یہ پُر سوز تقریب باب امام حسن(ع) کے قریب منعقد ہوئی، جس میں روضۂ مبارک کے سیکرٹری جنرل سید مصطفی مرتضیٰ آلِ ضیاءالدین، مجلس ادارہ کے اراکین، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، روضہ مبارک کے خدام اور بڑی تعداد میں زائرین نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز قاری حیدر جلوخان کی پُراثر تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جس کے بعد خطیبِ اہلِ بیت، شیخ عبداللہ الدجیلی نے مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے امام حسن علیہ السلام کی مظلومیت اور شہادت کے دردناک واقعات کو بیان کیا۔ اس کے بعد شاعر اہل بیت محمد الفاطمی نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔
روضۂ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کی مجلسِ ادارہ کے رکن، ڈاکٹر عباس الدده الموسوی نے اس حوالے سے کہا: جس طرح آئمہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کے مبارک پرچم ان کے روضوں کے گنبدوں پر لہرائے جاتے ہیں، اُسی تسلسل میں یہ سالانہ تقریب بھی امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی مظلومیت کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے۔ امام حسن(ع) کی مظلومیت اس وقت سے جاری ہے جب اُمت نے اُن سے روگردانی کی۔
اسی تناظر میں مجلسِ ادارہ کے ایک اور رکن، ڈاکٹر افضل الشامی نے کہا: روضۂ مبارک حضرت عباس علیہ السلام، ہر سال شبِ شہادتِ امام حسن علیہ السلام کو بڑی عقیدت و احترام سے مناتا ہے، جس میں عراق اور بیرونِ ملک میں موجود روضات مقدسہ کے نمائندے بھی شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ:
"اس برس امام حسن مجتبیٰؑ کا علم 11 مختلف عراقی صوبوں میں بھی بلند کیا جائے گا، تاکہ ان کی مظلومیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ اگرچہ بقیع میں ان کا روضہ ظالمانہ طور پر منہدم کر دیا گیا، مگر یہ ہرگز اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ ہم ان کے نام کی علم برداری نہ کریں — بالخصوص کربلا کی مقدس سرزمین پر، جہاں اُن کے بھائی امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کی آخری آرام گائیں ہیں۔









