بڑوں کے زمرے میں شامل ملائیشیا، عراق اور افغانستان کی نمائندگی کرنے والے تین قاریانِ قرآن نے دوسرے العمید عالمی ایوارڈ کے دسویں مرحلے میں شرکت کی اور تلاوت قرآن میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کا خوب مقابلہ کیا۔
اس عالمی قرآنی مقابلے کا انعقاد روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے "قرآن علمی کمپلکس" نے کیا ہے، جس میں 22 ممالک کے نامور قاریانِ قرآن شریک ہیں، ان میں سے 10 قاریانِ قرآن بچوں کے زمرے میں شامل ہیں جبکہ دیگر 30 قاریوں کو بڑوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
ان قرآنی مقابلوں میں جیوری کے فرائض بین الاقوامی ماہرینِ قرآن پر مشتمل کمیٹی ادا کر رہی ہے، جس میں مصر کے شیخ محمد بسیونی اور شیخ محمد عصفور، عراق کے شیخ باسم عابدی، ڈاکٹر مشتاق علی اور قاری سید حسنین حلو، افغانستان کے شیخ عبد الكبير حیدری، ایران کے سید کریم موسوی اور لبنان کے محمد رمال شامل ہیں۔
دوسرے العمید عالمی ایوارڈ برائے تلاوتِ قرآن کے مقابلوں کے دسویں مرحلہ میں حصہ لینے والےتین قاریانِ قرآن کے نام یہ ہیں:
محمد عزان بن إدريس ( جن کا تعلق ملیشیا سے ہے)
أسامة عبد الحمزة الكربلائي (جن کا تعلق عراق سے ہے)
محسن شجاعی (جن کا تعلق افغانستان سے ہے)
اس نشست میں ججز کی جانب سے دی گئی تجاویز، قرآن کی آیات کے حوالے سے سوالات، اور مختلف محافل میں قرآن کی تلاوت کے انداز پر گفتگو بھی شامل تھی۔
اس دسویں قرآنی نشست میں عراق سے تعلق رکھنے والے بصارت سے محروم حافظِ قرآن محمد عبد الشریف کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا، جنہوں نے قرآن کریم حفظ کرنے کی اپنی جدوجہد اور اس میں اپنے والد کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔
عبد الشریف نے بتایا کہ محدود وسائل کے سبب انہوں نے قرآن حفظ کرنے کی راہ میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا اور انہوں نے بتایا کہ انھیں اس دور میں سورة البقرة کو دھرانے کے لیے ٹی وی پر اس سورۃ کے نشر کیے جانے کا انتظار کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ اس مقابلے میں عربی، ایشیائی اور افریقی ممالک سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے قاریان قرآن شرکت کر رہے ہیں اور یہ عالمی مقابلہ روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کی جانب سے فرد و معاشرے کی اصلاح کے لیے مستند رہنمائی اور قرآنِ کریم کی ثقافت کی نشر واشاعت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔













