اعلی دینی قیادت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی (دام ظلہ) کے دفتر سے صادر ہونے والے بیان میں سعودی عرب کے علاقے احساء کے رہنے والوں کو علامہ شیخ جواد الدندن (طاب ثراہ) کے انتقال پر تعزیت پیش کی گئی ہے۔
بیان کا ترجمہ یہ ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
(إنا للہ و إنا الیہ راجعون)
مکرم عزیزانِ اہل احساء
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ہمیں انتہائی غم و افسوس کے ساتھ متقی و پرہیزگار جلیل القدر عالم شیخ جواد الدندن (طاب ثراہ) کی وفات کی خبر موصول ہوئی کہ جنہوں نے درس و تدریس کے ذریعے اپنی بابرکت زندگی کا طویل عرصہ دین کی تبلیغ اور مومنین و علم کی خدمت کرتے ہوئے گزارا۔ اللہ تعالیٰ انہیں محسنین جیسی بہترین جزاء عطا فرمائے۔
ہم اس غمناک موقع پر علاقے کی بزرگ شخصیات، علماء کرام اور تمام مومنین کو تعزیت پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ مرحوم کو اپنی رحمت اور رضوان سے نوازے، اور ان کے اہل خانہ، محبین اور فضیلت شناس افراد کو صبر و سکون عطا کرے۔
ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم
دفتر سید سیستانی - نجف اشرف / 2 شوال 1446ھ
شیخ جواد بن شیخ علی الدندن نے ۱۳۶۹ھ مطابق ۱۹۴۹ء میں سعودی عرب کے علاقے احساء کے ایک علمی خاندان میں آنکھ کھولی اور ابتدائی تعلیم مدرسہ سید یاسین موسوی سے حاصل کی، جہاں انہوں نے پڑھنا، لکھنا، ریاضی اور قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ اپنے والد سے تعلیم حاصل کرتے رہے اور پھر مزید اعلی تعلیم کے لیے نجف اشرف آ گئے۔
شیخ مرزا علی غروی سے شفوی طور پر اجتھاد کا اجازۃ حاصل کرنے کے بعد وہ ۱۴۰۲ھ میں واپس احساء چلے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے دینی فرائض کا آغاز کیا، جن میں باجماعت نماز کا قیام، شرعی احکام کی تعلیم، حجاج بیت اللہ کی رہنمائی اور دینی علوم کی تدریس شامل ہے۔ پچھلے دس سالوں سے وہ حوزہ علمیہ میں درس خارج پڑھا رہے تھے۔

