روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے شعبۂ معارف اسلامی و انسانی نے ایران میں پہلی بین الاقوامی تراثِ بصرہ کانفرنس کے تعارف پر مبنی ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔
یہ کانفرنس مرکزِ تراثِ بصرہ کے زیرِ انتظام 5 نومبر 2026ء کو (تراث البصرة رافدٌ حضاريّ وسراجُ قيمٍ وأصالة) کے شعار اور (أثر التراث البصريّ في الفكر الإنسانيّ) کے عنوان کے تحت منعقد ہوگی اور اس کی تقریبات دو دن تک جاری رہیں گی۔
تہران میں قائم ایک ثقافتی ادارے اور حوزہ علمیہ تہران کے مشترکہ تعاون سے منعقدہ اس تعارفی نشست میں (التراث البصري المخطوط.. رؤى وأفكار) کے موضوع پر گفتگو کی گئی۔ نشست کا آغاز مدیرِ حوزاتِ علمیّہ، شیخ رحیمی صادق کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس کے بعد مرکزِ تراثِ بصرہ کے مدیر، شیخ مدرک حسّون نے خطاب کرتے ہوئے علم کی حفاظت میں مخطوطات کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔
بعد ازاں کانفرنس کی علمی کمیٹی کے سربراہ، شیخ ڈاکٹر محمود عیدانی نے کانفرنس کے مقاصد کو بیان کیا، جبکہ ڈاکٹر علی مجید بدیری نے اس کے علمی محاور و موضوعات کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔
اس نشست میں دو تحقیقی مقالے بھی پیش کیے گئے:
— پہلا مقالہ ڈاکٹر امیر آغا جانلو کا تھا جس کا عنوان تھا: (المخطوطات البصرية والحراك الكلامي الإسلامي)،
— دوسرا مقالہ شیخ فرامرز فیاضی نے پیش کیا، جس کا عنوان تھا: (دور رواة البصرة في نقل تراث العترة عليهم السلام).۔
نشست کا اختتام میزبان ادارے کی جانب سے اعلامیے کی قرأت پر ہوا، جس کے بعد تہران کے ثقافتی مرکز اور حوزۂ علمیّہ کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں، اور آخر میں تمام شریک محققین میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔








