'دارِ علوم نہج البلاغہ' کی جانب سےکربلا مقدسہ میں ہفتہ وار 'محفلِ نہج البلاغہ' کا انعقاد

روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) سے وابستہ 'دارِ علوم نہج البلاغہ' کی جانب سے کربلا مقدسہ میں ہفتہ وار 'محفلِ نہج البلاغہ' کے لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔

دارِ علوم نہج البلاغہ کے سربراہ ڈاکٹر لواء العطیہ نے کہا کہ یہ محفل ان علمی کاوشوں کا تسلسل ہے جو ادارہ نہج البلاغہ کی فکری گہرائی کو اجاگر کرنے اور اسے فرد و معاشرے کی عملی زندگی سے قریب تر لانے کے لیے انجام دے رہا ہے۔ ہمارا مقصد اس عظیم ورثے کو ایک ایسے ضابطہ حیات کے طور پر متعارف کروانا ہے جو عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز اور تغیرات کے مقابل معاشرے کے استحکام اور بلندی کا ضامن بن سکے۔

اس لیکچر کے دوران معروف اسکالر شیخ محمد الراشدی نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کے مکتوبات میں سے 28 ویں مکتوب (خط) پر بحث کی، کو خطاب کیا گیا، کہ جسے سید شريفُ الرضيّ نے اپنے شاندار الفاظ اور قوتِ بیان کی وجہ سے نہج البلاغہ کے بہترین مکتوبات میں شمار کیا ہے۔

الراشدی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ متن امام علی (علیہ السلام) کی جانب سے معاوية کے خط کا ایک انتہائی مدلل اور دندان شکن جواب ہے، جس میں امام (ع) نے ان نفسیاتی محرکات کو بے نقاب کیا ہے جن کی بنا پر معاوية نے ان صفات کو اپنی جانب منسوب کرنے کی کوشش کی جو اس میں موجود نہ تھیں۔

الراشدی نے مزید کہا کہ اس لیکچر کا مقصد کا ایک اہم مقصد علوی اقدار کو موجودہ حالات پر لاگو کرنا تھا، خاص طور پر اس اصول کی ترویج کے لئے کہ انسان کو اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

دورانِ گفتگو حضرت حمزة بن عبد المطلب اور حضرت جعفر طیار (علیہم السلام) جیسے عظیم شخصیات اور مجاہدین کی عظمت اور مرتبے پر روشنی ڈالتے ہوئے ان تکریم و تعظیم ک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اس طرح کی محافل کا انعقاد روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کی ان کاوشوں کا حصہ ہے جن کا مقصد معاشرے کے تمام افراد کا تعلق حقیقی علمی منابع سے استوار کرنا ہے۔ روضہ مبارک ایسے حقیقت پسندانہ فکری مطالعے پیش کرنے کا خواہاں ہے جو فرد اور معاشرے کی فکری بالیدگی اور علمی ارتقاء میں ممد و معاون ثابت ہوں۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: