عید میلاد النبی(ص) کے بابرکت ایام میں منعقد ہونے والی اس افتتاحی تقریب میں روضہ مبارک کے سیکرٹری جنرل سید مصطفی مرتضیٰ آل ضیاء الدین اور روضہ مبارک کے خدام نے شرکت کی۔
علامہ سيد صافی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ناصرف عجائب گھر کے کام کو مزید بہتر بنانے اور تاریخی نوادرات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، کہ جو اسلامی تاریخ کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
عجائب گھر کے نگران، ڈاکٹر عباس دده نے اس موقع پر کہا کہ الکفیل میوزیم میں ایسی نایاب و نادر اشیاء محفوظ ہیں جن کی مثال دنیا کے دوسرے عجائب گھروں میں کم ہی ملتی ہے۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر عجائب گھر کے نظام کو مسلسل بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ نازک و حساس اشیاء کی بہتر حفاظت، مؤثر ذخیرہ کاری، اور درست معلومات کی دستاویزی تدوین ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پیش رفت میں ناصرف جدید اسٹوریج آلات شامل ہیں بلکہ جدید ترین سسٹمز، سافٹ ویئرز اور ایپلیکیشنز بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔
الکفیل عجائب گھر کے معاون سربراہ، ڈاکٹر شوقی موسوی کے مطابق، *نیا خزانۂ نوادرات* بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس کے 65 یونٹس میں ہزاروں قیمتی اشیاء کو محفوظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عجائب گھر کا عملہ جدید طریقہ کار سے نوادرات کو محفوظ کرنے کا عمل انجام دے رہا ہے۔
ڈاکٹر موسوی نے یہ بھی بتایا کہ متولی شرعی، علامہ سید احمد صافی کو نئے اسٹوریج ایریاکے ڈیزائن، اسٹوریج سسٹم اور محفوظ کرنے کے سائنسی طریقوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے عجائب گھر کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔









