انجینئرنگ پراجیکٹس ڈیپارٹمنٹ نے الکفیل یونیورسٹی میں متبادل (شمسی) توانائی پیدا کرنے کے لئے ایک اہم منصوبے پر کام شروع کیا ہے

روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے انجینئرنگ پراجیکٹس ڈیپارٹمنٹ کے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈویژن کے عملے نے الکفیل یونیورسٹی میں متبادل (شمسی) توانائی پیدا کرنے کے لئے ایک اہم منصوبے پر کام شروع کیا ہے، تاکہ یونیورسٹی کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔ متبادل توانائی کے یہ منصوبے روایتی ذرائع سے توانائی کی کھپت کو کم کرنے اور زائد توانائی کو نیشنل پاور گرڈ سٹیشنزکو فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

اس منصوبےکے نگران اور مذکورہ ڈویژن کے سربراہ انجینئر فراس عباس حمزہ نے الکفیل نیٹ ورک سے اس منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: "روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام اور اس سے منسلک تمام ادارے بشمول تعلیمی ادارے جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے ترقی کو آگے بڑھانا اور اس کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام نے توانائی کے شعبے میں زبردست پیشرفت کی ہے اورحرم مطہر شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کرنے اور اسے اپنے اداروں میں متبادل (شمسی) توانائی کے ذرائع کے طور پر استعمال کرنےاور اضافی توانائی نیشنل پاور سٹیشنز کو فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ ہمیں اس پروجیکٹ کا مطالعہ اور ڈیزائن مکمل کرنے کے بعد اس کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے لہذا ہم نے اس پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ڈویژن کی طرف سے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ امید ہے کہ ہم اس منصوبے کو کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل کریں گے اور حرمین کے باقی اداروں اور سہولیات تک اپنے تجربے کو عام بنائے گے۔

انہوں نے مزید کہا: "یہ نظام (130) شمسی یونٹس پر مشتمل ہے اور ایک یونٹ کی پیداواری صلاحیت(380) واٹ ہے اور(50) کلو واٹ کی لیتھیم بیٹریوں کے ساتھ سسٹم کی کل گنجائش (96) کلو واٹ ہے۔ قومی گرڈ سے بجلی منقطع ہو جانے کی صورت میں اس سے یونیورسٹی کے تمام الیکٹرانک سسٹمز اور مرکزی انفارمیشن سنٹر کو مکمل طور پرچلایا جا سکتا ہے جب کہ رات کو، سرکاری اور ہفتہ وار تعطیلات اور لمبی چھٹیوں (موسم بہار اور موسم گرما) کے دوران یونیورسٹی کو جنریٹرز کا استعمال کرتے ہوئے توانائی فراہم کی جائے گی تاکہ متبادل توانائی یونیورسٹی کے اہم فیڈر کو مہیا کی جا سکے۔ ہائبرڈ سسٹم کا استعمال کرکے توانائی کی کھپت کو کم کیا جائے گا، خاص طور پر گرمیوں کے دوران جب بجلی کا استعمال بہت بڑھ جاتا ہے۔ "

انہوں نے وضاحت کی: "یہ نظام اور اس کے پینل اعلی معیار اور کارکردگی کے حامل ہیں اور شمسی یونٹس سورج سے زیادہ سے زیادہ ممکنہ توانائی حاصل کرنے کےلئے سورج کی طرف اپنا جھکاؤ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ "

انجینئر فیراس نے وضاحت کی: "ہم نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک مربوط ورک پلان تیار کیا ہےجو مراحلہ وار ہوگا اور درج ذیل مقاصد کو حاصل کیا جا سکے گا:

ڈیزل جنریٹرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
بجلی کے استعمال اور اس کے بلوں کی مد میں یونیورسٹی کے اخراجات کو کم کرنا کیونکہ یونیورسٹی ہر ماہ دس لاکھ دینار بجلی کے محکمے کو ادا کرتی ہے۔
جنریٹرز کو چلانے اور برقرار رکھنے کے لئے رقوم مختص کرنا اور ان کے استعمال کے دوران آنے والے شور کو کم کرنا۔
دن اور رات بغیر کسی رکاوٹ کے مستحکم بجلی کی فراہمی۔
متبادل توانائی کے استعمال کو عام کرنے میں تعاون کیا جا سکے گا۔
اس شعبے میں ایسے بڑے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ہمارے عملے کو اضافی تجربہ فراہم کرے گا۔ "
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: