جنت البقیع کے مقدس قبرستان، وہاں مدفون آئمہ اہل بیت(ع) کے روضات مقدسہ اور دوسرے مقدس مقامات کے وہابیوں کے ہاتھوں انہدام کی مذمت اور اظہارِ غم کے لیے روضہ مبارک امام حسین(ع) اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے خدام نے آج مشترکہ جلوس عزاء برآمد کیا کہ جس میں دونوں مقدس روضوں کے خدام کے ساتھ روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کی مجلس ادارہ کے ارکان سید محمد اشیقر اور کاظم عبادہ نے شرکت کی۔
یہ جلوس عزاء روضہ مبارک حضرت عباس(ع) سے برآمد ہوا اور مابین الحرمین سے ہوتا ہوا روضہ مبارک امام حسین(ع) میں پہنچا کہ جہاں مجلس عزاء اور نوحہ خوانی کے انعقاد کے بعد یہ جلوس اختتام پذیر ہو گیا۔
کتاب جنت البقیع کی تاریخ اور وہاں مدفون معصومین (ع) میں درج ہے کہ وہابیوں نے جنت البقیع کو دو مرتبہ شہید کیا:
پہلی مرتبہ : سن 1220ہجری
جب ال سعود نے 1220ہجری میں طاغوتی طاقتوں کی مدد سے پہلی مرتبہ مکہ و مدینہ پر حملہ کر کے قبضہ کیا اور ان مقدس شہروں میں خون کی ندیاں بہائیں تو قبضہ کرنے کے فورا بعد جنت البقیع کے مقدس قبرستان اور وہاں موجود روضوں اور مزاروں کو تباہ کر کے کھنڈرات اور مٹی و پتھروں کے ڈھیروں میں تبدیل کر دیا۔
لیکن اس کے بعد مسلمانوں نے ال سعود پر ایک لشکر جرار سے حملہ کر کے ان سے مکہ و مدینہ کے علاقے واپس لے لیے اور پھر دوبارہ سے مسلمانوں کے عطیات کے ذریعے تباہ شدہ مساجد، روضوں اور مزارات کو احسن طریقے سے تعمیر کیا گیا۔ پھر دوبارہ سے تعمیر ہونے والے یہ روضے، مساجد اور مقدس مقامات وہابیوں کے دوسری مرتبہ ان علاقوں پر قابض ہونے تک باقی رہے۔
دوسری مرتبہ: سن 1344ہجری
وہابیوں نے طاغوتی طاقتوں کی مکمل مدد کے ساتھ سن 1344ہجری کو دوبارہ مدینہ منورہ پر حملہ کیا اور وہاں قبضہ کرنے کے بعد اپنے درباری ملاؤں کے فتوے کو بہانہ بنا کر پورے 8شوال کو جنت البقیع، وہاں موجود آئمہ اطہار کے روضوں اور اہل بیت رسول کے مراقد کو شہید کر کے ایک چٹیل میدان میں تبدیل کر دیا۔












