روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کی مجلس ادارہ کے رکن اور دار علوم نہج البلاغہ کے نگران ڈاکٹر عباس ددہ موسوی نے کہا ہے کہ دار علوم نہج البلاغہ کا قیام نہج البلاغہ میں موجود علوم کو اجاگر کرنے کی اہمیت کے پیش نظر عمل میں لایا گیا ہے۔
یہ بات انہوں نے دار علوم نہج البلاغہ کے زیر اہتمام پہلے سالانہ "حفاظ نہج البلاغہ فورم" کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی کہ جو امام حسن مجتبی(ع ہال میں (وَاِمْتَاحُوا مِنْ صَفْوِ عَيْنٍ قَدْ روَّقتْ مِنَ الكَدَرِ) کے عنوان کے تحت منعقد ہوئی۔
ددہ موسوی نے کہا کہ روضہ مبارک حضرت عباس(ع) میں ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کے علمی خزانہ میں سے کچھ ہی علوم ظاہر ہو سکے ہیں جبکہ اس کا بہت بڑا حصہ ابھی تک پوشیدہ ہے، لہذا ایسے فرد کی ضرورت ہے کہ جو اس کا دقیق مطالعہ کرے اور اس سے استفادہ کرے، اور اسی لیے نہج البلاغہ میں موجود علوم اجاگر کرنے کی اہمیت کے پیش نظر "دار علوم نہج البلاغہ" کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ کتاب امیر المومنین اور عترت طاہرہ کے سردار حضرت علی بن ابی طالب(ع) کے سردار کی جانب سے اسلامی پیغام کی ایک اہم ترجمانی ہے اور ہمیں رسول خدا(ص) نے قرآن مجید اور اپنی عترہ طاہرہ(ع) سے متمسک رہنے کا حکم دیا ہے۔
تقریب میں معروف شاعر علی صفار کربلائی نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا اور شیخ محمد حسین اور شیخ ہانی ربیعی نے (نفحات من نهج البلاغة) کے عنوان سے اس کتاب کے کچھ حصے حاضرین کے نذر کیے، اس کے علاوہ حفظ نہج البلاغہ پروگرام کے اساتذہ اور اس منصوبہ کے معاونین کو اعزازات سے نوازا گیا۔





