سن 61ہجری میں قبیلہ بنی اسد کی امام سجاد(ع) کی رہنمائی میں شہداء کربلا کی تدفین کی یاد میں اہل کربلا اور قبیلہ بنی اسد سمیت دیگر عراقی قبائل شہداء کربلاء کے یومِ دفن کو ایک قبائلی و موروثی رسمِ عزاء کے طور پر مناتے ہیں۔
عرب قبائل کے اس جلوس عزاء میں ہر قبیلے کا الگ دستہ تھا، یہ جلوس بعد از ظہر مزار سید جودہ کے پاس سے شروع ہوا اور مدینہ قدیمہ کے گرد موجود سڑک سے روضہ مبارک امام حسین(ع) میں پہنچا جہاں پرسہ پیش کر کے ما بین الحرمین سے ہوتا ہوا روضہ مبارک حضرت عباس(ع) میں آیا کہ جہاں یہ جلوس ماتم داری کے بعد اختتام پذیر ہو گیا۔
فرات اوسط میں قبیلہ بنی اسد کے سردار زہیر یوسف نے کہا ہے کہ قبیلہ بنی اسد کا جلوس عزاء تیرہ محرم کو برآمد ہونے والے قدیم ترین جلوسوں میں سے ایک ہے، اس میں ہمارے قبیلہ کے لوگ امام حسین(ع) اور ان کے اہل بیت وانصار(ع) کے یومِ تدفین کی یاد میں جلوسِ عزاء برآمد کرتے ہیں اور اس جلوس کی تیاریاں محرم کی ابتدا ہی سے شروع کر دی جاتی ہیں۔
اس جلوس میں خواتین کی بہت بڑی تعداد نے بھی شرکت اور اس دردناک سانحہ پر جناب زینب(ع) کو پرسہ پیش کیا۔
روضہ مبارک حضرت عباس(ع) نے یومِ تدفین کی یاد میں برآمد ہونے والے ماتمی جلوسوں کو بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے وسیع انتظامات کیے ہیں۔






























































