تقریب میں شعراء، منقبت خوانوں اور ادباء نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا، اور اسی مرکزی تقریب میں امام حسین(ع) کے خدّام کو اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ شہر حلہ کو امام حسن(ع) کے شہر کا نام دینے کا آغاز 1960 کی دہائی میں دینی مرجعیت سید محسن حکیم (قدس سرہ) کی ہدایت سے ہوا تھا۔ جس کے بعد اہل حلہ نے دو یا تین سال تک امام حسن(ع) کے جشن میلاد کا پورے جوش وجذبہ سے انعقاد کیا۔ سن2003 کے بعد اس کا سلسلہ دوبارہ روضہ مبارک امام حسین(ع) اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے زیر سرپرستی شروع ہوا۔
بابل یونیورسٹی کی فیکلٹی آف اسلامک سٹیڈیز کے ڈین ڈاکٹر حسن عبید معموری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر حلّہ کو امام حسن(ع) کے شہر کا نام اس کی خصوصیات کی وجہ سے دیا گیا، کیونکہ یہاں امام حسن(ع) کی نسل سے تعلق رکھنے والی عظیم شخصیات کے مزارات ہر طرف موجود ہیں۔ اسی طرح اس شہر کے لوگوں میں امام حسن(ع) کی سخاوت ومہمان نوازی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ مزید برآں، دینی مرجعیت نے ساٹھ کی دہائی میں ہر گورنریٹ کو کسی ایک امام کے نام سے موسوم کیا، اور حلّہ کو امام حسن(ع) کے مبارک نام سے سرفراز کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "یہ جشن ناصرف امام حسن(ع) کی نمونۂ عمل شخصیت کو یاد کرنے کا ایک موقع ہے، بلکہ اس کا مقصد مسلمانوں کے اندر ان کی تعلیمات اور سیرت کو اجاگر کرنا ہے، تاکہ معاشرتی و فردی سطح پر ان کی سیرت کی پیروی کی جا سکے اور دشمنانِ اسلام کے امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا بھی مقابلہ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر معموری نے یہ بھی کہا کہ اسلام کا حقیقی پیغام صرف اہل بیت(ع) کی تعلیمات میں ہے، کیونکہ وہ قرآن مجید کے ہم پلہ ہیں، اور یہی وہ حقیقی اسلام ہے جسے نبی اکرم(ص) نے حدیث ثقلین میں بیان کیا تھا۔










