روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے شعبہ فکری اور ثقافتی امور نے کوفہ یونیورسٹی کے کالج آف بیسک ایجوکیشن کے زیر اہتمام منعقدہ "الشہید" فیسٹیول کے ایک حصے کے طور پر دستاویزی اور تصویری نمائش کا انعقاد کیا۔
اس نمائش میں ایسی دستاویزات اور تصاویر کا مجموعہ پیش کیا گیا جو عراقی عوام پر ہونے والے سنگین مظالم کی یاد دہانی کراتی ہیں، بالخصوص اجتماعی قبروں کے جرائم، اسبائیکر اور بادوش جیل کے قتلِ عام اور شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردانہ دھماکوں کی دستاویز سازی کی گئی ہے۔ اس کا مقصد گزشتہ دہائیوں کے دوران عراقی عوام کو درپیش انسانی المیے کی شدت کو اجاگر کرنا ہے۔
ڈاکٹر عباس القریشی، عراقی سنٹر فار ڈاکومینٹنگ ایکسٹریمزم کرائمزکے ڈائریکٹر نے کہا کہ ہمارا مقصد ان دستاویزی کوششوں کے ذریعے ان مظالم کی یاد کو تاریخ کے سینے میں محفوظ رکھنا اور نوجوان نسل کو ماضی کے تلخ حقائق سے روشناس کرانا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دستاویزی نمائشوں کا انعقاد ان یادوں کو مخصوص طبقے سے نکال کر عوامی سطح تک منتقل کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز کی شرکت یونیورسٹی کی فیکلٹی آف بیسک ایجوکیشن کی باضابطہ دعوت پر عمل میں آئی ہے، جس کا مقصد ان سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینا، یونیورسٹی کے ماحول میں قومی تاریخ و یادداشت کو مستحکم کرنا اور اسے قربانی و حب الوطنی کی اقدار سے جوڑنا ہے۔
یہ شرکت عراقی سنٹر فار ڈاکومینٹنگ ایکسٹریمزم کرائمز کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت انصاف کی فراہمی میں تعاون اور مستقبل میں ایسے سانحات کے اعادے کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔





