روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے متولی شرعی علامہ سید احمد صافی نے یونیورسٹی کے طلباء کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دینے اور یونیورسٹی کے اس بنیادی ہدف کے حصول کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے، کہ جو "انسان سازی" سے عبارت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے جامعہ کربلا سے منسلک میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر خالد خلیل اعرجی اور اُن کے ہمراہ آنے والے اساتذہ کے وفد سے ملاقات میں کیا۔ اس موقع پر مہمان وفد نے علامہ صافی کو کالج کی علمی و تعلیمی کاوشوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
علامہ صافی نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی عمل میں دو ایسے اہم عناصر ہیں جن میں کسی قسم کی کوتاہی اور سہل پسندی سے گریز کرنا واجب ہے اور وہ عناصر: علمی معیار کی پختگی اور طلباء کا نظم و ضبط ہیں، کیونکہ طالب علم کی علمی، نفسیاتی اور اخلاقی تعمیر، اسے معاشرے کی خدمت اور قیادت کا اہل بنانے اور اسے عملی میدان میں کامیاب بنانے میں یہی عناصر بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، یونیورسٹی کا انسان سازی اور اسے درست علمی اصولوں کے مطابق علوم سے آراستہ کرنے کا ہدف بھی حاصل ہوتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا: استاد کو طلباء کے لیے علم اور کردار میں ایک عملی نمونہ ہونا چاہیے، استاد کو اپنے مضمون پر مکمل دسترس ہونی چاہیے تاکہ طالب علم اس پر اعتماد کر سکے اور اسے دیگر امور میں بھی اپنا رول ماڈل تصور کرے کہ جن میں اس کا اچھا کردار اور اخلاق سرفہرست ہے خاص طور پر شعبۂ طب سے وابستہ اساتذہ، جو بیک وقت اسپتالوں اور کلینکس میں کام کے دوران معاشرے سے اور جامعہ میں طلباء سے روبرو ہوتے ہیں، ان کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ خود سازی، خود احتسابی اور اعلیٰ اخلاق کے معیار پر خود کو قائم رکھیں۔
دوسری جانب، ڈاکٹر خالد اعرجی نے کہا کہ: یہ ملاقات دراصل علامہ سید صافی کی خیریت دریافت کرنے اور کالج کی جانب سے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا پیغام پہنچانے کے لیے تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ: روضہ مبارک امام حسین(ع) اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) مختلف شعبوں میں کربلا کی روشن شناخت ہیں۔ علامہ سید صافی نے طلباء اور اساتذہ کے حوالے سے نہایت قیمتی رہنمائی فراہم کی اور طلباء کو علمی پابندی اور اساتذہ کو ان پر ہر حوالے سے بھرپور توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔


