روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی کانفرنس ’’عراق میں درد کی یادداشت‘‘ کا باقاعدہ آغاز

روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کی جانب سے منعقدہ سالانہ بین الاقوامی کانفرنس "ذاکرۃ الألم فی العراق" (’’عراق میں درد کی یادداشت‘‘) کے پہلے روز کی سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔

روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے شعبہ فکری و ثقافتی امور سے وابستہ عراقی مرکز برائے توثیق جرائمِ انتہا پسندی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی اس کانفرنس کو یونیسکو چیئر برائے مطالعہ انسداد نسل کشی، شہداء اور سیاسی قیدیوں کی فاؤنڈیشنز، اعلیٰ قومی کمیشن برائے احتساب و عدالتی انصاف اور بغداد یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

کانفرنس کا مرکزی شعار ہے: ’’ایک ایسے مستقبل کے لیے جو درد سے پاک ہو‘‘۔
جبکہ اس کا عنوان ہے: "عراق میں درد کی یادداشت: ایک صدی پر محیط جرائم، نسل کشی، قتلِ عام اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی داستان"۔

کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے سیکرٹری جنرل سید مصطفی مرتضی آل ضیاء الدین، مجلسِ ادارہ کے اراکین اور عراق اور بیرونِ ملک سے آئی ہوئیں مذہبی، سرکاری، اور حوزوی و اکیڈمک علمی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز قاری سید حیدر جلوخان نے تلاوتِ قرآن مجید سے کیا جس کے بعد عراقی قومی ترانہ اور روضہ مبارک کا مخصوص ترانہ "لحن الإباء" پڑھا گیا اور شہدائے عراق کے لیے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی گئی۔

اس کے بعد مختلف شخصیات نے خطابات کیے جن میں روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کی جانب سے ڈاکٹر افضل شامی نے خطاب کیا، جبکہ شہداء و سیاسی قیدیوں کے فاؤنڈیشنز، احتساب و عدالتی انصاف کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے بھی کانفرنس میں اظہارِ خیال کیا۔

ڈاکٹر شامی نے اپنے خطاب میں اُن تمام اداروں، افراد، اور ماہرین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس اہم کانفرنس کے انعقاد، اس کے مواد اور پیغام کو مؤثر بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر شامی کی مکمل تقریر پڑھنے کے لیے، یہاں کلک کریں۔

تقریب میں عراق میں ایک صدی پر محیط نسل کشی، جنگوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مشتمل ایک مختصر دستاویزی فلم "ذاکرۃ الألم" بھی پیش کی گئی۔ ما بین الحرمین میں ایک خصوصی تصویری نمائش، یکجہتی کی علامت کے طور پر ایک اجتماع اور اسپائکر اجتماعی قتل عام کے بارے میں ایک ورکشاپ اور یزدا آرگنائزیشن کی جانب سے خصوصی سیشن بھی منعقد کیا گیا۔

پہلے روز کی سرگرمیوں میں دو علمی و تحقیقی نشستیں بھی شامل ہیں:

جن میں سے پہلی نشست انگریزی زبان میں تین دستاویزی وتحققی مقالات پر مشتمل ہے جبکہ دوسری نشست میں عربی زبان میں لکھے گئے تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔

واضح رہے کہ یہ بین الاقوامی کانفرنس ناصرف عراق کی اجتماعی یادداشت کو محفوظ بنانے کی ایک اہم کوشش ہے بلکہ یہ Collective Memory, Transitional Justice, اور Peacebuilding جیسے عالمی تصورات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر، قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور تاریخی شعور کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی ہے۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: