الأذن الواعية مقابلے کی اختتامی تقریب : دو سالہ قرآن فہمی کے سفر میں ایک ہزار طلباء کی کامیابی کا جشن

روضہ مبارک حضرت عباس (ع) کے شعبہ تربیت و اعلی تعلیم کی جانب سے تیسرے سالانہ الأذن الواعية مقابلے کی اختتامی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں العمید ایجوکیشنل گروپ کے 16 اسکولوں کے 1000 سے زائد طلباء نے شرکت کی۔

اس تقریب میں روضۂ مبارک حضرت عباس(ع) کے شعبۂ تربیت و تعلیم کے سربراہ ڈاکٹرعباس الدہ الموسوی اور دیگر شعبوں کے سربراہان ور عہدیداران کے علاوہ مقابلے میں حصہ لینے والوں طلباء کے والدین اور ان کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔

تقریب کا آغاز طالب علم حسین اسامہ عبدالحمزہ نے تلاوت قرآن پاک سے کیا جس کے بعد عراق کا قومی ترانہ اور روضہ مبارک حضرت عباس (ع) کا ترانہ پڑھا گیا۔

اس کے بعد العمید ایجوکیشنل گروپ کے ڈائریکٹر ڈاکٹرعادل الکرکوشی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الأذن الواعية مقابلے کے مقصد اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی، کہ جس میں قرآن مجید کی تلاوت اور حفظ کے ذریعے نوجوانوں کو اسلامی اقدار سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک تعارفی ویڈیو پیش کی گئی جس میں اس مقابلے کے مختلف مراحل اور کامیاب طلباء کی کارکردگی کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے بعد طلباء کے ایک گروپ نے آیاتِ ربانی کی دلنشین اور وجد آفریں تلاوت کی، جب کہ آخر میں گروپ کے اسکولوں، فاتحین اور تمام شرکاء کو اعزازات سے نوازا گیا۔

شعبہ تعلیم کے انتظامی معاون یوسف الطائی نے کہا:"آج ہم ایک ہزار طلباء کی محنت کا جشن منا رہے ہیں، جو کئی سالوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہیں۔ الأذن الواعية ایک ایسا منفرد پروگرام ہے جو طلباء میں قرآن مجید کی تلاوت، حفظ اور تفسیر سے محبت کو فروغ دیتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "یہ طلباء اُس تعلیمی تجربے کا ثمر ہیں جس کی بنیاد قرآنِ کریم سے وابستگی پر رکھی گئی ہے۔ وہ ایک ایسے قرآنی ماحول میں پروان چڑھے جو حضرت اباالفضل العباس (ع) کی مقدس سرزمین سے وابستہ ہے — ایسی سرزمین جو اسلامی اقدار، روحانی بصیرت اور قرآنی علوم کو جنم دیتی ہے، جن کی آج کے معاشرے کو اشد ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ قرآنی تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہیں، بلکہ العمید تعلیمی گروپ کی جانب سے معاشرے کے لیے ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام اس یقین کو تقویت دیتا ہے کہ نسلوں کی صحیح تعمیر اُس وقت ہی ممکن ہے جب تعلیمی بنیادیں علم کی گہرائی اور ایمان کی سچائی پر استوار ہوں۔

انہوں نے کہا، "مقابلے میں 16 تعلیمی ادارے شریک تھے اور یہ دو سال تک جاری رہا۔ اس میں شرکت کرنے والے طلباء کی تعداد 16 ہزار سے زائد تھی، جن میں سے ایک ہزار سے زیادہ طلباء نے کامیابی حاصل کی۔ یہ نتائج ان بھرپور کوششوں اور گہری تعلیمی حکمتِ عملی کی غمازی کرتے ہیں، جن کی بدولت یہ بابرکت کامیابیاں حاصل ہوئیں۔"
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: