روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کےدار علوم نہج البلاغہ کی جانب سے "انسان کو منصب کی قیود اور اقتدار کے مراعات سے آزاد کرانا" کے عنوان سےخصوصی لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔
یہ لیکچر بغداد میں دارِ علوم کی جانب سے منعقد کی جانے والی "ہفتہ وار محفلِ نہج البلاغہ" کے پروگراموں کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد معاشرے کا علمی و معرفتی ذرائع سے تعلق مضبوط کرنااور حقائق کی ایسی بصیرت افروز تفہیم پیش کرنا ہے، جو عوامی شعور کی بیداری اور فکری ترقی میں معاون ثابت ہو۔
دارِ علوم نہج البلاغہ کے سربراہ ڈاکٹر لواء العطیہ نے کہا کہ یہ محفل ان علمی کاوشوں کا تسلسل ہے جو ادارہ نہج البلاغہ کی فکری گہرائی کو اجاگر کرنے اور اسے فرد و معاشرے کی عملی زندگی سے قریب تر لانے کے لیے انجام دے رہا ہے۔ ہمارا مقصد اس عظیم ورثے کو ایک ایسے ضابطہ حیات کے طور پر متعارف کروانا ہے جو عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز اور تغیرات کے مقابل معاشرے کے استحکام اور بلندی کا ضامن بن سکے۔
معروف اسکالر ڈاکٹر طلال العبیدی نے اپنے لیکچر میں امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کے اس تاریخی خط کا فکری و تجزیاتی جائزہ لیا جو آپ (ع) نے بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف الانصاری کے نام تحریر فرمایا تھا۔ ڈاکٹر العبیدی نے واضح کیا کہ امام (ع) نے حکمرانوں اور عہدیداروں کے لیے زہد اور دیانت داری کو عوامی امور چلانے کے بنیادی ستون قرار دیا ہے۔اس خط کو محض ایک تحریر نہیں بلکہ "انسان سازی کا مدرسہ" قرار دیا گیا، جو فرد کو منصب کے لالچ، جاہ و جلال اور دنیاوی ترغیبات سے محفوظ رکھنے کی تربیت دیتا ہے۔
لیکچر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امام علی (ع) نے اقتدار کو عوامی خدمت اور عدل و انصاف کی فراہمی کا ذریعہ بنایا، نہ کہ ذاتی مفادات کے حصول کا۔ ڈاکٹر العبیدی کے مطابق، یہ حکمنامہ ہر دور کے ذمہ داروں اور حکمرانوں کے لیے ایک ابدی ضابطہ اخلاق ہے، جو اقتدار کے نشے کے بجائے ذمہ داری کے احساس کو بیدار کرتا ہے۔





