اس آٹھویں سالانہ تقریب کا انتظام و اہتمام، دفتر متولی شرعی برائے امورِ خواتین، کے شعبہ الکفیل دینی مدارس نے "جناب فاطمہ(ع) کے نور سے ہم دنیا کو روشن کریں گی" کے شعار کے تحت درسی سال 2023/2024 کی طالبات کے لیے کیا ہے کہ جس میں عراقی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کی 4000 سے زیادہ طالبات شرکت کر رہی ہیں۔
طالبات نے مرقدِ مطہر حضرت ابو الفضل العباس(ع) کے سامنے وطن اور انسانیت کی خدمت کا حلف اٹھایا، روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کی مجلسِ ادارہ کے رکن ڈاکٹر عباس دده موسوی نے طالبات کو بتایا کہ ہمارا عہد متحد عراق، اور اس کے اتحاد کی عظیم ترین علامت سید سیستانی (أدام الله بقاءهما) سے ہے، اور قسم اللہ، اس کے رسول(ص)، اہل بیت(ع) اور مومنین کی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے طالبات سے ان الفاظ میں حلف لیا:
اے عراق، اے اوطان کی چمکتی پیشانی، اور زمانے کے مرہم، ہم کل موجود ہوں گی، ہم کل تک زندہ رہیں گی، عنقریب غم کے بادل چھٹ جائیں گے، دھند چلی جائے گی، مشکلات ختم ہو جائيں گی، ضمیر و انسان فروش نہ رہیں گے، اور کل عراق کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا، ہم عہد کرتی ہیں کہ ہم اسے ہر نقصان پہنچانے والے سے بچائیں گی، وعدہ ہے ہمارا کہ ہم اپنے نبئ مختار(ص) اور ان کی آل ابرار(ع) کی رہنمائی کی روشنی میں اسے ہر برائی و رسوائی سے محفوظ رکھیں گی، ہم سب ممالک اور سب بندوں سے، ان میں موجود تمام مقدسات سے، اپنی ماؤں کے پیئے ہوئے دودھ سے، ہمیں سکھانے پڑھانے والے روحانی ماں باپ کی محنت سے عہد کرتی ہیں کہ اس زمین اور اس کی عزت وحرمت کی حفاظت کریں گی اور ہم اپنے اس عہد کو بھی اپنی پسلیوں میں محفوظ رکھیں گی، اور لوگوں کے درمیان شمع روشن کریں گی، ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کے نقش بنائيں گی، ان کے آنسو پونچھ کر شمعیں روشن کريں گی، اے عراق آنے والا کل ہمارا ہے، "کتنی خوش نصیبی ہے کہ تم ہی میری امید ہو، پس تم ایک بابرکت اور عظیم وطن ہو، مشکلات اور زمانے کی رکاوٹوں کے باوجود، ہم اپنی ذمہ داری ادا کریں گی اور چوٹیوں سے بھی بلند ہو جائيں گی۔
میں خدائے بزرک وبرتر کی قسم کھاتی ہوں کہ میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران اللہ کو یاد رکھوں گی، خدا کی رحمت و رحم کا وسیلہ بنوں گی، اپنے ملک کی خدمت کروں گی، انسانی زندگی کو مقدس قرار دوں گی، انسان کی عزت اور کرامت کی حفاظت کروں گی، قریب اور دور کے لوگوں کا خیال رکھنے کے لیے پوری توانائی صرف کروں گی،علم کے حصول میں بہت محنت کروں گی اور اسے انسان کے فائدے کے لیے استعمال کروں گی، اپنے اساتذہ کو احترام کی نظر سے دیکھوں گی، میری زندگی ظاہر وباطن میں میرے ایمان کی مصداق ہو گی، میری زندگی اللہ، اس کے رسول(ص)، اہل بیت(ع) اور مومنین کے لیے ہر طرح کی بدنامی یا برائی سے پاک ہو گی، اور اللہ میری اس بات کا گواہ ہے۔













