شعبان معظم اپنی برکتوں اور فضیلتوں کے ساتھ ساتھ اہل بیت علیہم السلام کے حوالے سے بھی بہت خاص مہینہ ہے اگر یہ کہا جائے کہ یہ مہینہ اہل بیت علیہم السلام کی خوشیوں سے بھرا ہوا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اہل بیت علیہم السلام کی متعدد برگزیدہ ہستیوں کا جشن میلاد اور کئی اہم دینی مناسبات اسی مہینہ میں ہیں۔ اس مہینہ کے شروع ہوتے ہی روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کو اہل بیت کی خوشیاں منانے کے لیے اس طرح سجایا جاتا ہے کہ ہر جانب خوشی اور جشن کا سا سماں نظر آتا ہے.
اس سال بھی حسب روایت شعبان کےبا برکت اور بافضیلت مہینے کے قریب آتے ہی روضہ مبارک کے سادۃ الخدم اور کیئر ڈیپارٹمنٹ کے سٹاف نے روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کو اندر اور باہر سے بینروں، پھولوں اور پودوں کے ساتھ سجانا شروع کر دیا تھا اور اس وقت روضہ مبارک کا ہر حصہ شعبان کی خوشیوں کی مبارک باد دیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے.
روضہ مبارک کے داخلی و خارجی راستوں کو گلاب کے پھولوں اور رنگ برنگے برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے ۔ ان ایام کی عظمت کو ظاہر کرتے ہوئے اور انوار محمدیہ ( امام حسین علیہ السلام ، امام سجاد علیہ السلام، قمر بنی ہاشم ابا الفضل العباس علیہ السلام ،امام مہدی علیہ السلام اور حضرت علی الاکبرعلیہ السلام) کے جشن ولادت کی مبارک باد دیتے تہنہتی بینرز ہر جانب آویزاں ہیں۔
سینکچری یونٹ کے احمد کریم یوسف کے مطابق حضرت ابا الفضل العباس علیہ السلام کی ضریح مقدس کو پھولوں اور گلابوں کے 60 بڑے بڑے گلدستوں سے میں سجایا گیا ہے۔ یہ گدستے کئی اقسام کے گلاب اور پھولوں پر مشتمل ہیں جن میں انتھوریم، للی، ڈچ گلاب، گلیڈیولس، گلاب، ٹیولپ، رینبو پھول، دمسک گلاب اور محمدی گلاب شامل ہیں۔
اہل بیت علیھم السلام کی متعدد برگزیدہ شخصیات کا جشن میلاد اور مختلف دینی مناسبات اسی مہینہ میں ہیں:
شعبان کے مہینہ کی دوسری تاریخ کو ہجرت کے دوسرے سال روزے کے وجوب کا حکم نازل ہے۔
شعبان کی تین تاریخ کو ہجرت کے چوتھے سال حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی اور ملائکہ رسول خدا(ص) کو امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مبارک باد دینے کے لیے آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
چار شعبان 26 ہجری کوحضرت عباس علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔
پانچ شعبان 38 ہجری کوحضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی اور اس دن حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے جنگ جمل فتح کی۔
گیارہ شعبان 33 ہجری کو حضرت علی اکبرعلیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔
پندرہ شعبان 255 ہجری کو حضرت امام مھدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔
پندرہ شعبان کی رات شب قدر کے بعد سب سے افضل ترین رات ہے اور اس میں عبادت اور دعا کا بہت زیادہ ثواب روایات میں مذکور ہے۔
واضح رہے شعبان کے مہینہ میں انوار محمدیہ(ع) کی آمد کی خوشی میں امام حسین(ع) اور حضرت عباس(ع) کے روضہ مبارک کی جانب سے ہر سال ربیع الشہادہ ثقافتی سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کی بہت سی تقریبات روضہ مبارک حضرت عباس(ع) میں منعقد ہوتی ہیں۔
خوشیوں اور روحانی کیفیات سے بھرپور اس ماحول میں اہل بیت (ع) کے چاہنے والے جوق در جوق روضہ مبارک حضرت امام حسین علیہ السلام اور روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام میں مراسیم زیارت کی ادائیگی کے لیے آرہے ہیں ۔ روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے خدام اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں زائرین کو بہترین خدمات فراہم کرنے اور ان کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے میں صرف کر رہے ہیں۔








