روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے ادارہ الوافی فاؤنڈیشن برائے دستاویزات و مطالعات نے "زبانی یادداشتوں کے تحفظ" کے منصوبے پر کام کا اعلان کیا ہے، تاکہ عراق کی تاریخ کو تحریف اور فراموشی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
فاؤنڈیشن کے صدر جناب احمد صادق نے کہا:"الوافی فاؤنڈیشن اپنی اشاعتوں اور علمی منصوبوں کے سلسلے کے تحت 'زبانی یادداشتوں کے تحفظ' کے منصوبے کی تکمیل پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ان اہم شخصیات کے انٹرویوز کرنا ہے جنہوں نے عراق کے مختلف تاریخی ادوار خصوصاً داعش کے دہشت گرد گروہوں کے دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جھیلا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا،"اس منصوبے کے تحت سابقہ حکومت کے دورمیں ظلم و بربریت کا نشانہ بننے والے افراد کے علاوہ اُن افراد سے سینکڑوں ملاقاتیں اور انٹرویوز بھی کیے جا رہے ہیں جنھوں نے اعلیٰ دینی قیادت کے فتوی دفاع وطن پر لیبک کہتے ہوئے سرزمین وطن کا دفاع کیا، تاکہ سابقہ حکومت کے دور اور داعش کے خلاف جہاد میں ان کے کردار کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔ اس کے علاوہ سیاسی قیدیوں کی جدوجہد، حسینی جلوسوں کا کردار اور ان فوجی و سیکیورٹی رہنماؤں کے تجربات کو بھی محفوظ کیا جا رہا ہے جنہوں نے ملک کی آزادی کی جنگوں میں حصہ لیا۔"
انہوں نے کہا،"منصوبے میں مختلف دینی مکاتب فکر کے علمائے کرام کی بھی گواہیاں شامل ہیں، جن میں نجف سے جاری ہونے والے 'مقدس دفاع' کے فتوے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے، جس کے ذریعے داعش کا مقابلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف ادوار کا علمی اور تحقیقی جائزہ پیش کرنے کے لیے متعدد یونیورسٹیوں کے پروفیسرز سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔"
فاؤنڈیشن کے سربراہ نے نشاندہی کی کہ "یہ تمام زبانی گواہیاں (انٹرویوز)دستاویزی فلموں کی صورت میں پیش کی جائیں گی، تاکہ یہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد تاریخی حوالہ بن سکیں اور عراق کی قومی یادداشت کو مسخ ہونے یا مٹنے سے بچایا جا سکے۔"














