نمازِ عید کا یہ مرکزی اجتماع شیخ صلاح کربلائی کی امامت میں منعقد ہوا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں نمازیوں نے شرکت کی۔ زائرین اور مقامی عقیدت مندوں کی کثیر تعداد کے باعث پورا بین الحرمین نمازیوں سے کچھا کچھ بھر گیا اور اس روحانی ماحول میں ہر طرف خشوع و خضوع، خوشی اور دعاؤں کا ایک رقت آمیز امتزاج دیکھنے کو ملا۔
نماز کے اختتام پر مومنین نے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ پھیلا کر گریہ و زاری کی اور گڑگڑا کر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سرزمینِ عراق کو امن و امان کا گہوارہ بنائے، شہداء کے درجات بلند فرمائے اور تمام بیماروں و زخمیوں کو شفائے عاجل و کامل عطا فرمائے۔
واضح رہے کہ عید الاضحیٰ کے اس پروقار موقع پر روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے تمام شعبہ جات نے پہلے سے ہی ایک جامع اور مربوط پلان تیار کر رکھا تھا، جس کے تحت امام حسین (علیہ السلام) اور حضرت ابو الفضل العباس (علیہ السلام) کے زائرین کو خدامِ روضۂ عباس(علیہ السلام) بہترین اور ہر ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔


















