خطبہِ نمازِ عید: ’’عراقی عوام کا پاکیزہ تشخص اور دینی قیادت کی پکار پر لبیک کہنا‘‘ مشکل حالات میں ان کے موقف کا عکاس ہے

کربلا مقدسہ میں عید الاضحیٰ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خطیبِ نمازِ عید شیخ صلاح کربلائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’’عراقی عوام کا پاکیزہ تشخص، مٹی سے وفاداری اور اعلیٰ دینی قیادت کی پکار پر والہانہ لبیک‘‘ مشکل اور کٹھن حالات میں ان کے جرات مندانہ موقف کا عکاس ہے۔

بین الحرمین الشریفین خطبہِ عید دیتے ہوئے شیخ کربلائی نے کہا: ان ایام میں جب ہماری امتِ مسلمہ اور بالخصوص ہمارے غیور خاندان شدید ترین مصائب، بحرانوں، پیاروں کی جدائی، اب تک کچھ شہداء کی تدفین نہ ہو پانے اور اپنے گھر بار سے بے دخلی جیسی ناقابلِ برداشت سختیوں اور آزمائشوں سے گزر رہے ہیں؛ تو ایسے وقت میں آپ کا یہ معزز اور شجاعانہ موقف ہی سب سے اہم ترین دلیل ہے۔ یہ موقف نجف اشرف میں قائم اعلیٰ دینی قیادت کی پکار پر آپ کی لبیک، آپ کی اصالت اور مبارک و پاکیزہ وابستگی کا عکاس ہے۔ میں بڑے فخر کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ کے یہ مواقف، دعائیں، جذبات اور لازوال پشت پناہی ہمیشہ ہمارے لیے باعثِ صد افتخار رہے ہیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا: ہماری یہ غیور قوم اپنے اندر عملی عبرتوں، نصیحتوں اور درس کا ایک ایسا سمندر سمیٹے ہوئے ہے، جس سے اربابِ اختیار اور متعلقہ حلقوں کو سیکھنا چاہیے تاکہ وہ بھی اس عظیم مکتب سے فیضیاب ہو سکیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اصلاح و تعمیر کی تحریک میں اپنا حصہ ڈالیں اور محروم طبقے و نوجوانوں کے کندھوں سے مشکلات کا بوجھ ہلکا کریں۔ ہماری عوام اس بات کی حقدار ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ایثار، قربانی اور سخاوت کے لیے تیار کھڑی رہتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ دنیا تو ایک گزرگاہ ہے، مستقل ٹھکانہ نہیں۔ یہ فانی اور زوال پذیر ہے جو اپنے بسنے والوں کے ساتھ پل پل بدلتی رہتی ہے۔ پس دھوکے میں ہے وہ شخص جسے یہ دنیا فریب دے دے، اور بدبخت ہے وہ جو اس کے فتنوں کا شکار ہو جائے۔

شیخ کربلائی نے اپنے خطبے کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا: ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں ایسی ہدایتِ صالحہ سے نوازے جس میں کوئی تبدیلی نہ آئے، اور حق کے ایسے راستے پر گامزن رکھے جس سے ہمارے قدم کبھی نہ ڈگمگائیں، اور ایسی نیک نیتی عطا فرمائے جس میں کوئی شک و شبہ نہ ہو۔ بارِ الٰہا! ہمارے ہاتھوں کو تھام لے ان امور کے لیے جنہیں تو پسند فرماتا ہے اور جن سے تو راضی ہوتا ہے۔ ہمیں پاکیزہ ترین اعمال کی توفیق دے، ہمیں اپنی رضا کے کاموں میں مصروف رکھ، ہمیں صراطِ مستقیم پر چلا اور ہم سب کو دینِ مبین پر جینے اور اسی پر مرنے کی توفیق عطا فرما (ان شاء اللہ)۔ میں اپنی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں اور اپنے اور آپ سب کے لیے اللہ کے حضور مغفرت کا طلبگار ہوں۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: