یہ ماتمی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا پہلے روضہ مبارک حضرت عباس(ع) میں پہنچا اور پھر روضہ مبارک امام حسین(ع) کی جانب روانہ ہو گیا کہ جہاں پہنچ کر ماتم اور دعا کے بعد اختتام پذیر ہو گیا۔
یاد رہے کہ دینی علماء و طلاب کا احکام الہٰی کی تبلیغ اور شعائر حسینی کے قیام اور لوگوں تک حسینی فکر پہنچانے میں ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔ تمام حوزاتِ علمیہ میں پڑھنے والے طلاب فقہاء کے نمائندوں کی مانند ہوتے ہیں لہٰذا شبِ عاشور کو کربلا میں دینی طلاب کا یہ ماتمی جلوس تمام مؤمنین کے لئے نمونہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔

















