تمام دن امامِ عالی مقام حضرت امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے باوفا برادرِ گرامی، علمدارِ کربلا ابا الفضل العباس (علیہ السلام) کے روضات مقدسہ کی سمت جانے والی تمام شاہراہیں، کربلا قدیمہ کے داخلی راستوں سے لے کر مقدس حرموں تک، غمِ حسینی کی یادوں میں ڈوبے ماتمی جلوسوں کی آمد کے گواہ بنے رہے۔
شہرِ کربلا کے مختلف علاقوں سے برآمد ہونے والے یہ حسینی جلوس سیاہ علموں کے سائے میں اپنے مقررہ راستوں پر رواں دواں رہے۔ جلوسوں کے شرکاء نے پرسوز نوحوں، مرثیوں اور ماتم کے ذریعے حضرت امام حسین (علیہ السلام)، اہلِ بیتِ اطہار (علیہم السلام) اور آپؑ کے وفادار و جان نثار اصحاب کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور جلوسوں کے شرکاء نے پرسوز نوحوں، مرثیوں اور سینہ زنی کے ذریعے خامسِ آلِ عباؑ، اہلِ بیتِ اطہارؑ اور ان کے جان نثار اصحاب کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور معرکۂ حق و باطل کے ابدی پیغامِ ایثار، وفا اور حریت کی تجدیدِ عہد کی۔
واضح رہے کہ محرم کے پہلے عشرہ میں عزائی جلوس اہل کربلا کے لیے وقف ہوتے ہیں اور اہل کربلا کی جانب سے مراسم عزاء کے احیاء کے لئے مقامات مقدسہ میں ماتمی جلوسوں کی آمد اور برآمدگی ایک قدیم روایت ہے جس کی ابتداء یکم محرم کی صبح ماتمی جلوسوں کی برآمدگی سے ہوتی ہے جو دس محرم تک جاری رہتے ہیں۔
کربلا کے دونوں مقامات مقدسہ سے وابستہ شعبہ شعائر حسینی و مواکب حسینی کی جانب سے مراسم عزاء کے احیاء، عزائی تقریبات کے انعقاد اور ماتمی جلوسوں کی برآمدگی کے لئے تیاریوں کا سلسلہ موسم حزن وغم کی آمد سے بہت پہلے ہی شروع کر دیا جاتا ہے۔ جلوسوں کی نقل و حرکت ایک منظم منصوبے کے مطابق ہوتی ہے، ہر جلوس کا راستہ اور وقت پہلے سے مقرر ہوتا ہے۔ شعبہ شعائر حسینی و مواکب حسینی کا عملہ ہر جلوس کے شروع ہونے سے لے کر اختتام تک اس کے ساتھ ہوتا ہے، تاکہ ایک پرسکون اور محفوظ ماحول میں مراسم عزا کی ادادئیگی کو ممکن بنایا جا سکے۔



