روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کی طرف سے عراق اور اسلامی ممالک کی یونیورسٹیوں کی طالبات کے لیے مرکزی گریجویشن تقریب کا انعقاد

آج عراق اور اسلامی ممالک کی یونیورسٹیوں کی طالبات کے لیے روضہ مبارک حضرت عباس(ع) نے آٹھویں سالانہ مرکزی گریجویشن تقریب کے دوسرے دن کی تقریبات کا انعقاد کیا۔
اس تقریب کا انتظام و اہتمام، دفتر متولی شرعی برائے امورِ خواتین، کے شعبہ الکفیل دینی مدارس نے "جناب فاطمہ(ع) کے نور سے ہم دنیا کو روشن کریں گی" کے شعار کے تحت درسی سال 2023/2024 کی طالبات کے لیے کیا ہے کہ جس میں عراقی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والی 4000 سے زیادہ طالبات شرکت کر رہی ہیں۔
تقریب میں روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے سیکرٹری جنرل، سید مصطفی مرتضی آل ضیاالدین، مجلس ادارہ کے اراکین، اور مختلف شعبوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
دوسرے دن کی مرکزی تقریب کا آغاز روضہ مبارک کے مؤذن قاری سید حیدر جلوخان نے تلاوت قرآن مجید سے کیا۔ اس کے بعد باب قبلہ کے صحن میں فارغ التحصیل طالبات نے مرقد ابو الفضل عباس(ع) کے سامنے اپنے وطن کی خدمت اور اس سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔
سید آل ضیاالدین نے کہا ہے کہ روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کا ادارہ اعلی دینی قیادت کی پیروی کرتا ہے اور ان سے ہی رہنمائی حاصل کرتا ہے، اور اپنے تمام پروگراموں اور سرگرمیوں میں دینی و وطنی انتماء پر زور دیتا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ اس پروگرام کو روضہ مبارک کے متولی شرعی علامہ سید احمد صافی نے تیار کیا گیا،تاکہ انسان کی عزت، اور علم و علماء کی توقیر کو اجاگر کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اس تقریب میں عراق سے تعلق رکھنے والی ہر رنگ ونسل کی طالبات شریک ہیں کے تمام مختلف طبقوں کی طالبات شریک ہیں، اور تقریب کا علامتی نشان عراقی کھجور کا درخت ہے، یہ وہ بلند و بالا عراقی رمز ہے جس کے ذڑیعے ہم عراق سے اپنے تعلق کی تجدید کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ، دیگر اسلامی ممالک سے بھی فارغ التحصیل طالبات کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تقریب ہمارے اسلامی تشخص کی نمائندگی کرتی ہے۔
آل ضیاء الدین نے بتایا کہ "اس سال کی تقریب میں 7 دیگر اسلامی ممالک سے 170 طالبات نے شرکت کی ہے، جو کویت، بحرین، سلطنت عمان، لبنان، ایران، پاکستان اور سعودی عرب شامل ہیں، جبکہ عراق کے اندر سے بھی 4000 سے زائد طالبات شریک ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم یافتہ عورت کو معاشرے کے لیے اخلاقی اقدار کا رول ماڈل ہونا چاہیے، کیونکہ مہذب شخصیت کی تشکیل کے لیے صرف تعلیم ہی کافی نہیں ہے بلکہ ثقافتی اور سماجی بیداری بھی ضروری ہے۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: