روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) سے وابستہ 'دارِ علوم نہج البلاغہ' کی جانب سے صوبہ ذی قار میں ہفتہ وار 'محفلِ نہج البلاغہ' کے چودہویں لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔ اس علمی محفل کا مقصد موضوعاتی درجہ بندی کے مطابق نہج البلاغہ کے افکار کو عام کرنا ہے۔
دار علوم نہج البلاغہ کے سربراہ ڈاکٹر لواء العطیہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتہ وار محفل کا مقصد نہج البلاغہ کا گہرائی سے مطالعہ کرنا، اس کے مفاہیم کو سمجھنا اور انسانی و سماجی مسائل کے حل کے لیے اس کی علمی و تربیتی اقدار سے استفادہ کرنا ہے۔ نہج البلاغہ ایک زندہ جاوید متن ہے جو دورِ حاضر کے فکری اور سماجی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کےلیکچر کا مقصد ایک مومن شخصیت کی تعمیر اور کامیاب قیادت کے لیے ایک عملی دستور کے طور پر علوی اقدار کو اجاگر کرنا ہے۔
اس لیکچر کے دوران معروف اسکالر شیخ ہانی الربیعی نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کے مکتوبات میں سے 45 ویں مکتوب کے اقتباسات پر گفتگو کی، جو امام علیہ السلام کے زہد اور دنیاوی مال و متاع پر قدرت رکھنے کے باوجود اس سے ان کی بے نیازی کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امام علیہ السلام نے نفس کو تقویٰ کے ذریعے قابو میں رکھنے کا ایک بلیغ درس دیا ہے تاکہ وہ قیامت کے دن خوف سے محفوظ رہ سکے، اور یہ کہ مادی چیزوں سے دل لگانا، روح کی تعمیر اور یقینِ کامل کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیکچر کا بنیادی محور مثالی قیادت کا تصور تھا، یہ بتاتے ہوئے کہ علوی منہج اس بات کی قطعی نفی کرتا ہے کہ کوئی قائد معاشرے کے دکھ درد سے بے نیاز ہو کر پرآسائش زندگی بسر کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ امت کے استحکام اور اخلاقی بلندی کو یقینی بنانے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ رہنما حالات کی سختیوں اور مصائب میں عوام کے ساتھ دلی اور عملی طور پر ساتھ ہو۔
اس طرح کی محافل کا انعقاد روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کی ان کاوشوں کا حصہ ہے جن کا مقصد معاشرے کے تمام افراد کا تعلق حقیقی علمی منابع سے استوار کرنا ہے۔ روضہ مبارک ایسے حقیقت پسندانہ فکری مطالعے پیش کرنے کا خواہاں ہے جو فرد اور معاشرے کی فکری بالیدگی اور علمی ارتقاء میں ممد و معاون ثابت ہوں۔



