اعلیٰ دینی قیادت کے جہاد کفائی کے تاریخ ساز فتوی کے صدور کو 8 سال مکمل

13جون کا دن پورے عالم انسانیت اور اہل عراق کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آج سے آٹھ سال پہلے 13جون 2014 کو نجف اشرف میں موجود اعلیٰ دینی قیادت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی(دام ظلہ العالی) نے عراق اور مشرق وسطی کو اب تک کے بدترین دہشت گردوں اور عالم انسانیت کے لیے سب سے خطرناک نام نہاد جہادیوں سے بچانے کے لیے جہاد کفائی کا تاریخی فتوی صادر کیا، اس فتوی کو روضہ مبارک امام حسین(ع) کے متولی شرعی علامہ شیخ عبد المہدی کربلائی نے جمعہ کے خطبہ کے دوران بیان کیا۔

عراق کے سرکاری اعداد شمار اور ریکارڈ کے مطابق اس فتوی کے صدور کے بعد عراق کے تقریبا 35لاکھ مومنین نے رضاکارانہ طور پر اس جنگ میں شرکت کے لیے اندراج کروایا۔

جس فتوی کے بعد عراقی عوام باہر نکل کر میدان جنگ میں آئی اور داعش کو عراقی علاقوں سے باہر نکلنے پہ مجبور کر دیا۔ اس فتوی کے صادر ہونے کے بعد عراقی مومنین نے ہر جگہ داعش کو شکست فاش سے دوچار کیا اور بہادری اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کیں۔

اس تاریخی فتوی کے صدور کے اٹھ سال مکمل ہونے کے حوالے سے عراق میں ہر جگہ شھداء، زخمیوں اور داعش سے بر سرِ پیکار مومنین کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

اس فتوی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس لنک سے استفادہ کیا جا سکتا ہے:

https://alkafeel.net/inspiredfriday/index.php?id=164&ser=2&lang=ar







قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: