روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے شعبہ فکرو ثقاف تسے منسلک ام البنین (سلام اللہ علیہا) وویمن لائبریری کی جانب سے (اپنے آپ کو بدلنے میں مطالعہ کا کردار ) پر ایک ثقافتی و آگہی لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔
یہ لیکچر(فَاسْأَلُوا أهْلَ الذِّكْر)پروگرام کے ضمن میں دیا گیا تھا۔ یہ پروگرام ہر جمعہ کی شام کو خواتین کی مذہبی رہنمائی ڈویژن کے قرآنی یونٹ کی طرف سے روضہ مبارک ابی الفضل العباس علیہ السلام کے بیسمنٹ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام میں منعقد کیا جاتا ہے۔
لیکچرر سيدة مروة راضي الأسديّ نے کہا، "مطالعہ لوگوں اور تہذیبوں کی تعمیر، فکر، سوچ اور مہارتوں کو فروغ دینے میں بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مطالعہ کرنا نئی اور مفید معلومات اور علم کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔اور دل و دماغ فائدہ مند علم کی روشنی سے منور ہوتا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بہترین مطالعہ قرآن پاک کی تلاوت اور اس میں غور و فکر کرنا ہے۔کلام الہی کے بعد نہج البلاغہ وہ عظیم کتاب ہے جو علم وحکمت کا خزانہ ہے۔ اس طرح کے ثقافتی بیداری کے پروگراموں کے قیام سے، خاص طور پر مسلم خواتین میں فکر کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ الیکٹرانک آلات کی ترقی کے ساتھ مطالعہ کرنا مزید آسان ہو گیا ہے اور ماضی کی نسبت ہمیں چند سیکنڈوں میں بہت زیادہ معلومات ملتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مطالعہ سے فائدہ اٹھانے کے لیےچار پہلوؤں کا ہونا ضروری ہے: (تیاری، عکاسی، تفہیم، نتیجہ)۔ مطالعہ سے انسان کا ذہن کھلتا ہے روز بروز اس کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ اس کے ذہن کی گرہیں کھلتی ہیں ، علم کا جو خزانہ کتابوں میں ہے وہ پڑھنے والے کے دل و دماغ میں اس کی شخصیت میں سرایت کر جاتا ہے۔


