ساتویں بین الاقوامی العمیدعلمی کانفرنس کے پہلے دن کی سرگرمیاں اختتام پذیر

آج بروز جمعہ روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام میں ساتویں بین الاقوامی العمیدعلمی کانفرنس کے پہلے دن کی سرگرمیاں اختتام پذیر ہوگئیں۔

یہ کانفرنس روضہ مبارک حضرت عباس (ع) کے زیراہتمام اور العمید سائنٹفک اینڈ انٹلیکچوئل سوسائٹی ، الکفیل اور العمید یونیورسٹیز کے تعاون سے (خاندان اور معاشرے کی حفاظت: شناخت اور ٹیکنالوجی کے چیلنجز) کے عنوان اور (نلتقي في رحاب العميد لنرتقي) کے نعرے کے تحت منعقد کی گئی ہے،جو دو دن تک جاری
رہے گی۔

کانفرنس کے پہلے دن میں چار تحقیقی سیشنز کا انعقاد کیا گیا، جن میں مختلف موضوعات پر بات چیت کی گئی جو خاندان اور معاشرتی تحفظ سے متعلق ہیں۔ پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر محمد حسن جابر اور ڈاکٹر علی کریم حايط کی میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔ اس سیشن میں مختلف تحقیقی مقالات پیش کیے گئے جن میں سے کچھ اہم موضوعات یہ تھے: اسلامی ثقافت میں بچوں کے جرائم کی روک تھام اور مقابلہ کرنے میں خواتین کا کردار، محققین ڈاکٹر محمود میر خلیلی اور ڈاکٹر فیصل نعیم ، اسلام میں خاندان کا سماجی ڈھانچہ، ڈاکٹر خمیس غریبی حسین اور اخلاقی تنزلی اور اس کے خاندان اور معاشرے پر اثر، محقق ڈاکٹر زینب عبد الرزاق التغلبي۔

کانفرنس کے پہلے دن کے دوسرے تحقیقی سیشن میں انگریزی زبان میں چھ تحقیقی مقالات پیش کیے گئے، یہ تحقیقی سیشن روضہ مبارک کے القاسم(علیہ السلام) ہال میں منعقد ہوا۔ اس سیشن کی صدارت ڈاکٹر سرحان جفات سلمان نے کی، اور اس کے میزبان ڈاکٹر احمد حسن منصور تھے۔

جہاں تک چوتھے سیشن کی بات ہے، اس کی صدارت ڈاکٹر عباسعلی الفحام نے کی، اور اس کے رپورٹر ڈاکٹر عمار حسن عبدالزہرہ تھے،اس سیشن میں بھی خاندان اور معاشرے کی حفاظت: شناخت اور ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے متعلق موضوعات پر تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔

ساتویں بین الاقوامی العمیدعلمی کانفرنس کے پہلے دن کی سرگرمیوں کے ضمن میں (سبع سنبلات خضر) کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم پیش کی گئی کہ جو اس کانفرنس کے پچھلے ایڈیشن کے بارے میں تھی،

ساتویں بین الاقوامی العمیدعلمی کانفرنس کےضمن میں منعقد کی جانے والی تقریبات میں روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے متعدد اراکین، ملکی و غیر ملکی محققین وماہرین سمیت اعلی علمی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: