آیت اللہ سیستانی کا غزہ میں انسانی المیے پر بیان

اعلیٰ دینی قیادت حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی (دام ظلّه) کے نجف اشرف میں قائم مرکزی دفتر نے غزہ میں جاری انسانی المیے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔

جس میں کہا گیا ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
دو برس سے جاری مسلسل قتل و غارت اور تباہی و بربادی، لاکھوں انسانوں کے شہید اور زخمی کیے جانے، اور پورے کے پورے شہر اور رہائشی علاقے منہدم کر دیئے جانے کے بعد، اس وقت غزہ میں موجود مظلوم فلسطینی عوام انتہائی سنگین اور تکلیف دہ حالات سے دوچار ہیں۔ ان کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا بھی ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے، بالخصوص خوراک کی شدید قلت نے ایک وسیع سطح کی قحط سالی کو جنم دیا ہے، جس سے نہ بچے محفوظ ہیں، نہ مریض اور نہ ہی بزرگ۔

اگرچہ قابض قوتوں سے اس درندگی کے سوا کچھ اور توقع رکھنا عبث ہے —کیونکہ ان کا مقصد ہی فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کرنا ہے— لیکن دنیا بھر کے دیگر ممالک، بالخصوص عرب اور اسلامی ممالک سے یہ امید بجا طور پر رکھی جاتی ہے کہ وہ اس تکلیف دہ انسانی المیے و سانحے کے تسلسل کو کسی طور برداشت نہ کریں، بلکہ پوری سنجیدگی، قوت اور وسائل کے ساتھ آگے بڑھ کر اس المیے کا سدباب کریں۔ انھیں چاہیے کہ وہ قابض گروہ اور اس کے حامیوں پر ہر ممکن دباؤ ڈالیں تاکہ فوری طور پر خوراک اور دیگر ضروری اشیاء زندگی ان نہتے اور معصوم شہریوں تک پہنچائی جا سکیں۔

غزہ میں بھوک سے بلکتے بچوں اور بھوک کے مارے دم توڑتے بزرگوں کے جو دل دہلا دینے والے مناظر عالمی ذرائع ابلاغ کے توسط سے سامنے آ رہے ہیں، وہ کسی بھی صاحبِ ضمیر انسان کے لیے چین سے کھانا پینا یا سکون سے جینا ممکن نہیں رہنے دیتے۔

جیسا کہ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اسلامی سرزمین میں ایک عورت پر ظلم کے تناظر میں فرمایا تھا: "اگر کوئی مسلمان اس ظلم پر افسوس کرتے ہوئے مر جائے تو اس پر ملامت نہیں، بلکہ وہ میرے نزدیک اس کا مستحق ہے"۔

ولا حول ولا قوّة إلّا بالله العليّ العظيم.
(29/محرم/1447ھ) بمطابق (25/جولائی/2025ء)

دفتر سید سیستانی (دام ظلہ) - نجف الاشرف
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: