روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) سے وابستہ 'دارِ علوم نہج البلاغہ' کی جانب سے صوبہ ذی قار میں ہفتہ وار 'محفلِ نہج البلاغہ' کے دوران ایک مربوط اور متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے انسانی اور اخلاقی معیارات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دار علوم نہج البلاغہ کے سربراہ ڈاکٹر لواء العطیہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی جانب سے صوبہ ذی قار سمیت متعدد صوبوں میں منعقد کی جانے والی ان محافل کا بنیادی مقصد امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے افکار و تعلیمات کو ایک طرزِ حیات اور عملی رویے میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ سماجی شعور کو فکری و اخلاقی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دار علومِ نہج البلاغہ ان معارف کو ایسے اسلوب میں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہے جو جو علمی پختگی اور معاصر زندگی کے تقاضوں کا بہترین امتزاج ہوں، تاکہ روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے اُس وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے جس کا مقصد انسان کی فکری و اخلاقی تعمیر اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات کی روشنی میں اس کے مستقبل کی تشکیل ہے۔
محفل کے مقرر شیخ ہانی الربیعی نے کہا کہ اس لیکچر میں ابنِ ملجم کے قاتلانہ حملے کے بعد اپنے فرززندان، امام حسن اور امام حسین( علیہما السلام) کے نام حضرت علی (علیہ السلام) کی وصیت میں مذکور بنیادی نکات پر روشنی ڈالی گئی، جو کہ ایک جامع سماجی دستور کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکچر میں تقویٰ الٰہی، امورِ زندگی میں نظم و ضبط اور باہمی تعلقات کی اصلاح پر خصوصی زور دیا گیا، کیونکہ یہی عناصر سماجی امن کے تحفظ اور معاشروں کے استحکام کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیکچر میں یتیموں کی کفالت، حسنِ ہمسائیگی، قرآنِ کریم پر عمل، باہمی روابط و تعاون کے فروغ اور اختلاف و قطع تعلقی سے اجتناب سے متعلق امام علی (علیہ السلام) کی حکیمانہ ہدایات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ زیرِ بحث نکات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو ترک کرنے کے نقصانات سے بھی خبردار کیا گیا، تاکہ معاشرہ اشرار کے تسلط سے محفوظ رہ سکے۔
اس طرح کی محافل کا انعقاد روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کی ان کاوشوں کا حصہ ہے جن کا مقصد معاشرے کے تمام افراد کا تعلق حقیقی علمی منابع سے استوار کرنا ہے۔ روضہ مبارک ایسے حقیقت پسندانہ فکری مطالعے پیش کرنے کا خواہاں ہے جو فرد اور معاشرے کی فکری بالیدگی اور علمی ارتقاء میں ممد و معاون ثابت ہوں۔




