کربلا کی ڈائری میں ماہ رمضان اور شب قدر

سید الشہداء امام حسین علیہ السلام، ان کے بھائی حضرت عباس علیہ السلام اور باقی شہداء کربلا کے سرزمین کربلا میں دفن ہونے کے بعد یہ سرزمین خدا تعالی کے دروازوں میں سے ایک وسیع دروازہ بن گئی، یہاں خدا کا قرب حاصل کرنے کا ایک ملکوتی ماحول ہر وقت چھایا رہتا ہے اور خاص طور پر ماہ رمضان اور شب قدر میں یہ جگہ توبہ، استغفار، دعا، تلاوت اور مناجات کے لیے اپنا ثانی نہیں رکھتی۔

ہمیشہ سے یہاں ماہ رمضان اور شب قدر کی راتوں کو اہل کربلا اور دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے لوگ نہایت عقیدت و احترام اور ایمانی جذبے سے مناتے ہیں۔ اس حوالے سے ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے بزرگ کربلائی شخصیت اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے پرنٹ میڈیا کے انچارج علی الخباز نے بتایا کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں امام حسین(ع) اور حضرت عباس(ع) کے روضہ مبارک کے صحنوں میں شب قدر کے اعمال اجتماعی طور پر ادا کیے جاتے تھے، سب لوگ قرآن مجید کو سروں پر رکھ کر بڑی رقت سے دعائیں کرتے تھے جس سے ایک ایمان افروز ماحول بن جاتا تھا ہر ایک اپنے آپ کو ایک الگ سی دنیا میں محسوس کرتا تھا۔ شب قدر پورا کربلا اپنے گھربار چھوڑ کر روضہ مبارک میں اعمال کرنے آ جاتا تھا، ہر کربلائی پورے جوش وخروش کے ساتھ شب قدر کے اعمال میں شرکت کرتا تھا ان اعمال کی ادائیگی کی اہل کربلا کے نزدیک بہت اہمیت تھی۔

انھوں نے بتایا پورا رمضان ہر رات ناصرف دونوں مقدس روضوں میں بلکہ کربلا کی تمام مساجد اور امام بارگاہوں میں مجلس منعقد ہوتی تھی اور ان میں شرکت کو ماہ رمضان کی عبادات کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ آج بھی دونوں مقدس روضوں اور حسینیات میں ماہ رمضان کے دوران مجالس کا انعقاد وہ وراثت ہے جو نئی نسل نے اپنے بزگوں سے حاصل کی ہے۔

شبہائے قدر اور خاص طور پر 23 رمضان کی شب کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اہل کربلا اس رات میں ایک دوسرے کو افطار کروانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے، رمضان کے باقی دنوں کی نسبت اس رات افطار کا ہر جگہ بہت زیادہ اہتمام کیا جاتا تھا ہر ایک کے ہاں گویا کہ افطار پارٹی ہو رہی ہوتی تھی
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: