یہ قافلہ روضہ مبارک حضرت عباس (ع)کے سیکریٹری جنرل سید مصطفیٰ مرتضیٰ آل ضیاء الدین، امدادی کمیٹی کے چیئرمین سید محمد اشیقر اور روضہ مبارک کے متولی شرعی کے دفتر کے ڈائریکٹر سید افضل الشامی کی موجودگی میں کربلا مقدسہ سے لبنان کے لئے روانہ ہوا۔
روضہ مبارک حضرت عباس (ع)کے سیکریٹری جنرل سید مصطفیٰ مرتضیٰ آل ضیاء الدین نے کہا: " یہ امدادی مہم یہ مہم روضہ مبارک حضرت عباس(ع) نے نجف اشرف میں سکونت پذیر اعلیٰ دینی قیادت کی اپیل اور روضہ مبارک کے متولی شرعی سید احمد صافی کی ہدایات پر شروع کی گئی ہے تاکہ لبنانی عوام کے مصائب کو کسی حد تک کم کرنے اور انھیں انسانی ضروریات باہم فراہم کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔"
انہوں نے مزید کہا، "تیسرا امدادی قافلہ 55 ٹرکوں پر مشتمل ہے کہ جو تقریباً 1200 ٹن امدادی سامان جس میں خوراک، ادویات، ایندھن ، پانی اور لبنانی عوام کو درکار ضروری اشیاء شامل ہیں،لیکر لبنان روانہ ہوا ہے۔ " انہوں نے نشاندہی کی کہ " تیسراامدادی قافلہ طبی، غذائی اور دیگر ضروری اشیاء پر مشتمل ہے کہ جو بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں چاہے وہ شام میں ہوں یا لبنان میں، کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ زخمیوں کی مدد اور علاج کے لیے موبائل کلینکس اور فیلڈ ہسپتال بھی قائم کئے گئے ہیں اور شدید زخمیوں کو الکفیل ہسپتال کربلا منتقل کیا جا رہا ہے۔ "
انہوں نے کہا کہ، "روضہ مبارک حضرت عباس (ع) عراقی حکومت، عراقی ہلال احمر اور شام میں متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر مزید امدادی قافلے بھیجنا جاری رکھے گا تاکہ اسرائیلی جاریت سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔"
انہوں نے تصدیق کی، "روضہ مبارک حضرت عباس (ع) نے کربلا مقدسہ پہنچنے والے بے گھر لبنانیوں کا استقبال کیا ہے، اور انہیں اپنے سروس کمپلیکشز اور ہوٹلوں میں ٹھہرایا ہے، اور بے گھر لبنانیوں کی متوقع آمد کے پیش نظر مزید ہوٹل بھی کرائے پر لیے گئے ہیں۔"
اس سے پہلے بھی روضہ مبارک حضرت عباس (ع) کی جانب سے اپنی امدادی مہم کے ایک حصے کے طور پر لبنانی شہریوں کی امداد کے لئے دو قافلے لبنان روانہ کیے جا چکے ہیں، جن میں ایک فیلڈ ہسپتال اور ایک موبائل میڈیکل یونٹ، ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹاف پر مشتمل ٹیم، ادویات، کھانے پینے ، دیگر ضروریات زندگی اور لاجسٹک سپلائز شامل تھیں۔ اس کے علاوہ بے گھر ہوجانے والے لبنانی خاندانوں اور ریلیف کیمپس میں پناہ لینے والے متاثرہ خاندانوں کو کھانا فراہم کرنے کے لیے ایک مرکزی باورچی خانے تیار کیا جا رہا ہے۔ 36 ہزار لیٹر کی گنجائش والے 3 فیول ٹینکرز بھی اس امدادی قافلے کا حصہ تھے.













