علامہ سید صافی: 'مصحفِ نجف اشرف' برسوں کی عرق ریزی اور پیہم علمی و اجتماعی کاوشوں کا ثمر ہے

روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے متولی شرعی عزت مآب علامہ سید احمد صافی (دام عزہ) نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'مصحفِ نجف اشرف' (قرآنی نسخہ) کی تیاری محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط عرق ریزی، دقیق علمی ابحاث اور مسلسل اجتماعی جدوجہد کا حسین ثمر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجف اشرف کے 'المجمع العلوی' میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران کیا، جو آٹھویں تاجدارِ امامت حضرت امام علی رضا بن موسیٰ کاظم (علیہما السلام) کے جشنِ میلاد کے بابرکت دن اس منفرد قرآنی نسخہ کی رونمائی کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

مصحفِ نجف اشرف کے نام سے شائع ہونے والے اس قرآنی نسخہ کے پہلے ایڈیشن کی تکمیل پر اعلیٰ دینی قیادت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی (دام ظلہ) نے خصوصی طور پر مبارک باد پیش کی اور اس منصوبہ پر کام کرنے والی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔

اس مقدس نسخے کی طباعت روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) سے وابستہ جدید ترین طباعتی مرکز 'دار الکفیل برائے طباعت و اشاعت' میں کی گئی ہے، اور اس سلسلہ میں معیار اور نفاست کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

عزت مآب علامہ سید احمد صافی (دام عزہ) نے اپنے خطاب کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل بیت اطہار (علیہم السلام) پر درود و سلام سے کیا، جس کے بعد انہوں نے حاضرینِ مجلس، جلیل القدر علماء اور مفکرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
نجف اشرف میں حوزہ علمیہ کی تدریسی تاریخ سینکڑوں سالوں پر محیط ہے، جہاں فقہ و اصول، لغت و تفسیر، نحو اور شعر و ادب سمیت تمام فنون و علوم کی آبیاری کی گئی ہے۔ علم و فقاہت اور تفسیر کے ان عظیم شہسواروں نے ہمیشہ تحفظِ علم کے لیے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا، علمی نظریات دریافت کیے اور اسلام کی بنیادی اساس کی حفاظت کی۔

انہوں نے مزید کہا: علماءِ نجف کی ان گراں قدر خدمات اور علمی توجہات کا ایک اہم ترین مرکز 'ثقلِ اکبر' یعنی قرآن کریم رہا ہے، جو امتِ مسلمہ کے درمیان حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چھوڑی ہوئی عظیم ترین ودیعت اور امانت ہے۔

علامہ صافی کے مکمل خطاب سے آگاہی کے لیے اس لنک سے استفادہ کیا جا سکتا ہے:

https://alkafeel.net/news/index?id=37744&lang=ar
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: