یہ بابرکت دو روزہ فیسٹیول ’’دینی مرجعیتِ امتِ مسلمہ کا قلعہ ہے‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا اہتمام روضہ مبارک کے شعبہ فکری و ثقافتی امور اور "الوافی فاؤنڈیشن برائے دستاویزات و مطالعات" کی جانب سے کیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب میں روضہ مبارک کے سیکرٹری جنرل سید مصطفی مرتضیٰ آلِ ضیاء الدین، متعدد شعبہ جات کے سربراہان، سرکاری و دینی شخصیات اور شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔
فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کا آغاز قاری لیث عبیدی نے تلاوتِ قرآن مجید سے کیا۔ اس کے بعد شہدائے عراق کے ایصالِ ثواب کے لیے سورۂ فاتحہ پڑھی گئی، پھر بالترتیب عراق کا قومی ترانہ اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کا رسمی ترانہ ’’لحن الإباء‘‘ پڑھا گیا۔
اس موقع پر روضہ مبارک کی جانب سے مجلسِ ادارہ کے رکن ڈاکٹر عباس دده موسوی نے استقبالیہ خطاب کیا۔ اس کے بعد 33 جلدوں پر مشتمل ’’موسوعۂ خطب جمعہ: توثیق و تحقیق‘‘ کی رونمائی کی گئی، جس میں 2003 سے 2020 تک کے خطباتِ جمعہ کو علمی و تحقیقی انداز میں مدوّن کیا گیا ہے، جبکہ آخری جلد میں مرجعیتِ اعلیٰ کی اہم بیانات شامل کیے گئے ہیں۔
اس تقریب میں جہادِ کفائی کے فتویٰ، جمعہ کے خطبات، اور معرکۂ آزادی و شہادت کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ بعدازاں اس موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا گیا۔ صبح کی نشست فتوئ دفاغ اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی یادگار تصاویر پر مشتمل نمائش کے افتتاح پر اختتام پذیر ہوئی۔
یہ ثقافتی فیسٹیول کئی علمی، فکری، اور تاریخی سرگرمیوں پر مشتمل ہے، جن میں عراقی قوم کی قربانیوں، شجاعت اور دہشت گردی کے خلاف مزاحمت اور مرجعیتِ اعلیٰ کے رہنما کردار کو کو اجاگر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کی طرف سے اس فیسٹیول کےانعقاد کا مقصد فتوئ دفاع کی یاد کو زندہ رکھنا اور اسے قومی شعور و حافظے میں راسخ کرنا ہے۔








































